بابے لوگ

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: عائشہ یاسین، کراچی
تپتی زمین پر جب تلوے ہی کیا روح تک سلگنے لگے۔ایسے میں آسمان سے چھلکا پانی کا اک قطرہ، اک لمحے کے دسویں حصے میں جسم و جاں میں امید اور شادابی بھر دیتا ہے۔ ناتواں جسم میں جیسے جاں سی آجاتی ہے اور نقاہت سے چور آنکھیں آسمان کی طرف دیکھنے لگتی ہیں۔آسمان کو تکنے کے اس عمل کو ہی تو کل کہتے ہیں۔یہ توکل ہی اک ایسی گانٹھ ہے جو بندے اور خالق کو اک دوسرے سے جدا نہیں ہونے دیتی۔
عام لوگوں کی تو کوئی بات ہی نہیں۔ بڑے سے بڑے لوگوں کی زندگی بھی اونچ نیچ سے عبارت ہے۔ کبھی رشتے میں کھچاؤ، کبھی روز گار میں مشکلات ،کبھی ایمان میں تشکیک اور کبھی زندگی کے دیگر عروج و زوال۔جب بندہ چلتے چلتے کسی موڑ پر تھک جاتا ہے ، بظاہر نا امیدی کی اتھاہ گہرائی اس کی منتظر ومقدر دکھائی دیتی ہے،اس لمحے یہ بابے لوگ امید کی چھینٹ مار کر بندے کے توکل کو بحال کرتے ہیں۔
بابے کون ہوتے ہیں؟ ہر ایک وہ بشر جو کسی جاندار کو امید کی رمق دے وہ بابا ہے۔ہمارے اردگرد بے شمار بابے لوگ گشت عمل رہتے ہیں۔بابا کوئی بھی ہو سکتا ہے آپ ، میں یا وہ سامنے کھیلتا ہوا شرارتی بچہ یا کونے میں بیٹھا نحیف سا بوڑھا یا پیٹھ پر وزن لادے اک توانا نوجوان ۔ بابا لوگ کسی خاص رنگ و روپ اور نسل کے نہیں ہوتے بلکہ ان کا کام صرف نا امیدخلق کو امید دلانا ہوتا ہے اور پیٹھ پر ایک تھپکی دینا اور کہنا جاؤ تمہارا کام ہوجائے گا۔اﷲ سب ٹھیک کر دیگا۔یہ یقین کا جملہ وٹامن کی گولی کا کام کرتا ہے اور بندہ اپنے رب سے بوگی کی طرح دوبارہ جڑ جاتا ہے اور کن فیکون ہوجاتا ہے۔

اﷲ اپنے بندوں سے، اپنے پیار کے اظہار کے لیے ہر قدم پر آسانی فراہم کرتا ہے تاکہ بندہ رب سے منسلک رہے۔بابا لوگ ناخوشی اور اداسی کی دھند کو چاک کر کے ذہن کے دریچوں کی گرد کو صاف کرتے ہیں اور فقط اک تھپکی ہی جادو کا کام کرتی ہے اور بندہ زندگی کی طرف لوٹ آتا ہے۔بابا لوگ بننا کوئی مشکل کام نہیں۔بس اک توکل کی پریکٹس ہے۔کسی کے لب پر ہلکی سی مسکان لانے کا جتن ہے۔آنکھوں میں چمک لانے کا گر ہے۔جیسے اک روتے دھوتے بچے کو اس کا ہاتھ تھام کر آسمان کی طرف متوجہ ہوکے انگلی کے اشارے سے بتانا کہ وہ ہے ہمارا رب ہمارا پالنہار۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے بس یہی ڈیوٹی ہے بابا لوگ کی۔ اﷲ ہم کو بھی نوازے ایسی عادات سے جو دوسروں کے لئے باعث رحمت ہوں جو خلق خدا کی خوشی کی وجہ ہوں۔جو ہمارے ہونے کے مقصد کو سامنے لا سکے آمین ۔
بلھے شاہ نے کہا تھا:
کجھ بغض تی ریت وچ نئیں ملدا
کجھ ہار تے جیت وچ نئیں ملدا
مخلوق خدا نال پیار تو کر
رب صرف مسیت وچ نئیں ملدا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1226 Articles with 497433 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Oct, 2018 Views: 280

Comments

آپ کی رائے