پردہ ضرورت یا فیشن

(Anabiya Choudhry, )

تحریر: بنت عطاء، کراچی
اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’اپنے گھروں میں سکون سے بیٹھی رہو اور زمانہ جاہلیت کی طرح زیب و زینت ظاہر نہ کرو‘‘۔ مذکورہ آیت پردے کی اہمیت و لزوم کو بیان کرتی ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم سب یہ جانتے ہیں کہ اس پرفتن دور میں پردہ کس قدر ضروری ہے۔ مگر افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ پردے کو بھی فیشن بنا دیا گیا ہے۔ رنگین مزین برقعے جو ان کو بھی اپنی جانب متوجہ کرلیں جو دیکھنا نہیں چاہتے۔ ہم نے عبایا پہننے کا تو رواج بنا لیا مگر اس کے مقصد کو بھول گئے۔ پردے کا مقصد یہ تھا کہ ہم نامحرم کی نظروں سے محفوظ رہ سکیں۔ جہاں سے کوء باپردہ خاتوں گزرے مردوں کی نظریں خود جھک جائیں۔ مگر ہم نے کیا کیا اتنے آرائشی مزین برقعے بنالئے کہ ہر شخص ہماری طرف متوجہ ہو۔ ہم نے خود اپنے پردے کے مقصد اپنے دین کے حکم کو پامال کردیا۔

میری گزارش ہے اپنی مسلمان بہنوں سے، اپنے معاشرے سے کہ خدارا پردے کو پردہ ہی رہنے دیں، اسے اپنی خواہشات اور فیشن کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ اپنے اسلامی وقار کو قائم رکھیں، سادگی کو اپنائیں، سادگی ایمان کا حصہ ہے، فیشن سے عزت نہیں ملتی، اﷲ عزت دیتا ہے، اپنی نیتوں کو ٹھیک کرلیں، ڈھیلے ڈھالے اور سادہ حجاب اور برقعے استعمال کریں، اﷲ کی رضا و خوشنودی کو پیش نظر رکھیں، اﷲ کا حکم پورا کرنے کے لئے پردہ کریں، دین کے احکامات کا تمسخر نہ اڑائیں۔

یہ چا ر دن کی زندگی اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے نہیں ملی تھی، یہ زندگی ایک امتحان ہے آزمائش ہے، کہ کون آخرت کی بہترین تیاری کرنیوالا ہے؟ کون اپنے رب کی رضا اور خوشی کو اہمیت دیتا ہے اور کون اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے اندھا دھند بھاگتا ہے۔ زندگی اسی کھیل تماشے میں ضائع کرنے کے لئے نہیں ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ ہم اگر بہت خوبصورت نظر آ بھی گئے تو کیا، فیشن کی دوڑ میں سب سے آگے نکل بھی گئے تو کیا، ہم لوگوں کی نظروں میں بہت جچ بھی گئے تو کیااگر یہ سب کچھ ہمیں مل بھی گیا تو کیا۔ موت کے ساتھ ہی ہر چیز کا خاتمہ ہو جانا ہے دنیا کی ناموری، شہرت عزت سب کچھ یہیں رہ جانی ہے اور آخرکار انسان اکیلا ہی اپنے اعمال کا بوجھ لے کر اپنی قبر میں جاسوئے گا جہاں سوائے اپنی نیکیوں کے کچھ کام آنے والا نہیں ہے۔

اﷲ تعالیٰ نے بہت عظیم الشان جنت بنائی ہے اپنے فرمانبردار بندوں کے لئے وہاں وہ وہ نعمتیں ہیں جو نہ کسی آنکھ نے کبھی دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں، نہ کسی دل پر ان کا خیال بھی گزرا، آج دنیا میں رب چاہی زندگی گزار لیں کل آخرت میں ان شاء اﷲ ہم اپنی من چاہی زندگی گزاریں گے۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو پردے کے حقیقی تقاضوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Anabiya Choudhry

Read More Articles by Anabiya Choudhry: 27 Articles with 11481 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Sep, 2018 Views: 388

Comments

آپ کی رائے