آزاد میڈیا نوجوان نسل کے لیے خطرے کی علامت

(Sameera Siddiqui, Karachi)
جہاں میڈیا کے بےشمار فوائد پائے جاتےہیں وہاں میڈیا کے بے شمار نقصان بھی ہیں ۔

آزادی ایک نعمت خراوندی ہے جو 14 اگست کو ہم مسلمانوں کے حصہ میں آٸ مسلسل جدوجہد اور بےشمار قربانیوں کے بعد ہمارے آباواجداد نے یہ وطن حاصل کیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے آباواجداد نے یہ وطن کیوں حاصل کیا ۔

ہندوستان میں غیر مسلموں نے مسلمانوں کی حیثیت ایک ملازم کی کردی تھی انہیں مزہبی آذادی نہ تھی جب آذان ہوتی تو ہندو مندر میں گھنٹیاں بجانے لگتے مسلمان نماز نہ پڑھ پاتے رشوت لینا،سور کی چربی کا استعمال یہ کسی نہ کسی طریقے سے انہیں کروایا جاتا ہر کام میں مسلمان پیچھے ہورہے تھے روزگار نہ تھا مسلمان صرف گھروں کے کاموں کے لیے رہ گۓ تھے ۔اس لۓ نوجوان نسل میں شعور بیدار کیا گیا تاکہ آنےوالی مسلمان قوم کو مذہبی اور ریاستی آذادی حاصل ہو ۔ جب نوجوان نسل بیدار ہوٸ تو مسلمانوں نے ایک الگ ملک کا مطالبہ کیا اور صرف مطالبہ نہ کیا الگ ریاست بناٸ بےشمار قربانیوں اور جدوجہد کے بعدایک ریاست قاٸم ہوٸ جس کو پاکستان کا نام دیا گیا۔ پاکستان کا بننا آسان نہ تھا مگر پاکستان کا وجود مسلمانوں کے لیے ضروری تھا تاکہ مسلمان آذاد ہو سکیں اللہ نے مسلمانوں کو پاکستان کی شکل میں ایک نعمت عطا کی اور مسلمانوں کو مذہبی اور ریاستی آذادی حاصل ہوٸ۔

اب ہم پاکستان کو دیکھیں تو اب پاکستان میں جو نسل پروان چڑھ رہی ہے وہ بےراہروی کا شکار ہے۔ انہیں یہ نہیں معلوم کہ ہماری منزل کہاں ہے انہیں نہیں معلوم انہیں کیا کرنا ہے ان کا اصل مقام کیا ہے۔ آذاد ملک میں رہتے ہوۓ بھی وہ آذاد نہیں ہیں وہ لاشعور ہیں ان کے اندر شعور کی کمی ہے انہیں یہ نہیں معلوم کہ ہمارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ذندگی گزارنے کے سنہرے اصول بتاۓ ہیں ان اصولوں پر چل کر ہماری دنیاوآخرت بہتر ہو سکتی ہے۔ ہم آہستہ آہستہ سنت سے دور ہو رہے ہیں جن باتوں کو پہلے معیوب سمجھا جاتا تھا اب ان کو اب لاشعوری طور پر غیر معیوب سمجھا جاتا ہے ۔

دین اسلام میں اللہ نے سب چیزوں کی حدود مقرر کی ہیں اگر ہم اس داٸرے سے باہر نکلتے ہیں تو ہم غلط راہ اختیار کرلیتے ہیں اور ہر کام کی سزاوجزا کے بارے مسلمانوں کو آگاہ کردیا گیا ہے تاکہ ہر فرد اس مقرر کردہ حدود سے باہر نہ نکلے ورنہ معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔ جسے آج کل میڈیا میں الٹے ہاتھ سے کھانا اور ٹخنوں سے اوپر شلوار رکھنا بےحیاٸ عام ہو رہی ہے۔ پہلے لوگ اپنے بڑوں سے سیکھتے تھے مگر اب سب کچھ ٹی وی ڈراموں سے سیکھتے ہیں ہمیں بتادیا گیا سیدھے ہاتھ سے کام کرنے پر ہمیں ثواب ملتا ہے مگر ڈراموں میں الٹے ہاتھ سے کھانا پینا دیکھانا نٸ نسل کو اصل میں گمراہ کرنا ہے ہماری نٸ نسل الٹے ہاتھ سے کھانے پینے کو اپنے لیۓ اچھا سمجھ کر اس چیز کو اپنا رہی ہے اور ٹخنوں سے پاٸنچے اوپر آج کل فیشن ہو گیا ہے انہیں یہ نہیں معلوم کہ وہ لاعلمی کی وجہ سے کتنے سخت عزاب میں مبتلا ہو رہے ہیں .

ہمارامعاشرہ خرابی کی طرف اس لیے بڑھ رہا ہے کیوںکہ ہم نے اپنی تہذیب چھوڑ کر دوسروں کی تہذیب اپنا لی ہیں ۔ ہم نوجوانوں کو کچھ موباٸیلوں نے تباہ کردیا اور کچھ ڈراموں نے اگر ہم چند سال پہلے کا معاشرہ دیکھیں اس میں ہمیں اپنی تذیب نظر أۓ گی جس میں لوگوں کو اپنے بڑوں سے عزت استاد کا احترام اٹھنے بیٹھنے کی تمیز اور بات کرنے کا سلیقہ دیکھائی دے گا-

پہلے لوگ اپنے بڑوں کی باتیں سنتے بڑوں کی باتیں سننے سے ان کے اندر تبدیلیاں آتیں ان کو اچھے برے کی تمیز ہوتی اوران کی تربیت بھی ہو جاتی تھی۔

ہم أج کے معاشرے پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھیں گے ہمارے اردگرد ایسے لوگ موجود ہیں جو ذیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں ان کا رجھان صرف موباٸیل پر یا ڈراموں پر ہوتا ہے أج کے دور کے نوجوں بزرگوں سے پاس وقت نہیں گزارتے اس لیۓ انہیں اپنی تہزیب کا کچھ علم نہیں انہیں اس بات کا علم ہے کہ ہندو کون سا تہوار کب کیسے اور کیوں مناتے ہیں اور وہ کس طرح اور کون کون سے کھانے کھاتے ہیں انہیں اس بات کا علم ہو گا کہ انگریز کس طرح بیٹھ کر کس طرح کس ہاتھ سے کھاناکھاتے ہیں کس طرح کا لباس زیب تن کرتےہیں بس انہیں اپنا نہیں پتا کہ ہمارا مذہب کس طرح کی تعلیم دیتا ہے۔ حدیث نبوی ہے کہ
”رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دوزخ والوں کی قسم جسے میں نے نہیں دیکھا وہ عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود برہنا ہیں“
(صحیح مسلم،5582)

ہماری سنت کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا اور ٕ کھانے کے بعد ہاتھ دھو کر صاف کرنا کھانے سے پہلے دعا پڑھنا سیدھے ہاتھ سے کھانا کھانا کھانے کے درمیان بات نہ کرنا ہے ہمارا لباس ایسا ہو جس سے ہماراسترچھپ جاۓ آج کل مرد عورت کالباس اور عورتیں مردوں کالباس زیب تن کر رہی ہیں۔

میری سب لوگوں سے گزارش ہے کہ میڈیا پر جو ہمیں چیزیں غلط دیکھاٸ جا رہی ہیں اس کو روکیں اور بچوں کو صحیح غلط کا فرق بتاٸں سیدھے راستے کو اپناٸیں اور نوجوان نسل کو دین اسلام کے بارے میں صحیح تعلیم دیں اور اگر کسی کو غلط راستے پر چلتا دیکھیں تو اسے سیدھا راستہ دیکھانا آپ کا فرض ہے اگر آپ کی وجہ سے کوئی بھی فرد صحیح راہ پر چل پڑے تو کیا پتا آپ کی دنیا وآخرت سنور جاۓ اور اگر ہم چھوٹی چھوٹی چیزوں کو صحیح کریں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپناٸیں تو ہمارا معاشرہ صحیح ہو سکتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sameera Siddiqui

Read More Articles by Sameera Siddiqui: 8 Articles with 5158 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Sep, 2018 Views: 1014

Comments

آپ کی رائے