خوشی اور سکون کی جھلک

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: عائزہ ظہیر چغتائی، گجرات
خوش رہنے اور مسکرانے کے لیے کوئی بڑی وجہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ ہم دنیا کی ہر خوشی پالینے کے بعد بھی خوش نہیں ہوتے بلکہ کسی نئے سراب کے پیچھے دوڑنے لگتے ہیں۔ ہماری تمام عمر اسی کھیل کو کھیلتے کھیلتے گزر جاتی ہے اور زندگی ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ ہمیں خوش رہنا ان سے سیکھنا ہو گا جن کے پاس خوش رہنے کے لیے کوئی وجہ نہیں ہے پھر بھی وہ خوش اور مطمئن ہیں، بھوکے پیٹ بھی مسکرا رہے ہیں۔

ایک دن میرا گزر ایک جھونپڑپٹی سے ہوا اچانک میری نظر ایک عورت پر پڑی جو سہ پہر 4 بجے سارا دن دھوپ میں جل کر چلی آرہی تھی۔ سر پر گٹھڑی رکھے اور ہاتھ میں ایک تھیلا پکڑے جس میں ایک سیب اور چند کیلے تھے اپنے بچوں کی طرف چل دی بچے اسے دیکھ کر دور سے بھاگتے ہوئے آئے اور اس کے ساتھ لپٹ گئے۔ اس سے وہ تھیلا لیا اور کھانے کی چیزیں نکال کر اس طرح کھانے لگے جیسے صدیوں سے بھوکے ہوں۔ ننگے پاوں اور پھٹے کپڑوں سے تو یہی لگتا تھا جیسے واقعی صدیوں سے بھوکے ہوں۔ اس وقت ان کے چہروں پر جو اطمینان اور خوشی تھی وہ تو شاید بڑی سے بڑی خواہش کے پورا ہو جانے پر بھی نہ ہوتی۔اگر کوئی پھٹے کپڑوں میں اور ننگے پیر بھی خوش رہ سکتا ہیں تو ہم کیوں نہیں۔وہ خوش تھے اپنی غریبی سے،وہ خوش تھے اپنی زندگی سے، وہ خوش تھے اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کے حسرت بن جانے پر۔وہ اپنی ماں سے صرف اتنا چاہتے تھے جسے وہ پورا کر سکتی تھی۔

غریب کا بچہ پیدائشی قاتل ہوتا ہے جو بچپن سے ہی اپنی خواہشات کا گلا گھونٹتا چلا آرہا ہوتا ہے۔یہ کیا وجہ ہے کہ امیروں کو نرم بستر اور تمام تر آسائشوں کے باوجود نیند کی گولی کھانی پڑتی ہے اور غریب فٹ پاتھ پر بھی خواب دیکھ سکتا ہے۔ ہم ایک ایسی دوڑ میں لگے ہیں جس کی کوئی منزل نہیں۔ دنیا کی ہوس میں ایسے اندھے ہوئے ہیں کہ ہمارے پیروں تلے غریب کے خواب ٹوٹ رہے ہیں۔ ان خوابوں کی کرچیاں سمیٹتے سمیٹتے وہ خود لہولہان ہو جاتا ہے۔

تھوڑی دیر کے لیے رک کر دیکھو تو سہی کہ کتنے خواب دم توڑ گئے ہیں اور کتنے پیٹ خالی سو گئے ہیں۔ باہر نکل کر دیکھو تو سہی ان کی سوالی نظریں تمہاری منتظر ہیں۔ اگر تمہاری تھوڑی سی بھی مدد ان کے چہروں پر مسکان لے آتی ہے تو توڑ دو یہ قسم ،اتار پھینکو انا کی دستار۔ تمہیں اس سوال کا جواب مل جائے گا کہ رات بھر نیند کیوں نہیں آتی،سکون کیوں نہیں ملتا۔۔۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1254 Articles with 531065 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Oct, 2018 Views: 357

Comments

آپ کی رائے