جانی خیل منڈی کی بحالی، امن بحالی کا عملی ثبوت

(Rufan Khan, Banu)

سننے میں آرہاہے کہ جہاں پر تکالیف ہوتی ہے یا گزرجاتی ہے وہاں پر ایک نا ایک دن خوشیاں آہی جاتی ہے اور امن کی فضاء قائم ہوجاتی ہے پھر امن ہی امن ہوتا ہے بھائی چارے کی فضاء بحال ہوجاتی ہے ہر کوئی محبت کی نگاہ سے دیکھنا شروع کردیتا ہے کسی کے دل میں کسی کیلئے کوئی براخیال نہیں آتا ہے بس ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوتی ہے اس کے ساتھ ساتھ گھر یا علاقے کو حکومت اور سیکورٹی ادارے بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ہر شہری کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ میں اس علاقے کا چکرلگاؤجس طرح لوگ وقت گزارنے کیلئے مری ،ابیٹ آباداورمانسہرہ کا رخ کرتے ہیں اور اس لئے رخ کرتے ہیں یہ سب اضلاع پرامن اور خوبصورت ہیں اگر خیبر پختونخوا کی بات کی جائے تو یہ اضلاع خیبر پختونخوا کا حصہ ہے اگر حکومت چاہتی ہے تو ہر ایک علاقے سے مری ،مانسہرہ اورابیٹ آباد جیسے خوبصورت اضلا ع بناسکتی ہیں ٹھنڈا تو نہیں ہاں البتہ خوبصورت اور پرامن ضررو بناسکتی ہے پھر جس کیلئے تکالیف برداشت کرنی پڑے گی پھر عین ممکن ہے کہ ہم پرامن اور خوبصورت زندگی بسر کرسکیں گے ناطرین میرے کالم کا بھی یہی مقصد ہے کہ ہم علاقہ جانی خیل سے ایک خوبصورت یعنی ماڈل علاقہ بنائے یہ حکومت اور عوام کے تعاؤن سے ہی ممکن ہے یہ جانی خیل علاقہ بنوں کے ایف آر علاقوں میں شمار ہوتاہے اور یہ علاقہ خوبصورتی اور ہر قسم کے قدرتی ذخائر سے مالامال ہے لیکن کچھ نامعلوم وجوہات کی بناء پرپچھلے کافی عرصے سے علاقے میں کاروباری نظام اور روزمرہ صورتحال خراب تھی اب پاک فوج کے کافی تگ ودو کے بعد اس علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کا باقاعدہ آغازکردیاگیا ہے اسی طرح بنوں کی صورتحال 2002کے بعد خراب ہوئی تھی آئے روزاغواء برائے تاؤن، ٹارگٹ کلنگ ،خودکش دھماکے ،قتل عام اور حملے ہوتے تھے جس کے باعث لاتعداد شہریوں اور سیکورٹی اداروں کے جوانوں شہید ہوئے علاقے میں حوف و ہراس پھیل چکاتھا لوگ گھروں میں محصور ہوررہ گئے تھے اور گھروں سے باہر نکلنے پر گھبراہٹ محسوس ہوتی تھی بنوں شہر تو کیا ایف آر علاقے کا بھی امن خراب تھا اصل میں ایف آر علاقے ہی شدت پسندوں کے گڑھ سمجھے جاتے تھے ان علاقوں میں کاروباری نظام درہم برہم تھا پھر اس علاقے میں فوج آگئی اور لاتعداد سرچ آپریشن کئے گئے جس کے نتیجے میں پاک فوج کے جوانوں نے جام شہادت نوش کیا اور لاتعداد شدت پسندوں کو ہلاک کیا کئی شدت پسند علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے اس علاقے میں ہر روز کرفیولگایاجاتا جس کے باعث مکینوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتاتھا تعلیمی ادارے بند تھے صحت کا بھی یہی حال تھا اس علاقے کے مشران نے کرفیو کے خاتمے اورنرمی کے حوالے سے فوج کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور ضلعی انتظامیہ کو کھلی کچہریوں کے دوران اپنے موقف سامنے رکھے ،گزشتہ روز جی او سی نو ڈویژن میجر جنرل نعمان زکریا ،کمشنر بنوں ڈویژن عبدالجبار ،ڈی آئی جی بنوں ،ڈپٹی کمشنر بنوں محمد علی اصغر اور ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی ،اے پی اے اشفاق خان و دیگر نے جانی خیل منڈی کا افتتاح کیا یہ منڈی تقریباً7سالوں سے بندتھی اب عوام کیلئے کھل گئی ہے اس موقع پر اُنہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جانی خیل میں امن و امان کوبرقرار اور خوشحالی لاناپاک فوج کی اولین ترجیح ہے عوام بھی پاک فوج کے ساتھ تعاؤن کریں جانی خیل منڈی کھلنے کی وجہ سے شہریوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ7 سال تک علاقے کے عوام رومززندگی کا سامان دور دورسے لانے پر مجبورتھے اور اب دوبارہ گھر کی دہلیز پر روزمرہ زندگی کا سامان میسرہے اور علاقے میں امن کی فضاء ایک بار پھر بحال ہوگئی ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rufan Khan

Read More Articles by Rufan Khan: 28 Articles with 10576 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Oct, 2018 Views: 258

Comments

آپ کی رائے