بیٹھے تھے گھنی چھاؤں میں

(Sami Ullah Malik, )

برادرم ڈاکٹرجاوید صاحب نے اپنی والدہ محترمہ کی شدیدعلالت کی اطلاع کے ساتھ احباب سے دعا کیلئے درخواست کی کہ اگلے ہی دن والدہ ماجدہ کاحق رحمت سے ملنے کی اندوہناک اطلاع موصول ہوگئی۔ إِنَّالِلّهِ وَإِنَّـاإِلَيْهِ رَاجِعونَ۔دل جوپہلے ہی اہلیہ کی اس دارِ فانی سے رخصت ہونے کی وجہ سے ضعف کی طرف مائل ہے اس کی غیرمتوازن دھڑکن کئی مرتبہ اپنے رب کی طرف متوجہ بھی کرتی رہتی ہے لیکن رب کے نیک بندوں کااس دنیاسے کوچ کرجانے کی خبریں ایک تلاطم پیداکردیتیں ہیں۔قرآن کریم میں ارشادہے:
يَـٰٓأَيَّتُهَا ٱلنَّفْسُ ٱلْمُطْمَئِنَّةُ ٱرْجِعِىٓ إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَٱدْخُلِى فِى عِبَـٰدِى وَٱدْخُلِى جَنَّتِى۔۔۔اے اطمینان والی روح،اپنے رب کی طرف لوٹ چل ،تواس سے راضی وہ تجھ سے راضی، پس میرے بندوں میں شامل ہواور پس میرے بندوں میں شامل ہوجا۔۔۔۔الفجر۔۔۔۔۲۷۔۔۔۳۰
اورشدت سے نبی کریمۖ کافرمان مبارک یادآتاہے کہ''دنیاایک جیل ہے''۔ ۔پہلے میں نے سوچاکہ اپنے محترم بھائی کو ٹیلیفون پردوبارہ پرسہ دوں پھرخیال آیا کیوں نہ تحریری طوردل کی کچھ باتیں کر لی جائیں تاکہ اپنے ہراس بہن بھائی کوپرسہ دے دوں جواپنے والدین یااپنے پیاروں کے داغ مفارقت کازخم اپنے دلوں میں چھپائے ان کی یاد میں پریشان اورہلکان رہتے ہیں تاکہ ان سب کے دل کے لئے کسی حدتک باعث سکون بن سکیں بس اسی خیال کی وجہ سے اس جا نکا ہ حا د ثہ کی تعزیت کیلئےفوراًیہ تحریرقلم کی نو ک پرآگئی ہے کہ شا ید اس تحریرسے ان کے غم اورخودمیرے دل کا بوجھ کچھ ہلکاہوسکے ۔
ماں ایک ایسارشتہ ہے جونومہینے ایک عذاب سے گزرتی ہے،گرتی ہے توپیٹ کے بل نہیں گرتی ،پہلوکے بل گرکرہڈی تڑوالیتی ہے اورہمیں بچالیتی ہے۔ سارے رشتے پیداہونے کے بعدبنتے ہیں۔ ہیں، اس زمین پرایک واحدماں کارشتہ ایساہے جوہمارے پیداہونے سے نوماہ پہلے استوارہوجاتاہے,وہ بس وہی کھاتی ہے جس سے ہمیں نقصان نہ ہو،وہ بڑے سے بڑے دردمیں عذابھگت لیتی ہے مگردردمارنے والی دوانہیں کھاتی کہ کہیں وہ دواہمیں نہ ماردے۔ہم اس کی پسندکے کھانے چھڑا دیتے ہیں،ہم اس پرنیندحرام کردیتے ہیں،وہ کسی ایک طرف ہوکرچین سے سونہیں سکتی۔وہ سوتے میں بھی جاگتی رہتی ہے گویانومہینے خوشی سے دردکے اس عذاب کوبرداشت کرتی ہے۔اس نے ابھی ہماری شکل نہیں دیکھی ، لوگ شکل دیکھ کرپیارکرتے ہیںلیکن وہ غائبانہ پیارکرتی ہے۔لوگ تصویرمانگ کرسلیکٹ کرتے ہیں۔دنیاکاکوئی رشتہ اس خلوص کی مثال پیش نہیں کرسکتا۔ربّ ِ کریم کواس پراتناپیارہے کہ اس کواپنی محبت کاپیمانہ بنالیااورہمیں عدم وجود سے اس دنیامیں لانے کیلئے قیامت سے گزرجانے سے بھی دریغ نہیں کرتی اورجب ہوش آتاہے توپہلاسوال ہماری خیریت کاہی ہوتاہے۔
ربّ ِ رحیم کے بعدوہ واحدہستی ہے جوعیب چھپاچھپاکررکھتی ہے،ہماری حمائت میں وہ عذر تراشتی ہے کہ باپ کو مطمئن اورہمیں بھی حیران کردیتی ہے۔باپ ہماری کسی شرارت پراپنے دل پرجبرکرکے کھانابندکردے تواپنے حصے کاچپکے سے کھلادیتی ہے۔باپ اگرغصے میں ہماری اصلاح کیلئے گھرسے وقتی طورپرنکال دے تواس کی نیندحرام ہوجاتی ہے اوروہ اس وقت سو نہیں پاتی جب تک خاموشی سے دروازہ کھول کرہمیں واپس گھرمیں داخل نہیں کرلیتی۔ربّ ِ رحمان کے سواکوی ہمارااتناخیال نہیں رکھتاجتناماں رکھتی ہے،اسی لئے ربّ ِ کبیرنے جنت اٹھا کر اس ماں کے قدموں میں رکھ دی۔
برادرم ڈاکٹرصاحب!اس صدمے نے آپ کے قلب وذہن پریقیناًایک بہت گہرااثرچھوڑاہوگالیکن مو ت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے ہم سب لاپرواہ ہیں۔ دراصل مو ت سے زیادہ خوفناک شے موت کا ڈرہے،جیسے جیسے زندگی کاشعوربڑھتاہے زندگی کی محبت بڑھتی ہے،پھر موت کاخوف بھی بڑھنے لگتا ہے۔جس کوزندگی سے محبت نہ ہواسے بھلامو ت کاکیاخوف!جب ا نسان کے دل میں موت کاخوف پیداہوجائے تواس کی حالت عجیب ہوتی ہے ایسے جیسے کوئی انسان رات کےاندھیرے سے بھاگ جا ناچاہے یادن کوسورج سے بھاگ جانالیکن بھاگ نہیں سکتا۔
کہتے ہیں کہ ایک آدمی کوموت کاخطرہ اورخوف لاحق ہوگیا وہ بھا گنے لگا تیزبہت تیز،اسے آوازآ ئی ''پگلے موت تیرے پیچھے نہیں بلکہ تیرے آگے ہے'' وہ آدمی فوراًالٹی سمت بھا گنے لگا پھر آوازآ ئی ''نا دان موت تیرے پیچھے نہیں بلکہ تیرے آگے ہے'' آدمی بولا ''عجیب بات ہے پیچھے کو بھا گتاہوں توپھربھی مو ت آگے ہے،آگے کودوڑتاہوں توپھربھی موت آگے ہے'' آوازآ ئی''موت تیرے ساتھ ہے،تیرے اندرہے، ٹھہرجا،تم بھا گ کرکہیں نہیں جا سکتے۔ جوعلا قہ زندگی کاہے وہ ساراعلا قہ موت کاہے''اس آدمی نے کہا''اب کیاکروں؟''جواب ملا ''صرف انتظارکرو موت اس وقت خود ہی آجائے گی جب زندگی ختم ہو جائے گی اورزندگی ضرورختم ہوگی کیونکہ زند گی موت کی اما نت ہے اورکسی کی جرأت نہیں کہ اس میں خیانت کرسکے۔زندگی کاایک نام موت ہے،زندگی اپناعمل ترک کردے تواسے موت کہتے ہیں یازندگی کاانجام!''اس آدمی نے پھرسوال کیا''مجھے زندگی کی بہت تمنّاہے لیکن تومجھے موت کی شکل د کھادے تاکہ میں اسے پہچان لوں'' آوازآئی '' آئینہ دیکھو موت کاچہرہ تیرااپنا چہرہ ہے،اسی نے میّت بننا ہے،اسی نے مردہ کہلانا ہے،موت سے بچنا ممکن نہیں"۔
مو ت کے خوف کا کیا علاج!لاعلاج کابھی بھلا کوئی علاج ہے۔لاعلاج مہلک مرض صرف زندگی کاعارضہ ہے جس کاانجا م صرف موت ہے۔زندگی ایک طویل مرض ہے جس کاخا تمہ موت کہلا تا ہے۔روزاوّل سے ز ندگی کایہ سلسلہ چلا آرہا ہے کہ زندگی کاآخری مرحلہ موت ہے اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، یہ توزندگی کاحصّہ ہے، بس اس کی تیّاری کی فکرہونا ضروری ہے۔ہم کشاں کشاں اس کی طرف سفرکرتے ہیں،ہم خودہی اس کے پاس چل کرآتے ہیں۔ زندگی کے امکانات تلاش کرتے کرتے ہم اس بند گلی تک آجا تے ہیں جہاں سے مڑنا ناممکن ہوتاہے۔آگے راستہ بند ہوتا ہے، ہم گھبراجاتے ہیں اورپھرشورمچاتے ہیں،خوب شورمچا تے مچاتے بالآخرہمیشہ کیلۓ خاموش ہو جاتے ہیں۔
موت نہ ہو تو شاید زندگی ایک المیہ بن جائے،ایک طویل دورانئے کا بے ربط ڈرامہ کہ ٹی وی پر چلتارہے اورلوگ بورہوکرسوجاناپسند کریں۔ ایک یونانی کہاوت کے مطابق لا فانی دیوی کو ایک خوبرلیکن فانی انسان سے محبت ہوگئی۔اس نے غلطی کومحسوس کیا کہ یہ فانی انسان ہے مر جائے گا۔وہ دیوتاؤں کی ایک عظیم سردارکے پاس روتی ہوئی گئی کہ اے عظیم دیوتا! میرے محبوب کو لافانی بنادو۔دیوتا نے بڑی محبت سے سمجھایا کہ یہ ناممکن ہے،انسان کوموت کاحقداربنایاجاچکا ہے۔دیوی نے گریہ وزاری کے ساتھ اصرارکیاتوفیصلہ دیوی کی خواہش کے مطابق کردیا گیاکہ اسے موت نہیں آئے گی۔دیوی من کی مرادپانے پرخوش ہوگئی۔وقت گزرتاگیا،بڑھاپاآیا،خوبصورت چہرے پر جھریوں نے ڈیرہ ڈال دیا،توانائی کمزوری میں تبد یل ہوگئی،و قت کے ساتھ بینائی بھی رخصت ہو گئی،یادداشت نے ساتھ چھوڑ دیا۔''مضمحل ہو گئے قوأ سارے،" وہ انسان چلّا یا'' اے دیوی خدا کیلئےمجھے نجات دلاؤ میں اس عذاب کوبرداشت نہیں کرسکتا۔'' دیوی نے اپنی دوسری غلطی کوبھی محسوس کیا،پھردیوتاؤں کے سردارکے پاس حاضرہوئی کہ اے دیوتاؤں کے بادشاہ میرے محبوب کوموت عطا کر،انسان کوانسان کا انجام دے دو۔بس یہی راز ہے کہ انسان کوانسان کا انجام ہی راس آتاہے۔بات سمجھنے کی ہے،گھبرانے کی نہیں،مقام غورکا ہے خوف کانہیں۔ زندگی صرف عمل ہی نہیں عرصہ بھی ہے۔اگر صرف عمل ہوتاتوکوئی ہرج نہ تھا، اس عمل کیلئے ایک وقت بھی مقررہوچکا ہے۔
اس وقت کے اندراندرہی سب کچھ ہوناہے کیونکہ اس وقت کے بعد کچھ نہیں ہوتا۔ہمارا ہونا صرف نہ ہونے تک ہے۔اگرہم زندگی کودینے والے کاعمل مان لیں تواس کے ختم ہونے کا اند یشہ نہ رہے۔دینے والاہیزندگی لینے والاہے ۔ڈرکی کیا بات ہے،دن بنانے والے نے ہی رات بنائی ہے اوررات بنانے والاہی دن طلوع کرتاہے۔پہاڑبنانے والادریاو سمندربناتاہے،صحرابنانے والانخلستان پیدا فرماتا ہے ۔زندگی تخلیق کرنے والاموت کوپیدافرماتاہے،یہ اس کے اپنے اعمال ہیں،ہم صرف اس کے عطا کیے ہوئے حال پرزندگی گزارنے پر مجبورہیں۔اس نے زندگی اور موت کواس لیے پیداکیا کہ دیکھاجائے کہ کون کیاعمل کرتاہے۔اس کائنا ت میں کوئی بھی ایسا نہیں آیاجو گیانہ ہو۔کوئی پیدائش موت سے بچ نہیں سکتی،جوکچھ بھی ہے نہ ہوگا۔ہرشے لاشے ہوجائے گی مگرصرف میرے رب کی ذات ہے جوہمیشہ ہمیشہ رہے گی۔باقی سب فنا ہے۔
بے مصرّف زندگی کی سزاموت کاخوف ہی ہے،بامقصد حیات موت سے بے نیاز،موت کے خوف سے آزاد،اپنے مقصد کے حصول میں مصروف رہتی ہے۔عظیم انسان بھی مرتے ہیں لیکن ان کی موت ان کی عظمت میں اضافہ بھی کرتی ہے اوروں کیلۓ باعث صد رشک بھی۔موت انسان سے اس کی بلندنگاہی،بلندخیالی اوربلند ہمّتی نہیں چھین سکتی۔وہ لوگ موت کے سائے میں زندگی کے ترانے گاتے ہیں،زندگی کانغمہ الاپتے ہیں،زندگی کے اس مختصرعرصے میں جواں ہمّت تو آسمانوں کوچھوآئے۔۔عالی مرتبت عرش کی بلندیاں سرکرآئے اورکم حوصلہ اپنے اندیشوں کے خول سے باہرنہ نکلے۔موت فانی زندگی کودائمی حیات میں بدل دیتی ہے۔فناء سے بقاء کاسفر گھوڑے کی پشت پرہوتاہے۔موت کیلئے تیاررہو،موت کاخوف نہ کرو،بس یہی موت کا پیام ہے۔
موت کاغم اس لیے ہوتاہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے عزیزوں اورپیاروں سے جداہوجائیں گے ۔عزیزوں کوتوہم اپنی زندگی میں ہی جداکردیتے ہیں۔بیٹیوں کی رخصتی کیلئے کتنی دعائیں کرتے ہیں،کس قدرمناجات اورگڑگڑاکرجلدرخصتی کی تمنّادل میں رکھتے ہیں۔ہم صاحب تاثیراسی بزرگ کوکہتے ہیں جو ہماری بیٹیوں کوجلد رخصت کروادے اورآج کچھ صاحب تاثیرہیں کہ اپنی جدائی کیلئےدعاؤں میں نہ صر ف بخل کرتے ہیں بلکہ اس کے تصوّرسے بھی کانپ اٹھتے ہیں۔جدائی تو ایک دن ہوہی جانی ہے۔
ایک آدمی کاباپ فوت ہو گیا،وہ بڑارویا،بڑاپریشان ہوا!موت نے بڑاظلم کیا،اسے چین نہ آیا۔آخرکار اس نے ایک بزرگ استاد سے رجوع کیا۔اس نے جواب دیا''تم اتنے پریشان کیوں ہوتے ہو؟کچھ دنوں کی ہی توبات ہے تم بھی اپنے باپ کے پاس پہنچادیئے جاؤگے۔''بس یہی ہے موت کارازیا زندگی کا راز۔ہم کچھ عرصہ اپنی اولاد کے پاس رہتے ہیں اورپھراپنے ماں باپ سے جاملتے ہیں۔ بس یہ الگ بات ہے کہ بعض اچانک اورجلد اس سفرکو طے کرلیتے ہیں بلکہ ایک ہی جست میں ساری مسافت پھلانگ کرمنزل پرجاپہنچتے ہیں اوربعض اپنے مولا کے احکام کی بجا آوری میں مصروف رہتے ہیں۔بس! یہی موت اورزندگی کا فلسفہ ہے بلکہ ہرموت اپنے لواحقین کیلئےیہ پیغام چھوڑجاتی ہے کہ جلد یابدیرآپ نے بھی مجھے وہاں آکرملناہے۔جہا ں ہم سب بے بس اپنے مولاکی مغفرت کے منتظر ہوں گے۔
ذرااس حقیقت پربھی غورکریں کہ کتابِ زندگی کے ورق برابرالٹ رہے ہیں ہرآنے والی صبح ایک نیاورق الٹ دیتی ہے یہ الٹے ہوئے ورق بڑھ رہے ہیں اورباقی ماندہ ورق کم ہورہے ہیں اورایک دن وہ ہوگاجب ہم اپنی زندگی کا آخری ورق الٹ رہے ہوں گے،جونہی آنکھیں بند ہوں گی یہ کتاب بھی بندہوجائے گی اور ہماری یہ تصنيف محفوظ کردی جائے گی...کبھی غورکیااس کتاب میں ہم کیا درج کررہے ہیں،روزانہ کیاکچھ لکھ کرہم اس کاورق الٹ دیتے ہیں ہمیں شعورہویانہ ہوہماری یہ تصنيف تیارہورہی ہے اورہم اس کی ترتيب وتکمیل میں اپنی ساری قوتوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اس میں ہم وہ سب کچھ لکھ رہے ہیں جو ہم سوچتے ہیں دیکھتے ہیں سنتے ہیں اورسناتے ہیں اس میں صرف وہی کچھ نوٹ ہورہاہے جوہم نوٹ کررہے ہیں،اس کتاب کے مصنف ہم خودہیں۔ذراسوچیں...غورکریں کہ ہم اپنی کتابِ زندگی میں کیا درج کر رہے ہیں جبکہ میرے آقاکے ایک فرمان کے مطابق ملک الموت ہرروزہرذی نفس کے گھرکردروازے پرتین مرتبہ یہ منادی کرتاہے کہ"میں تمہارے گھرمیں باربارآتارہوں گا،یہاں تک تم میں سے کسی کوبھی باقی نہ چھوڑوں گا۔"
یہ الفاظ اس کے ہیں جوہرگھر،ہرعالیشان محفل اورہراس جگہ آتا ہے جہاں کوئی متنفس رہتا ہے۔دنیا میں کوئی انسان ایسانہیں جس کے پاس ملک الموت نے نہیں آنا۔ہرایک کے پاس آناہے،شاہ وگدا کے پاس بھی،امیروغریب کے پاس بھی،صحت منداوربیمارکے پاس بھی،نبی اورولی کے پاس بھی، کوئی حاجب ودربان،کوئی چوکیداراورپہرے داراورکوئی تالہ ودروازہ اسے اندرجانے سے نہیں روک سکتا۔
حافظ ابن ابی الدنیا نے نقل کیاہے کہ سیدناحسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ملک الموت ہرگھرمیں تین مرتبہ روزانہ چکرلگاکردیکھتے ہیں کہ کس کارزق پوراہوگیا،کس کی مدت عمر پوری ہوگئی۔جس کارزق پوراہوجاتاہے۔اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اورجب اس کے گھروالے اس کی موت پرروتے ہیں توملک الموت دروازے کی چوکھٹ پرکھڑے ہوکرکہتے ہیں۔"میراکوئی گناہ نہیں۔مجھے تواسی کاحکم دیاگیاہے۔واللہ!میں نے نہ تواس کارزق کھایااورنہ اس کی عمر گھٹائی ،نہ اس کی مدت عمرسے کچھ حصّہ کم کیا۔ میں تمہارے گھروں میں باربار آتا رہوں گا یہاں تک کہ تم میں سے کسی کو بھی باقی نہیں چھوڑوں گا۔"
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:اگر میت کے گھر والے ملک الموت کا کھڑا ہونا دیکھ لیں اور اس کا کلام سن لیں تواپنی میت کو بالکل بھول جائیں اوراپنے اوپررونا شروع کردیں۔
مرحومہ اس فانی دنیاسے داربقأکی طرف تشریف لے گئی ہیں۔اس عا رضی زندگی کی بہاروں اور گلوں کی خوشبو سے منہ موڑکردایٔمی بہار،سدا خوشبوؤں ومہک کے گلستانوں میں براجمان ہوگئی ہیں۔اپنے ہرتعّلق رکھنے والوں کوچھوڑکراپنے مولاکے ساتھ مضبوط تعلق ورشتہ جوڑچکی ہیں۔ انہوں نے توزندگی میں ہی اپنے رب سے ایسی مناجات شروع کردی تھی کہ جہاں بندہ اپنے رب اوررسول کے وصل کیلئے بیتاب رہتاہےاورپھرموت توکوئی نئی چیزنہیں۔موت ہرایک کوآنی ہے ۔ موت کے قا نون سے نہ توکوئی نبی مستثنیٰ ہے نہ کوئی ولی۔جوبھی آیاہے اپنا وقت پوراکرکے اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔موت زندگی کی سب سے بڑی محافظ ہے۔ہم سب اس کی امانت ہیں، پھرکس کی مجال جواس میں خیانت کرسکے۔موت لکھی نہ ہوتوموت زندگی کی خودحفاظت کرتی ہے اورجب مقدرہوتوزندگی دوڑتی ہوئی موت سے لپٹ جاتی ہے۔زندگی سے زیادہ کوئی جی نہیں سکتااورموت سے پہلے کوئی مرنہیں سکتا۔
میرا کریم رب یقیناً ان سے بڑا فیاضانہ سلوک فرمائیں گے اوریقیناًمرحومہ اپنے تمام حسنات کے طفیل بہت ہی شاداں اورفرحاں ہوں گی۔آپ نے زندگی بھر اپنے ربّ کریم سے کئی مناجات کی ہوں گی اوریقیناًمیراکریم رب اپنے نیک بندوں کی دعاؤں کوضرورقبول کرتاہے۔ ربّ رحمان سے میری دعا ہے کہ آپ سب کو اس دنیااورآخرت میں اس صبر کا بہت ہی احسن نعم البدل عطا فر مائے۔ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اورروزِ جزاکے دن ہمارے اورآپ سب کے آقاختم الرسول ۖ کےدستِ مبارک سے حوضِ کوثرپرشفاعت کاپروانہ نصیب ہواورہم سب کوبھی موت کی تیّاری کی فکر نصیب فرمائے۔آ مین
رب العزت کی بارگاہ میں مرحومہ کے درجات کی بلندی اوراس دعاکے ساتھ آپ سے اجازت چاہتا ہوں کہ بارالہ۔۔۔ہماری جنت کااپنی جنت میں خوب خیال رکھنا۔ میری طرف سے بالخصوص اپنے تمام بہن بھائیوں اوراپنے تمام متعلقہ عزیزو اقارب کومیراتعزیتی پیغام ضرورپہنچادیں۔ اللہ تبارک تعالیٰ آپ سب کوخوش وخرم رکھے اور دونوں جہانوں کی تمام نعمتوں سے سرفراز فرمائے۔ آمین۔ ربّ العزت ہمیں دنیاکے تمام امتحانات میں سرخروفرمائے اورروزِ قیامت اللہ کے رسولۖ کے سامنے شرمندہ ہونے سے محفوظ فرمائے۔ثم آمین
بیٹھے تھے گھنی چھائوں میں اس کی خبرنہ تھی
بڑھ جائے گی دھوپ اوریہ سایہ نہ رہے گا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 466 Articles with 150149 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Oct, 2018 Views: 243

Comments

آپ کی رائے