کیا عاق نامہ شائع ہونا چاہیے

(Ahsan ul haq, )

میں اپنے بیٹے کوبوجہ نافرمانی تمام جائیدادمنقولہ وغیرمنقولہ سے عاق کرتاہوں اس کے کسی قول وفعل کامیں ذمہ دارنہیں۔قارئین کرام!اس طرح کے بہت سارے اشتہارات آپ کومختلف بڑے چھوٹے اخبارات میں پڑھنے کوملیں گے ۔آج ہم عاق نامہ کاپردہ چاک کرنے کی کوشش کریں گے ۔اسلام میں ماں ،بہن، بیٹابیٹی ودیگرکا وراثت میں حصہ تقسیم کررکھاہے۔جس پرکسی کااعتراض نہ ہے ۔اب سوال یہ سامنے آتاہے کہ اگروراثت میں مذکورہ رشتوں کاحصہ اسلام نے طے کررکھاہے توہمارے عاق نامہ سے کسی بھی شخص کووراثت کیسے عاق کیاجاسکتا۔اگرہم ایساکریں گے تو اسلام کے احکامات کوتبدیل کے کرنے مترادف تصورکیاجائے گا۔ایک جانب جائیدادمیں حصہ داری کے احکامات ہیں اوردوسری جانب ہم قرآن کے حکم کوپس پشت ڈال کرعاق نامہ جیسے اعلانات کرتے پھرتے ہیں اس پران اداروں کوغورکرناچاہیے جواس طرح کے اشتہارات شائع کرتے ہیں۔اگرپرنٹ میڈیاایسے اشتہارات کی تشہیر بند کر دے توکوئی بھی شخص قرآن کریم کے حکم کی خلاف ورزی کی غلطی نہیں کرے گا۔اگرکوئی باپ اپنے بیٹے کی کارستانیوں سے تنگ ہے ،انتہادرج تک مجبورہوچکاہے تب بھی عاق کاتصورممکن نہیں ہے۔نہ اولاداپنے والدین کوجائیدادسے عاق کرنے کااختیاررکھتی ہے اورنہ ہی والدین اولادکوعاق کرنے کااختیارکرتے ہیں۔اب آتے ہیں ہم اپنے قانون کی جانب ،ہمارا قانون یہ کہتاہے کہ عاق نامہ بطورسزاہے اورعاق نامہ اس وقت تک برقراررہتاہے جب تک کہ والدجس نے اپنی بیٹے کوعاق کررکھاہے فوت نہیں ہوجاتا۔ والدکی وفات کے بعدعاق نامہ منسوخ تصور کیا جائے گا۔والداپنی حیات میں اگرمرضی سے عاق نامہ کومنسوخ کرناچاہے توکر سکتا ہے۔قارئین کرام!اسلام نے اس طرح کی سزاکاتعین نہیں کیا کہ ہم اسلام کے احکامات میں ردوبدل کرکے اپنے اولادکی اصلاح کے لیے عاق نامہ کاسہارالیں۔اب آتے ہیں اسلام کے سنہری احکامات کی جانب کہ عاق نامہ کی شرعی حیثیت کیاہے۔قابل غورمسئلہ یہ کہ کیاکوئی انسان اپنی اولادکوعاق کرسکتاہے جس کانتیجہ یہ ہے کہ عاق کی ہوئی اولاداس کی منقولہ وغیرمنقولہ جائیدادکی حقدارنہیں رہتی توشرعی لحاظ سے ایسا کرنا جائز نہیں۔ اگر اولاد نافرمان ہے تواس کامحاسبہ کل قیامت والے دن ہوگااوروالدین کی نافرمان اولادکواﷲ کے ہاں اس کاجواب دیناپڑے گاجوبہت کٹھن مرحلہ ہے ۔ہاں!البتہ مسلسل محنت وکوشش کرنے کے باوجودبالغ اولادمن مانی کرے اوراصلاح نہ کرے تواس کے قول وفعل کی ذمہ داری سے برات کااظہارکیاجاسکتاہے۔جامع ترمذی کی ایک حدیث میں اﷲ کے رسولؐ ایک صحابی ابورمثہ سے مخاطب ہوکرفرمایاخبرداررہیں اس کے جرم کاتجھ سے نہ پوچھاجائے گااورنہ تیرے جرم کامواخذہ اس سے ہوگا۔پھررسول اﷲؐ نے قرآن کریم کی آیت پڑھی ،’’کوئی بوجھ اٹھانے والاکسی کابوجھ نہ اٹھائے گا‘‘۔قارئین کرام!اب وراثت سے روکنے والی صورتوں کے متعلق جاننے کی کوشش کریں گے ۔بخاری کی ایک حدیث مبارکہ میں یوں آیاہے کہ کافرمسلمان کااورمسلمان کافرکاوارث نہیں ہوگا۔اس حدیث کوصحیح مسلم اورترمذی نے بھی نقل کیاہے۔اسی طرح اپنے مورث یعنی جوکسی کووارث بناتاہے کوقرتل کرنے والامقتول کاوارث نہیں بن سکتا۔اسی طرح غلام وارث نہیں بنتا۔قارئین کرام!اس کی کوئی دلیل نہیں کہ عاق کرنے والااورکیاجانے والاایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے۔بات واضح ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ نے ایک حق کوعطاکیاہے تواﷲ کے سوااسے کوئی ختم نہیں کرسکتا۔اسی طرح اولادماں باپ کوعاق نہیں کرسکتی والدین اگراپنی منصبی ذمہ داری ادانہیں کرتے تووہ بھی اﷲ تعالیٰ کے ہاں جواب دہ ہیں لیکن ان کی غیرذمہ داری کی وجہ سے اولادان سے الگ ہوجائے اوروالدین کے حقوق ادانہ کرے توشرعی لحاظ سے اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اولادکے عاق کرنے پروالدین کواولادکے ترکہ سے محروم نہیں کیاجاسکتا۔جیسے اﷲ نے والدین کے فوت ہونے پراولادکووارث قراردیاہے اسی طرح اولادکے فوت ہونے پروالدین کوبھی ترکہ کاحقداربنایاہے فریقین میں سے کسی کوبھی تعلقات کشیدہ ہونے کی بناء پراس کے حق سے محروم نہیں کیاجاسکتا۔پرنٹ میڈیاکے ادارے اس طرف توجہ دیتے ہوئے ایسے عاق نامہ کی تشہیرکوروکیں جوجائیدادسے بے دخل کی مدمیں کیاجاتاہے۔کیونکہ اس طرح شریعت اورقانون کی مخالفت ہوتی ہے اوراس سے بہت ساری خرافات پیداہوتی ہیں۔باپ بیٹے میں ہمیشہ کی نفرت ،دشمنی اورتصادم پیداہوتاہے۔خاندانوں میں نفرتیں پروان چڑھتی ہیں۔جائیدادکے نام پرقتل وغارت ہوتا ہے ۔خاندان معاشرے تباہی کی جانب چلے جاتے ہیں اس سارے عمل کی بنیادی وجہ احکامات اسلام کی خلاف ورزی ہے ۔وہ والدین جواپنی اولادوں کوجائیدادسے عاق کرنے جیسے اشتہارشائع کرواچکے ہیں انہیں بھی اپنے اس عمل کوختم کرناچاہیے اوراپنی اولادکوہرممکن سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔عاق نامہ شائع کرنے سے معاملات حل ہونے کے بجائے مزیدنفرتیں جنم لیتی ہیں۔ہرشخص یہ سوچے کہ اگراس کاوالداپنے بیٹے کانام سرعام اس زمرے میں شائع کروائے کہ میرابیٹااچھانہیں ہے ،نافرمان ہے ،برائیوں میں مبتلاہے،میری نہیں سنتاتوایسے میں بیٹے کاردعمل کیاہوگااولادوں والے خودسوچ سکتے ہیں کہ کیاایسے والدکی عزت میں اضافہ ہوگا،کیاایسے خاندان میں امن قائم رہ سکے گا،کیاایسے معاشرے میں بھائی چارہ پروان چڑھ سکتاہے ۔یہ وہ سوالات ہیں جن کے متعلق ہمیں غورکرنے کی ضرورت ہے اورایسے عمل کوروکناچاہیے جوشریعت کے احکامات کی نفی کرے۔اس سے آپ کی اولادیں بھی راہ راست پرآجائیں گی اورمعاشرہ بھی امن کاگہوارہ بن جائے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ahsan ul haq

Read More Articles by Ahsan ul haq: 9 Articles with 6080 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Oct, 2018 Views: 1557

Comments

آپ کی رائے