طالب الہاشمی

(Aslam Lodhi, Lahore)
دنیائے علم وادب کا درخشندہ ستارہ‘ تاریخ اسلام کا امین‘ سیرت رسولؐ پر گراں قدر کتابوں کا مصنف

طالب الہاشمی جن کا اصلی نام(محمد یونس قریشی ) ہے 12 جون 1923ء کو ضلع سیالکوٹ کے ایک چھوٹے سے گاؤں دھیدو والی نزد ڈسکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا مرحوم کا شمار اس دور میں علاقے کے پڑھے لکھے اور معزز شخصیات میں ہوتا تھا جو مولوی نظام دین کے نام سے معروف تھے۔ مولوی صاحب کے بیٹے محمد حسین قریشی تھے جن کے ہاں اس ہونہار سپوت نے جنم لیا۔ انہوں نے اپنے نومولود کا نام محمد یونس قریشی رکھا۔ مولوی نظام دین حکمت کے ساتھ اعزاز ی طور پر خطابت واقامت بھی کرتے تھے۔ وہ پنجابی کے بہت اچھے شاعر تھے۔ محمد حسین قریشی نے ڈاک خانے میں نوکری کر لی۔ ملازمت ہی کے سلسلے میں وہ حسن ابدال میں مقیم تھے جہاں ان کے بچے مقامی سکولوں میں زیرتعلیم رہے۔ محمد یونس قریشی نے حسن ابدال کے گورنمنٹ ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ سکول کے زمانے ہی سے لکھنے پڑھنے کا ذوق پروان چڑھا۔ وہ دینی موضوعات پر مختلف رسالوں میں مضامین لکھنے لگے۔ لیکن ہاشمی صاحب نے عملی زندگی کا آغاز ایک ہندو کی دکان پر منشی گیری سے کیا۔

ہاشمی صاحب کے والد چونکہ ڈاک خانے میں ملازم تھے اس لئے ان کی ترغیب پر میٹرک کا نتیجہ آنے کے بعد ہاشمی صاحب بھی ڈاک خانے میں ملازم ہو گئے۔ اس زمانے میں میٹرک پاس ہونا کافی تصور کیاجاتا تھا۔ 1943ء میں اس محکمے میں ملازم ہوئے‘ لاہور میں پوسٹ ماسٹر جنرل کے دفتر میں تعیناتی ہوئی ۔ انگریز افسروں کے ساتھ کام کرنے کا بھی موقع ملا۔ یوں ان کی انگریزی بھی مزید پالش ہوتی چلی گئی۔ میٹرک کے بعد انہوں نے فارسی اور عربی کے امتحانات منشی فاضل اور ادیب فاضل بھی جامعہ پنجاب سے بطور پرائیویٹ طالب علم پاس کرلیے۔ ان کا عربی اور فارسی کا ذوق بہت اچھا تھا۔ اس سرکاری دفتر میں اپنی ملازمت کے دوران وہ روٹین کے مطابق ترقی حاصل کرتے رہے اور چالیس سال ملازمت کرنے کے بعد 1983ء میں ایک اعلی عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

طالب الہاشمی صاحب‘ محمد یونس قریشی سے اس علمی وقلمی نام تک کیسے پہنچے یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔اس حوالے سے وہ کہا کرتے تھے کہ میں طالب ہاشمی نہیں‘ طالب الہاشمی ہوں۔ میرا یہ نام محض عرف وپہچان نہیں بلکہ یہ بامعنی انتخاب ہے۔ ان کے نزدیک ان کا یہ نام مرکب توصیفی نہیں مرکب اضافی ہے۔ الہاشمی سے مراد النبی الہاشمی ہے اور طالب اپنے لفظی ولغوی معنی کے مطابق طلب کرنے والے ‘ ڈھونڈنے والے اور تلاش کرنے والے کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگر ان کی تحریروں کو دیکھیں تو ایک ایک لفظ نہ صرف نبی محترم ﷺ کی عقیدت ومحبت کا ترجمان ہے بلکہ آنحضور ﷺ کے جاں نثاروں کی عقیدت ومحبت بھی یکساں مرحوم کے قلم معجز بیان سے ہویدا ہے۔ ان کا یہ نام جسے میں عشقیہ نام سے تعبیر کرتا ہوں ان کے پیدائشی نام پر یوں غالب آیا کہ ان کے اکثر جاننے والے اور حلقہ احباب کے لوگ بھی ان کے اصلی نام سے بے خبر ہیں۔ان کی دوستی چند لوگوں کے ساتھ تھی ۔

ہاشمی صاحب ہر معاملے میں ایک خاص ذوق رکھتے تھے۔ ادب کے میدان میں بھی ان کا ذوق بہت نمایاں اور ممتاز نظر آتا ہے۔ اسی طرح زندگی کے دیگر معمولات میں بھی وہ خاصے باذوق ہوئے تھے۔ جب حقہ پیتے تھے تو خاص قسم کا تمباکو خریدتے۔ اگر اس کوالٹی کا تمباکو نہ ملتا تو دوسرا تمباکو بالکل قبول نہ کرتے۔ اسی طرح چلم بھرنے کے لئے ہر طرح کی آگ ان کو گوارا نہ تھی وہ صرف اپلوں کی آگ ہی چلم میں ڈالا کرتے تھے۔ جب 1987ء میں اعوان ٹاؤن میں منتقل ہوئے تو کافی تگ ودو کے بعد اپلے دستیاب ہو سکے۔ جب آس پاس آبادیاں بڑھنے لگیں تو پھر اپلوں کی فراہمی مشکل ہو گئی۔ چنانچہ 1992ء میں انہوں نے حقہ بالکل ترک کر دیا اور ثابت کیا کہ کسی بھی چیز کو ترک کر دینا ناممکن نہیں۔

کھانے پینے کے بارے میں بھی ذوق تھا۔ بکرے کا گوشت وہ ایک ہی قصائی سے خریدتے جو بھی قیمت ہوتی اس سے زائد اس کے ساتھ طے کر لیتے اور گوشت اپنی پسند کا کٹواتے۔ زندگی کے آخری سالوں میں گوشت بھی بعض عوارض کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا۔ پھل ہمیشہ تازہ اور اعلیٰ استعمال کرتے۔ بتایا کرتے تھے کہ اپنی ملازمت کے دوران اپنے دفتر کے سامنے سول عدالت کے باہر فٹ پاتھ پر ریڑھی لگانے والا ایک شخص جو ایک ٹانگ سے معذور تھا مگر پہلوان کہلاتا تھا ان کا خصوصی دوست بن گیا۔ ہر موسم کے مطابق دوپہر کے وقت اس سے بہترین پھل خریدتے پھر ایک بہت بڑے پیالے میں کاٹ کر وہ بڑے سلیقے سے انہیں پیش کرتا۔

ہاشمی صاحب‘ صاحب طرزادیب تھے۔ تاریخ پر ان کی بڑی گہری نظر تھی اور ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود مطالعے اور محنت کی اپنی عادت کو بڑی جزرسی سے برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ ہاشمی صاحب نے تاریخ کے کم و بیش ہر پہلو پر قابل قدر کتابیں لکھیں لیکن ان کا اصل موضوع سیرت رسولؐ اور سیرت صحابہؓ ہے۔ تصانیف کی تعداد سو سے زائد ہے۔ آنحضور ﷺ کی سیرت پر ان کی ایمان افروز تحریریں اب بھی منظرعام پر آ رہی ہیں۔ آخری کتاب جس کی طباعت سے پہلے وہ خالق حقیقی سے جا ملے آنحضور ﷺ کے خادمان خاص کے موضوع پر ہے۔ آپ کی کتابوں پر صدارتی اور ادبی ایوارڈ ملے لیکن مرحوم نے ان کو کبھی اپنی پہچان یا افتخار کا ذریعہ نہ بنایا۔ حقیقت یہی ہے کہ مرحوم کا علمی وادبی مقام ان اعزازوں اور ایوارڈوں کے بغیر ہی بہت بلند تھا۔

جناب طالب ہاشمی کے حوالے سے پروفیسر حفیظ الرحمن احسن لکھتے ہیں کہ وہ ایک مصنف بے بدل خوبصورت نثر نگار ٗ محقق ٗ بلند عیار اور علم و ادب کے نکتہ شناس تھے مگر انکسار کی انتہا یہ کہ جب تک احباب سے مشورہ اور تبادلہ خیال نہ کرلیتے قلم آگے نہ بڑھتا اور یہ اکثر ان احباب سے ہوتا جو علمی مقام و مرتبہ میں ان کے ہم عصربھی نہ ہوتے ان میں راقم الحروف ان خاص خوش نصیبوں میں سے تھا جس کو وہ اکثر یاد فرماتے ۔مجھے ہر دفعہ یہی احساس ہوتا کہ وہ میرے مشورہ کے محتاج نہ تھے لیکن وہ ایسے مشوروں سے اطمینا ن کشید فرماتے ۔ اس انکسار کادوسرا سرا اس احساس ذمہ داری کے ساتھ جڑا ہوا تھا کہ کوئی ایسی بات قلم سے نہ نکل جائے جو بعد میں محل نظر ٹھہرے ٗ کوئی ایسا اسلوب بیان معرض اظہار میں نہ آئے ۔جس کو مزید صیقل کرنے کی گنجائش رہ گئی ہو۔جناب طالب ہاشمی ان خوش نصیب ہستیوں میں سے تھے جنہیں اﷲ تعالی اپنے دین کی خدمت کے لیے چن لیتا ہے ۔ بہت سے علمی و تاریخی موضوعات کے علاوہ ان کا سب سے محبوب موضوع تحریر و تصنیف اصحاب رسول ﷺ و رضی اﷲ عنہم کا تذکرہ جمیل قرار پایا اور حقیقت یہ ہے کہ اس موضوع پر کام کرنے کا انہوں نے حق ادا کردیا ( جتنا کہ انسانی استطاعت میں ہے ) اس موضوع پر ان کا کام اپنی کیفیت و کمیت کے اعتبار سے اتنا وقیع اور وزنی ہے کہ شاید کوئی ایک ادارہ بھی اتنا کام نہ کرسکتا جتنا اکیلے انہوں نے کیا ٗ اﷲ تعالی اسے قبول فرمائے ۔ ان کے کام کی قبولیت کی ایک علامت تو خود ان کی کتابوں کی بے پناہ مقبولیت ہے ۔ بہت کم مصنف ایسے ہوں گے جن کی تصانیف کو ایسا قبول عام حاصل ہوا ہو۔اسے ان کے خلوص کا ثمر بھی کہاجاسکتا ہے۔بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بھی انہوں نے بطور خاص بہت قیمتی سرمایہ فراہم کیا جو زیادہ تر کہانیوں کی شکل میں ہے۔آپ کی چھوٹی بڑی تصنیفات کی تعداد 120 تک پہنچتی ہے۔
ان کی اہم کتابوں میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں:
سیرت طیبہ رحمت دارین ﷺ
حسنت جمیع خصالہ
اخلاق پیغمبری
خلق خیر الخلاق ﷺ
ارشادات دانائے کونین ﷺ
معجزات سرور کونین ﷺ
وفود عرب بارگاہ نبوی ﷺ میں
ہمارے رسول پاک ﷺ ( بچوں کے لیے )
سفر نامہ آخرت
خلیفہ الرسول ﷺ سیدنا صدیق اکبر ؓ
تیس پروانے شمع رسالت ﷺ کے
خیر البشر ﷺ کے چالیس جانثار
سرور کائنات ﷺ کے پچاس صحابہ ؓ
رحمت دارین کے سو شیدائی
فوز و سعادت کے ایک سو پچاس چراغ
حبیب کبریا کے تین سو اصحاب ؓ
تذکار صحابیات ؓ
آسمان ہدایت کے ستر ستارے
سیرت سیدۃ النساء حضرت فاطمہ ؓ الزاہرا
یہ تیرے پر اسرار بندے
سیرت حضرت سعد ؓ بن ابی وقاص
سیرت حضرت ابو ایوب انصاری ؓ
سیر حضرت عبداﷲ بن زبیر ؓ
سیرت حضرت ابوہریرہ ؓ
تذکار صالحات
سلطان نور الدین محمود زنگی
الملک الظاہر ہیرس
ملک شاہ سلجوقی
یعقوب لمنصور باﷲ
حکایات رومی
حکایات سعدی ؓ
حکایات صوفیہ
تذکرہ جامی ؓ
تذکرہ شاہ جیلان ؓ
تذکرہ خواجہ اجمیری ؓ
تذکرہ بابا فرید الدین گنج شکر ؓ
تذکرہ موج دریا بخاری ؒ
حسن گفتار
اصلاح تلفظ و املا
تاریخ اسلام کی چار سو باکمال خواتین
حضرت ابوبکر صدیق ؓ
حضرت عمر فاروق ؓ
حضرت عثمان غنی ؓ
حضرت علی مرتضی ْؓ
حضرت سعد ؓ بن ابی وقاص
حضرت سعید بن زید ؓ
حضرت طلحہ ؓ
حضرت زبیر ؓ
حضرت ابو عبیدہ ؓ
حضرت عبدالرحمن ؓ بن عوف
50 چھوٹی کتابیں بچوں کی تعمیر سیر و کردار کے لیے
آج کے بچے کل کے جوان
چاندی کی ہتھکڑی اور دوسری کہانیاں
قسمت کا سکندر اور دوسری کہانیاں
یمن کا سورما اور دوسری کہانیاں
علم بڑی دولت ہے اور دوسری کہانیاں
1- رحمت دارین ﷺ ‘ آنحضور ﷺ کی سیرت پر اہم کتاب ہے جو آٹھ سو چونسٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔
2- یہ تیرے پراسرار بندے ساڑھے نو سو صفحات کی کتاب ہے جس میں آنحضور ﷺ کے اکاسی صحابہؓ اور چالیس مشاہیر امت کا تذکرہ ہے۔
3- رحمت دارینؐ کے سو شیدائی‘ آنحضورؐ کے سو صحابہؓ کے حالات پر مشتمل چھ سو صفحات کی کتاب ہے۔
4- تذکرہ صحابیات میں ساڑھے پانچ سو صفحات کے ایمان افروز حالات کے موتی بکھرے ہوئے ہیں۔
5- ایک اور کتاب حبیب کبریاؐ کے تین سو اصحاب کے نام سے سات سو سات صفحات کی قیمتی دستاویز ہے۔
6- فوز وسعات کے ایک سو پچاس چراغ بھی صحابہ کرام کے حالات بیان کرتی ہے اور ساڑھے چھ سو صفحات پر محیط ہے۔

ان کے علاوہ اولیاء اﷲ کے تذکرے مشہور تاریخی شخصیات کے واقعات بچوں کی کتابیں اور ادبی کتب بھی ہاشمی صاحب کے رشحات قلم کی امین ہیں۔ چالیس جاں نثار پچاس صحابہ ستر ستارے اور کئی دیگر کتب مرحوم کا صدقہ جاریہ ہیں۔ برصغیر کے بزرگان بابا فرید الدین خواجہ نظام الدین اجمیری اور دیگر بزرگوں پر بھی قلم اٹھایا اور موضوع کا حق ادا کیا۔ ان کی کتابوں کی طویل فہرست ہے جو ان کی بیش تر کتابوں کے آخر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ان کی تالیفات میں بچوں کا ادب بھی شامل ہے۔ بچوں میں ان کو بڑی مقبولیت حاصل تھی۔

16 فروری 2008ء کو دنیائے علم وادب کا درخشندہ ستارہ‘ تاریخ اسلام کا امین‘ سیرت رسولؐ اور سیرت صحابہؓ پر گراں قدر کتابوں کا مصنف‘ درویش صفت اور انکسار کا پیکر‘ فرزند اسلام طالب الہاشمی افق عالم سے غروب ہو کر آخرت کی وسعتوں میں غائب ہو گیا۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون‘ موت سے کس کو فرار حاصل نہیں ہے۔ بیشتر لوگوں کی مرحوم سے بالمشافہ ملاقات نہ بھی ہوئی ہو تو ایک بڑی تعداد ان کے نام سے آشنا اور ان کے علمی کارناموں سے واقف ہے۔ موت تو بذات خود صدمے اور غم کا باعث ہی ہوتی ہے مگر بعض لوگوں کی موت دل کو زیادہ ہی متاثر کرنے کا سبب بنتی ہے۔ جانے والا ایسا ہی عظیم اور محبوب انسان تھا۔ ہاشمی صاحب ان خوش قسمت امتیوں میں سے ہیں جن کو خواب میں حضور نبی رحم ﷺ کی زیارت کا عظیم شرف حاصل ہوا۔

(یہ آرٹیکل حافظ محمد ادریس کے مضمون جو روزنامہ دن کے سنڈے میگزین میں شائع ہوا تھا ‘ ان کے شکریے کے ساتھ اخذ کیاگیاہے ۔)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 559 Articles with 280040 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Sep, 2018 Views: 1271

Comments

آپ کی رائے