تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے روزگار کا نہیں

(Muhammad Ashfaq, Rawalpindi)

ہر وہ چیز جو اپنی مقرر کردہ حدود سے باہر ہو تجاوزات کہلاتی ہے کسی دکان کی ہی مثال لیجیئے اس کی حد اس کی چاردیواری ہے چار دیواری سے باہر رکھی گئی اشیاء تجاوزات کے زمرے میں آتی ہیں حکومت پنجاب نے صوبہ بھر میں تجاوزات کے حوالے سے ایک خصوصی مہم شروع کر رکھی ہے جس کے تحت اسسٹنٹ کمشنر کلرسیداں نے بھی تمام سرکاری محکموں کے سربراہان سے میٹنگ کر کے تجاوزات ختم کروانے کا عندیہ دے دیا ہے اور تھوڑا بہت کام شروع بھی کر دیا گیا ہے لیکن ایسا بھی محسوس ہو رہا ہے کہ یہ آپریشن مکمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے کیوں کہ ابھی تک جوکچھ ہوا ہے وہ صرف ریڑی والوں ہی کے خلاف ہوا ہے ایک عرصہ پہلے کلرسیداں کی سڑکیں اور مارکیٹیں کافی حد تک کشادہ ہوا کرتی تھیں دکاندار اپنی اشیاء اپنی اپنی دکانوں کی حدود کے اندر ہی رکھا کرتے تھے لوگوں کو بازاروں میں خریدداری کیلیئے زیادہ آسانی تھی کیوں کہ مارکیٹوں کی گلیوں اور راہوں میں کسی قسم کی تجاوزات نہیں تھیں ریڑھیوں اور ٹھیلوں والے بہت کم تعداد میں ہوا کرتے تھے نہ ہی کسی دکان والے نے اپنی دکان کے ساتھ کوئی شیڈ وغیرہ بنا رکھے تھے جس وجہ سے سڑکیں اور مارکیٹیں بہت کشادہ کشادہ لگتی تھیں مگر آہستہ آہستہ تجاوزات کا سلسلہ شروع ہو گیا اور دکانداروں نے اپنی دکان کے باہر سامان رکھنے شروع کر دیئے اور ساتھ ہی اپنے سامان کو بارش اور دھوپ سے بچانے کیلیئے باہر شیڈ بھی بنوانے شروع کر دیئے اس کے ساتھ انہوں نے اپنی دکانوں کے سامنے والی جہگہ بھی کرائے پر دینا شروع کر دی بہت سے غریب لوگ کرایہ دے کر دکانوں کے سامنے رہڑھیاں لگانے لگ گئے اس طرح تجاوزات کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا لیکن ایسا ہر جہگہ پر نہیں ہو رہا ہے کئی دکانداروں نے خدا ترسی کے جزبہ کے تحت بھی غریب افراد کو اپنی دکانوں کے سامنے والی جہگہ پر ریڑی لگانے کی اجازت دے رکھی ہے تا ہم اس سے عام لوگوں کے گزرنے کا راستہ بند ہو گیا البتہ یہ ہوا کہ دکانداروں کو ریڑی والوں سے کرایہ کی مد میں کچھ آمدنی آنا شروع ہو گئی قانونی طور پر ٹھیلے یا ریڑی والوں کو اپنی دکان کے سامنے فٹ پاتھ پر بٹھانا اور ان سے کرایہ لینا ناجائز اور غلط ہے مگر دکانداروں نے اپنے فائدے کیلیئے سرکاری فٹ پاتھ پر ریڑی والوں کو بٹھایا ایسا کرنا بھی بہت سارے دکانداروں کی مجبوری تھی کیوں کہ مارکیٹ مالکان نے ہاتھوں میں لمبی اور بڑ ی بڑی چھریاں اٹھا رکھی ہیں اور دکانون کے کرائے زبردستی اتنے زیادہ مقرر کر رکھے ہیں جو عام چھوٹے دکانداروں کی دسترس سے بہت دور ہیں جس وجہ سے دکاندار مجبور ہو کر انہوں نے ریڑی والوں کو اپنی دکان کے سامنے جہگہ دے رکھی ہے اس کے ساتھ ہی ساتھ ٹی ایم اے کے شعبہ انفورسمنٹ کے اہلکاران بھی مبینہ طور پر ان تجاوزات کے زمہ دار ہیں جو کبھی کبھار آپریشن کرنے آتے ہیں تو جہاں سے مال پانی مل جاتا ہے اس کو چھوڑ دیتے ہیں اور جو خرچہ وغیرہ نہ لگائے اس کا سامان ضبط کر لیتے ہیں اگر وہ اہلکاران اپنے فرائض ایمانداری سے اانجام دیں تو کسی بھی دکان والے اور کسی بھی ریڑی والے کو تجاوزات کی ہمت نہ پڑتی جب انفورسمنٹ ڈیپارٹمنٹ والے تجاوزات کو دیکھتے ہوئے بھی آنکھیں بند کر لیں تو پھر ایسی صورتحال میں تجاوزات پیدا ہوتی ہی ہیں آج بھی بہت سارے دکاندار اس بات کا رونا رو رہے ہیں کہ ٹی ایم اے کے اہلکاروں نے کئی مرتبہ ہمارے سامان اٹھائے اور واپس نہ کئے ہیں اگر اس کا سدباب ساتھ ساتھ ہی کر لیا جاتا تو آج کلرسیداں کی سڑکوں اور مارکیٹوں میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کی ضرورت ہی نہ پیش آتی مگر دیر آمد درست آمد اسسٹنٹ کمشنر کلرسیداں کا تجاوزات کے خلاف آپریشن احسن اقدام ہے اور اس آپریشن کو مکمل بھی ہونا چاہئے اس آپریشن سے اگر کسی دکاندار کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو اس کا ازالہ بھی ہونا چاہئے اگر کسی دکاندار کا جان بوجھ کر نقصان کیا گیا ہے تو اس کا حق اسے معاوضہ کی صورت میں ضرور ملنا چاہیئے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کوئی دکاندار ہو ریڑی والا یا ٹھیلے والا مقصد سب کا ایک ہی ہوتا ہے وہ مقصد ہے اپنے بچوں کا پیٹ پالنا اس آپریشن کی وجہ سے جو غریب ریڑی والے بے روزگار ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں اس سے ان کے خاندانوں پر اثر پڑے گا کیوں کہ یہ ایک ریڑی والے کا روزگار نہیں ہے بلکہ پورے ایک خاندان کا رزق اس ایک ریڑی سے وابستہ ہے اگر اس کی ریڑی ضبط کر لی جاتی ہے یا ضائع کر دی جاتی ہے تو اس کا گھرانہ فاقوں کا شکار ہو جائے گا جو کہ ایک بہت بڑی زیادتی بھی تصور ہو گی ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کیلیئے کوئی متبادل صورتحال پیدا کرنی چاہئے اسسٹنٹ کمشنر یا ٹی ایم اے ریڑی والوں کو پرمٹ دے دیں تا کہ یہ اپنا رزق عزت سے کما سکیں ایسے ریڑی والے جنہیں پرمٹ ملا ہو ان کو تنگ نہ کیا جائے اس کے علاوہ ایسے لوگ جن کے روزگار اس آپریشن کی وجہ سے ختم ہوگئے ہیں یا ہو رہے ہیں ان کیلیئے کلرسیداں کی حدود میں کوئی بھی مناسب جہگہ مقرر کر دی جائے جہاں پر ہر ریڑی والے کو اس کے حساب کے مطابق جہگہ الاٹ کر دی جائے جہاں پر وہ اپنا روزگار کما کر اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال سکیں اور وہ دوبارہ کسی دکان والے کے کہنے پر اس تجاوزات کا حصہ نہ بنے بلکہ اسسٹنٹ کمشنر کو سنجیدگی سے اس بات پر غور کرنی چاہیے کہ کلرسیداں شہر کے آس پاس کسی بھی مناسب جہگہ پر ہفتے میں کم از کم تین دن بازار لگانے کے انتطامات کرنے چاہیں ا ان بازاروں میں بلخصوص ایسے ریڑی بانوں کو سب سے پہلے جہگہ الاٹ کی جائے جن کے کاروبار اس اپریشن کی زد میں میں آ چکے ہوں ایسا کرنے سے بھی ان غریبوں کے مسائل میں کمی ممکن ہو جائے گی تجاوزات کے اصل زمہ دار تو ٹی ایم اے شعبہ انفورسمنٹ کے اہلکاران ہیں جنہوں نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ان تجاوزات کا خاتمہ نہیں کروایا ہے تجاوزات کے خاتمہ کے سلسلہ میں تاجر تنظیموں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے تاجر تنظیموں کا ہر دکاندار کے ساتھ رابطہ ہوتا ہے اس ان کا تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے کردار بہت اہمیت کا حامل ہو گا انہیں تحصیل کلرسیداں کی مارکیٹوں اور سڑکوں کی خوبصورتی کیلیئے اسسٹنٹ کمشنر کا بھر پور ساتھ دینا چاہیئے عوامی شکایات پر تجاوزات کے خلاف شروع کیا گیا یہ آپریشن قابل تحسین اقدام ہے مگر اس آپریشن کے دوران اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ کسی دکاندار کو اس کی وجہ سے نقصان نہ ہو صرف تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے روزگار کا خاتمہ ہر گز نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی کا نا حق مالی نقصان کیا جائے اس کے علاوہ اس بات کی بھی بہت سخت ضرورت ہے کہ قانون کرایہ داری پر بھی سکتی سے عمل کروایا جائے مارکیٹوں کی افادیت کو مد نظر رکھ کر سرکاری طور پر کرائے مقرر کیئے جائیں اور مارکیٹس مالکان کو اس بات کا سختی سے پابند بنایا جائے کہ وہ جب چاہیں جس وقت چاہیں دکانوں کے کرائے نہ بڑھا سکیں مارکیٹ مالکان کی تو یہ کوشش ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی مارکیٹ پر جتنا بھی خرچہ کیا ہے وہ ایک سال میں پورا ہو جائے اس کے علاوہ مارکیٹ مالکان سے مزاکرات کر کے ایک کرائے پر متفق کیا جائے تا کہ ان کرایہ داروں کیلیئے آسانی پیدا ہو سکے میرے خیال میں مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ بھی دکاندار نہیں ہیں بلکہ وہ مارکیٹس مالکان ہیں جنہوں نے اپنی مارکیٹیں بنوائی تو مٹی کی اینٹوں سے ہیں مگر وہ کرایہ سونے کی اینٹوں کا سمجھ کر وصول کر رہے ہیں آخر میں وہ بات جو سب سے زیادہ ضروری ہے وہ یہ کہ اس آپریشن کو صرف ریڑی والوں تک ہی محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کو بلا تفریق اور ہر سطح پر جاری رکھا جائے-
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ashfaq

Read More Articles by Muhammad Ashfaq: 144 Articles with 45902 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Oct, 2018 Views: 433

Comments

آپ کی رائے