زیبا کی کہانی

(Mona Shehzad, Calgary)

"بیٹی ! آج تو اپنے گھر کی ہونے والی ہے،اب تیری لاش ہی اُس گھر سے نکلنی چاہیے ۔ اچھی بیٹیاں اپنے گھر میں ہی من لگاتی ہیں ۔ماں ،زیبا کو رخصت کرتے سمے سب نصیحتیں کرتی جارہی تھی۔
رات کا نہ جانے کونسا پہر تھا ، زیبا کا جسم زخموں سے چور تھا، اس کے خواب اس کی آنکھوں سے بہہ کر دریا برد ہوچکے تھے۔اس کی زندگی کا آغاز ہی بہت دردناک تھا، وہ سوچ رہی تھی ،اتنا تشدد کیا میں عمر بھر برداشت کرسکونگی؟ اس نے خاموشی سے کلائی کی چوڑیاں پیس کر پھانک لیں۔ ماں کا کہا تو اس نے عمر بھر نہیں ٹھکرایا تھا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 180029 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
12 Oct, 2018 Views: 705

Comments

آپ کی رائے