فرشتہ یا انسان

(Adil Abbasi, )

 بے شک انسان اشرف المخلوقات ہے یعنی کے انسان کو تما م مخلوقات سے افضل بنایا گیا۔ ان مخلوق میں تمام قسم کے جن، پرند، حیوان حتیٰ کہ فرشتہ سے بھی افضل لیکن انسان یہ بات بھول جاتا ہے۔ وہ افضل ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو نیچ کردیتا ہے کبھی یہ حرکت اپنے آپ کو پیسے کی بدولت بیچ کرکرتا ہے اور کبھی پیسے کی بدولت کسی بے گناہ انسان کو مار کرکرتا ہے اور کبھی کبھی انتہا کو پہنچ کر بنتِ حوا کو حوس کا نشانہ بنانا کر نیچ اور گھٹیا پن کی آخری حد بھی پار کردیتا ہے۔ اور اپنے آپ کو معصوم ظاہر کرتا ہے۔اور کچھ انسانوں کا تو سوچنے کا زاویہ بھی مختلف ہے اپنی حرکا ت پر بہترین وکیل اور دوسروں کی حرکات پر بہترین جج بن جاتا ہے۔جب اپنا کوئی غلط کام کرے تو اس کی حمایت کرتا ہے دوسروں کو پھانسی کا مطالبہ کرتا رہتا ہے۔ خود پورا دن کھڑا دوسروں کی ماوْں ،بہنوں کو غلیظ نظروں سے دیکھتا ہے جب اس کی عورتوں کو کوئی دیکھ لے آگ بگولا ہوجاتا ہے اور قتل کرنے پہ تلا ہوتا ہے۔ یہی انسان جب اپنی بیٹی کی شادی کرتا ہے تو بڑی خواہش کے ساتھ کہ اس کے سسرال اس کو ہمیشہ خوش رکھیں کبھی اس کو کوئی تکلیف نہ دے لیکن جب اپنی بہو لاتا ہے تو چاہتا کہ وہ نوکرانی بن کہ رہے۔یہ تو انسان کی صفات نہیں ہیں۔ ہمیں اپنی عادات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ہم جو دوسروں سے چاہتے ہیں ہمیں بھی وہی دوسروں کیلیے وہی کرنا چاہیے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Adil Abbasi

Read More Articles by Adil Abbasi: 4 Articles with 2588 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Oct, 2018 Views: 620

Comments

آپ کی رائے