سکون کی تلاش

(A Rehman Khan, Sargodha)
دل کو سکون چمن میں نا لالہ زار میں۔۔۔۔۔۔

لو اب میں ایک اور سفر پہ رواں دواں تھا۔۔۔۔سفر ہوتے ہی اس لیے ہیں کہ کچھ پا لیا جائے۔۔۔تھا تو میرے پاس بہت کچھ، لیکن ایک چیز کو ڈھونڈنے کے لیے میں نے رخت سفر باندھا اور اپنے گاؤں سے چل دیا۔۔۔۔۔میری منزل 1200 کلو میٹر دور ایک جگہ تھی جہاں بھانت بھانت کے لوگ رہتے تھے۔۔۔۔شاید کسی کے پاس ہی وہ چیز مل جائے۔۔۔۔۔میں تو وہ پانے کے لیے اپنا اثاثہ حیات بھی لٹا دینے سے نہ دریغ کرتا۔۔۔۔
میں ایک نایاب چیز کی تلاش میں تھا۔۔۔۔جسے "سکون" بھی کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔
ہاں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ سب کو سبھی کچھ نہیں ملتا ہے، کچھ لوگوں کے پاس سب کچھ ہے مگر سکون نہیں ہے۔۔۔۔اور کچھ لوگوں کے پاس سکون ہے مگر باقی کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔
دنیا تو گورکھ دھندہ ہے، اور قسمت کی دیوی شطرنج کی چالیں چلنے میں ماہر ہے۔۔۔۔۔کب کہاں، کس کو، کیا سے کیا بنانا ہے وہ اپنا کام بخوبی نبھا رہی ہے۔۔۔وہ سب کچھ نہیں دیتی بلکہ دل میں ایک کے بعد ایک چیز کی لگن پیدا کر دیتی ہے۔۔۔۔
ہر انسان میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے وہ ہے "کسی نئی چیز کی طلب"۔۔۔۔۔۔کسی چیز کی طلب کی جدو جہد ہم شروع کرتے ہیں۔۔۔۔اسے پانے کی لیے جتن کرتے ہیں دن رات ایک کرتے ہیں۔۔۔۔اسے پا بھی لیتے ہیں۔۔۔۔پر ناجانے پا لینے کے بعد اسکی طلب میں کمی کیوں آ جاتی ہے، اسکی وہ اہمیت ہمارے لیے نہیں رہتی ہے ۔
حسرتیں تو ہر ایک کی زندگی میں ہوتیں ہیں۔۔۔۔میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے اچھا لباس پہنا ہوا تھا، ہاتھ میں قیمتی گھڑی اور آنکھوں پہ عمدہ سیاہ چشمہ لگایا ہوا تھا۔۔۔۔مسئلہ کیا تھا، کہ وہ بولنے کی صلاحیت سے محروم تھا۔۔۔اس کے والدین اسے کئی ممالک میں لے کر گئے تاکہ وہ بول سکے لیکن کہیں سے بھی کوئی امید افزا خبر نہیں مل رہی تھی۔۔۔۔۔۔اسی کا ہم عمر ایک نوجوان ہاتھ میں وائیپر پکڑے اسکی گاڑی کی صفائی سے فارغ ہونے کے بعد اپنے دوستوں کو "اونچی آواز" میں گونگے لڑکے کی "عمدہ گھڑی" کے بارے میں بتا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
ہاں تو بات یہ تھی کہ سکون کہاں ڈھونڈنے نکلوں۔۔۔۔۔میں نے اسٹیشن میں ٹرینوں کے شور میں بھی لوگوں کو مزے کی نیند سوتے دیکھا۔۔۔۔سکون اس ریڑھی والے کے پاس بھی تھا جو خوشی سے بتا رہا تھا آج اسکا پھل بہت زیادہ بکا ہے۔۔۔۔سکون تو قلی کے پاس بھی تھا جس نے اپنے وزن سے زیادہ سامان کاندھے پہ اٹھا کے مسکراتا ہوا چل رہا تھا۔۔۔۔۔۔
ایک بس ڈرائیور جو کہتا تھا میری پہلی اور آخری محبت 'بس' ہی ہے۔۔۔خوش باش رہتا، ہنستا اور دوسروں کے غم کا بھی مداوا کرتا تھا۔۔۔میں نے ان سے پوچھا کہ آپکے پاس تو سب کچھ ہے۔۔۔۔۔تو میرے قریب ہو کر کہتا "سائیں، مجھے تو پڑھنے کا شوق تھا بس قسمت یہاں لے آئی ہے"
بس یہ بات پتہ چلی کہ کوئی بھی پوری طرح خوش نہیں ہے۔۔۔۔ہر ایک کی کوئی ایسی حسرت ہے جو پوری نہیں ہوتی۔۔۔۔اور ہر شخص یہ بھول جاتا ہے کہ اسے زندگی میں اور کیا کیا ملا ہے۔۔۔۔۔بس اس چیز کا ملال رہتا ہے جو اسے نا ملا ہو۔۔۔۔۔
ہم کبھی بھی اس پر خوش نہیں ہوتے جو مل رہا ہے یا مل چکا ہے۔۔۔۔جو کبھی ملنا ہی نہیں اس کے لیے ساری زندگی روتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔۔۔۔۔اپنی اس نا شکری اور نادانی کی وجہ سے اپنے کل کے لیے اپنا آج برباد کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔
صرف ایک قناعت اختیار کر لی جائے، جو ملا اس پہ راضی ہوا جائے اور جو نا ملے اس پہ پریشان ہوئے بغیر ، "نہ ملنے" کی حکمت کو سمجھا جائے تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔
میرا "سکون" بہت دور نہیں تھا۔۔۔۔یہ میرے من کے مندر میں ہی آلتی پالتی مار کے بیٹھا، منہ پہ مسکراہٹ سجائے۔۔۔ چپ کا جاپ کر رہا تھا۔۔۔۔۔
اب بس مجھے اس کو منانا تھا۔۔۔اور اسکی تپسیا ختم ہونے کا انتظار کرنا ہے۔۔۔۔جو کر رہا ہوں۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: A Rehman Khan

Read More Articles by A Rehman Khan: 5 Articles with 4392 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Sep, 2018 Views: 370

Comments

آپ کی رائے