مسلمانوں کے حقوق

(Hafiza Ayesha, sahiwal)

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے : مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں-
ایمان والو ! نہ تو مًردوں کو مًردوں پر ہنسنا چاہیے شاید کہ ( جن پر ہنسا جاتا ہے ) وہ اُن ( ہنسنے والوں ) سے ( اللہ تعالٰی کے نزدیک ) بہتر ہوں اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا شاہئے شاید کہ ( جن پر ہنسا جاتا ہے ) وہ اُن ( ہنسنے والی عورتوں) سے اللہ کے نزدیک بہتر ہوں اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کے بُرے نام رکھو ( کیونکہ یہ سب باتیں گناہ کی ہیں اور ) ایمان لانے کے بعد ( مسلمانوں پر ) گناہ کا نام لگنا ہی بُرا ہے اور جو ان حرکتوں سے باز نہ آئیں گے تو وہ ظلم کرنے والے اور حقُوقُ العٍبًاد کو ضائع کرنے والے ہیں تو جو سزا ظالموں کو ملے گی وہی ان کو ملے گی-

ایمان والو ! بہت سی بد گمانیوں سے بچا کرو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ( اور بعض جائز بھی ہوتے ہیں جیسے اللہ تعالٰی کے ساتھ اچھا گمان رکھنا تو اس لیے تحقیق کرلو ہر موقعہ اور ہر معاملے میں ، بد گمانی نہ کرو ) اور کسی کے عیب کا سراغ مت لگایا کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کیا کرو ، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے اس کو تو تم برا سمجھتے ہو- اور اللہ سے ڈرتے رہو اور توبہ کرلو بیشک اللہ تعالٰی برے معاف کرنے والے اور مہربان ہیں-

اے لوگو ! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت ( یعنی آدم و حوا ) سے پیدا کیا (اس میں تو سب برابر ہیں اور پھر جس بات میں فرق رکھا وہ یہ کہ ) تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے ( یہ صرف اس لیے ) تاکہ تمہیں آپس میں پہچان ہو ( جس میں مختلف مصلحتیں ہیں ، یہ مختلف قبائل اس لئے نہیں کہ ایک دوسرے پر فخر کرو کیونکہ ) اللہ تعالٰی کے نزدیک تو تم سب میں عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے اللہ تعالٰی خوب جاننے والے ( اور سب کے حال سے ) باخبر ہیں-

اے ایمان والو ! انصاف پر قائم رہو اور اللہ تعالٰی کے لیے سچی گواہی دو خواہ ( اس میں ) تمہارا یا تمہارے ماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو- اور گواہی کے وقت یہ خیال نہ کرو ( کہ جس کے مقابلہ میں ہم گواہی دے رہے ہیں ) یہ امیر ہے ( اس کو نفع پہنچانا چاہئے ) ٰیا یہ غریب ہے ( اس کا کیسے نقصان کر دیں تم کسی کی امیری غریبی کو نہ دیکھو کیونکہ ) وہ شخص اگر امیر ہے تو بھی اور غریب ہے تو بھی دونوں کے ساتھ اللہ تعالٰی کو زیادہ تعلق ہے ( اتنا تعلق تم کو نہیں ) لہذا تم گواہی دینے میں نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ کہیں تم حق اور انصاف سے ہٹ جاؤ اور اگر تم ہیر پھیر سے گواہی دو گے یا گواہی سے بچنا چاہو گے تو ( یاد رکھنا کہ ) اللہ تعالٰی تمہارے سب اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں-

اللہ تعالٰی لا ارشاد ہے : اور جب تم کو کوئی سلام کرے تو تم اس سے بہتر الفاظ میں سلام کا جواب دو یا کم از کم جواب میں وہی الفاظ کہہ دو جو پہلے شخص نے کہے تھے بلاشبہ اللہ تعالٰی ہر چیز کا یعنی ہر عمل کا حساب لینے والے ہیں-

اللہ تعالٰی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ارشاد فرمایا : اور آپ کے رب نے یہ حکم دے دیا کہ اس معبودٍ برحق کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور تم والدین کے ساتھ حسنٍ سلوک سے پہنچ جائیں تو اس وقت بھی کبھی ان کو “ہوں “ مت کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور انتہائی نرمی اور ادب کے ساتھ اب سے بات کرنا- اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا ، اے میرے رب، جس طرح انہوں نے بچپنے میں میری پرورش کی ہے اسی طرح آپ بھی ان دونوں پر رحم فرمائیے-

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمان کے دوسرے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں: جب ملاقات ہو تو اس کو سلام کرے ، جب دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے، جب اسے چھینک آئے اور ( اًلّحًمّدُلٍلہٍ ) کہے تو اس کے جواب میں یًرّ حًمُکً اللہُ کہے ، جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے ، جب انتقال کر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے اور اس کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے-

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں ؛ سلام کا جواب دینا، بیمار کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا اور چھنکینے والے کے جواب میں “ یًرّ حًمُکً اللہُ “ کہنا-

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جنت میں نہیں جا سکتے جب تک مومن نہ ہو جاؤ ( یعنی تمہاری زندگی ایمان والی زندگی نہ ہو جائے ) اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جبتک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو- کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتا دوں جس کے کرنے سے تمہارے درمیان محب نہ پیدا ہوجائے؟ ( وہ یہ عمل ہے کہ) سلام کو آپس میں خوب پھیلاؤ-

حضرت ابودوداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سلام کو خوب پھیلاؤ تاکہ تم بلند ہو جاؤ-

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام و علیکم کہا، آپ نے ان کو سلام کا جواب دیا، پھر وہ مجلس میں بیٹھ گئے- آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دس یعنی ان کے لیے ان کے سلام کی وجہ سے دس نیکیاں لکھی گئیں- پھر ایک اور صاحب آئے اور انہوں نے السلام وعلیکم و رحمتہ اللہ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سلام کا جواب دیا، پھر وہ صاحب بیٹھ کئے- آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیس یعنی ان کے لیے بیس نیکیاں لکھی گئیں- پھر ایک تیسرے صاحب آئے اور انہوں نے السلام وعلیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سلام کا جواب دیا، پھر وہ مجلس میں بیٹھ گئے- آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تیس ہعنی اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی گئیں-
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafiza Ayesha

Read More Articles by Hafiza Ayesha: 18 Articles with 9302 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Sep, 2018 Views: 432

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ