متاع جان کا نذرانہ

(Mona Shehzad, Calgary)

سخت سردی ہڈیوں میں گھس رہی تھی،سعد نے دوربین دوربین آنکھوں سے لگائی تو دور سے آسمان اور زمین ملتے نظر آرہے تھے، سعد نے اویس کو مخاطب کرکے کہا :

"یارا! برف کا طوفان آرہا ہے ۔یہ سیاہی مائل آسمان اس کی نشاندہی کررہا ہے۔"

اویس نے چائے کی کیتلی میں سے چائے ڈالی اور کپکپاتے ہاتھوں سے سعد کو دی۔اس وقت ان کی تعیناتی روئے زمین کی سب سے مشکل فوجی چوکی پر تھی۔ جی ہاں ہزاروں کلومیٹر اونچی سیاچن گلیشیئر کی اس چوکی میں موجود وہ دو زی روح تھے۔ان کے چار ساتھی کل ہی ایئر ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال بھیجے گئے تھے ۔جن میں سے دو Freeze bite کے باعث اپنے پیر کھو بیٹھے تھے ۔جب کہ دو شدید سانس کی بیماری میں مبتلا ہوگئے تھے ۔یہ دنیا کا وہ محاز تھا جہاں سے صحتمند اور زندہ بچ کر جانا ناممکنات میں سے تھا۔ مگر پاک فوج کے البیلے اس خوف سے بے بہرہ تھے۔ان کی کمک کل متوقع تھی مگر بگڑتے موسم کے تیور بتا رہے تھے کہ امید کم تھی کہ کمک وقت پر پہنچ سکتی۔انھوں نے برف کے خاص سفید سوٹ اور دستانے پہنے ہوئے تھے ،مگر پھر بھی لگتا تھا جیسے اس برف کے خلاف نبردآزما ہونے کے لئے یہ کم تیاری یو۔

سعد نے دوربین آنکھوں سے لگائی تو اسے دشمن چوکی سے کچھ سائے برف میں مدغم ہوتے نظر آئے ۔وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا اور بولا:

"اویسے اللہ نے تیری میری دعا سن لی ہے ،اب تو غازی بن کر گھر جائنگے یا شہادت کا تاج پہن کر ۔مکار لومڑی ہم پر حملہ کرنے آرہی ہے۔ تیاری کرلے۔"

دونوں بیلیوں نے سجدہ شکر ادا کیا اور اپنے مورچے پر ڈٹ گئے۔ جیسے ہی بھارتی لومڑیاں ان کی فائرنگ رینج میں آئیں، انھوں نے فائر کھول دیا ۔برف اڑی اور دور دور تک سرخ خون پھیل گیا۔

مگر اویس اور سعد کی توقع کے خلاف حملہ آوروں کی پیش قدمی نہیں رکی،ایسے لگتا تھا جیسے انھوں نے بھاری کمک اور رسد منگوائی ہوئی تھی ۔ایک ٹڈی دل بھارتی سپاہی گرتا تو اس کی جگہ دوسرا لے لیتا۔

حملہ شروع ہوئے اٹھارہ گھنٹے گزر چکے تھے۔دونوں جوان زخموں سے چور تھے، اویس نے محسوس کیا کہ سعد کی فائرنگ رک چکی تھی ۔وہ اس کے قریب پہنچا تو پتا چلا کہ وہ شہادت کا جام نوش کر چکا تھا ۔

صبح کا سویرا ہوچکا تھا،اویس کا سانس رک رک کر آرہا تھا مگر اس کے بازو مشین گن ابھی بھی چلا رہے تھے ۔وہ اللہ تعالی سے گڑگڑا رہا تھا کہ اس کو اتنی مہلت مل جائے کہ کمک پہنچ جائے۔آخر اس کی سماعت نے ہیلی کاپٹر کی آواز سنی۔کمک پہنچ چکی تھی ۔نعرہ تکبیر کی گونج ہوا میں پھیل گئی تھی ۔اویس نے مسکرا کر کلمہ شہادت پڑھا اور جان جان آفرین کے سپرد کردی۔ نئی کمک کے جوان جب مورچہ میں پہنچے تو شہدا کی لاش کو سلیوٹ کیا اور فضا نعرہ تکبیر سے گونجنے لگی۔
اے وطن ، تو سبز رہے بس یہ ہے جنون۔۔
اس لئے تو متاع جان تجھ پر ہم وارتے ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mona Shehzad

Read More Articles by Mona Shehzad: 168 Articles with 178336 views »
I used to write with my maiden name during my student life. After marriage we came to Canada, I got occupied in making and bringing up of my family. .. View More
16 Oct, 2018 Views: 558

Comments

آپ کی رائے