پچھتاوا

(Chaudhry Mohammed Zulfiqar, )

اردو میں لکیر کے فقیر ،لکیر مٹانا،لکیر عبور کرنا اور لکیر پیٹنا ضرب مثل استعمال ہوتے ہیں۔ شروع تو سب لکیر سے ہی ہوتے ہیں لیکن ہر ایک اپنے الگ معانی رکھتا ہے۔ ان میں لکیر پیٹنا۔سستی ،لاپرواہی،لاعلمی اور حرص کی وجہ سےنقصان کر کے پچھتانے کو لکیر پیٹنا کہتے ہیں ۔ سستی ،لاپرواہی،لاعلمی،اور حرص میں کی گئی انفرادی غلطی پہ فرد واحد پچھتاتا ہےاور اجتماعی غلطی پہ پورا معاشرہ (پوری قوم) کو پچھتانا پڑتا ہے۔ اکثر سوائے لکیر پیٹنے کے کچھ حاصل نہیں ہے۔ مثلاًیہودیوں نے جب فلسطین پہ قبضہ کرنے کا پرو گرام بنایا تووہ انفرادی طور پہ فلسطین آکر آباد ہونے لگے۔ فلسطینیوں سے مکان بہت مہنگے داموں بلکہ منہ مانگی قیمت پہ خریدنا شروع کئیے۔ فلسطینی ڈالر اور پونڈ کی لالچ میں اپنی منہ مانگی قیمت پا کر پھولے نہ سماتے تھے۔اپنے دیگر دوست و احباب کو بھی مکان اور دیگر زرعی زمین بیچنے پہ آمادہ کرتے۔ اسرائیلی دھڑا دھڑ مکانات اور زرعی خرید رہے تھے اور فلسطینی دھڑا دھڑ بیچتے جارہے تھے۔ انیس سو اڑتالیس میں جب برطانیہ کی آشیرواد سے یہودیوں نے فلسطین میں اپنی سٹیٹ کا اعلان کیا تو فلسطین کا بہت بڑاحصہ فلسطینیوں سے خرید کر اپنی ذاتی ملکیت بنا چکے تھے۔اور آج غزہ میں قیدیوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ بلکہ اس وقت کرہ ارض پہ سب سے بڑی جیل غزہ ہی ہے۔ تین طرف سے اسرائیل محاصرہ کئیے ہوئے ہے۔ مصر کے انور سادات نے انیس سو اکیاسی میں اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کرکے فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ پھر حسنی مبارک نے اپنے چونتیس سالہ دور حکومت میں اسرائیل کا بھرپور ساتھ دیا۔ محمد مرسی نے اپنے دور حکومت میں فلسطینیوں کو اپنا مسلمان بھائی جانتے ہوئے مکمل تعاون کیا۔ مصر کا بارڈر انکے لئیے کھول دیا۔ لیکن جرنل فتح السیسی نےآتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ فلسطین کا بارڈر بند کر دیا اور فلسطینی پھر غزہ میں قید کی زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں۔ اب اپنی ابتدائی غلطی (مکانات اور زرعی زمین بیچنے )پہ پچھتائے رہے ہیں۔ مگر اب لکیر پیٹنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

اسی طرح انیس سو اڑتالیس میں مجاہدین افغانستان انڈین فوج کو اپنے پاؤں تلے روندتے ہوئے سری نگر تک جا پہنچے تھے۔ پورے کشمیر پہ قبضہ چند دن نہیں صرف چند گھنٹوں میں ہونے جا رہا تھا۔ مگر سیکولر لیاقت علی خاں نے جرنل گریسی کے وعدہ پہ جنگ بند کرا دی۔ اب ستر سال سے پاکستان کشمیر کی آزادی کی بھیک مانگ رہا ہے۔ لاکھوں ہمارے کشمیری بھائی کشمیر کی آزادی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے۔ کتنی ہماری بہنوں بیٹیوں کی ہندوؤں عصمتیں پارہ پارہ کر چکے۔ کتنے بچے یتیم ہوچکےمگر ہندو ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ اور ہم ستر سال سے اپنی غلطی یا مستی پہ پچھتا رہے ہیں۔ لیکن ہم لکیر نہیں پیٹ رہے ہیں کیونکہ لیاقت علی خاں سیکولر تھا اور پاکستان کا ہر سیکولر گنگا نہایا ہوا ہے۔

اسی طرح میں بہت لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے یہاں یو کے میں آکر اپنی پوری توجہ پونڈ کمانے پہ مرکوز کر دی۔ اور خوب پونڈ کمائے۔ اولاد کی طرف بالکل دھیان نہ دیا۔ اگر کوشش کی بھی تو یہ کوشش کی کہ میری اولاد انجنئیر بن جائے ڈاکٹر بن جائے وکیل بن جائے وغیرہ وغیرہ۔ بہت ہی کم لوگوں نے کوشش کی کہ میری اولاد یہاں دیار کفر میں ڈاکٹر ،انجنئیر کے ساتھ ساتھ ایک اچھا مسلمان بھی بن جائے۔ اور اس لا پروائی اور کوتائی کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں بچے اپنے دین سے اتنے دور ہوئے کہ جب لندن میں ہوموسیکس والوں نے اپنی آزادی اور اس گھناؤنے کبیرہ گناہ کی قانونی حیثیت کے لئیے جلوس نکالا تو جلوس کی قیادت کرنے والی لڑکی میاں چنوں ضلع خانیوال پاکستان کے رہنے والے پاکستانی مسلمان کی صاحبزادی تھی۔

میں ایسے حضرات کو جانتا ہوں کہ جن کے بنک اکاؤنٹ پاؤنڈز سے بھرے پڑے تھے مگر انہوں اولاد کے ہاتھوں مجبور ہو کر خودکشی کی۔بنک پاؤنڈز سے بھرے پڑے ہیں اولاد موجود ہے اور ہسپتال سے کوئی لاش وصول کرنے والا کوئی نہ تھا۔اولاد کے ہوتے ہوئے والد کی لاش فلیٹ میں گھلتی سڑتی رہی۔ کئی روز بعد لاش کی بدبو کی وجہ سے ہمسائیوں نے پولیس کو آگاہ کیا۔ اولاد پولیس کے کہنے پہ آئی۔ ان گنت عبرت ناک داستانیں ہیں۔ کس کس کا تذکرہ کروں۔پورے یو کے میں سب سے گھناؤنے جرائم میں مسلمان جیل کاٹ رہے ہیں۔ بقول مولانا طارق جمیل صاحب جس جیل کی میں (مولانا طارق جمیل)نے وزٹ کی اس میں اکثر مسلمان نوجوان ڈرگ کے کیسز میں سزا یافتہ تھے۔اب تو پورے یو کے میں ایشین اولڈ پیپلز ہوم اور مسلم اولڈ پیپلز ہوم بن چکے ہیں۔یہ تو اللہ بھلا کرے تبلیغی جماعت والوں کا کہ انہوں نے اپنی جان،اپنا وقت اور اپنا مال خرچ کر کے لوگوں پہ محنت کی اور مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو دینی لحاظ سے تباہ ہونے سے بچا لیا۔ تقریباً ہر بڑے شہر میں دینی تعلیم کے لئیے مدارس قائم کئیے۔ شنید ہے کہ بلیک برن کے ایک محلے میں دو سو حافظ قرآن ہیں۔اسی طرح مسلمانوں کی دیگر بہت سی تنظمیں دین کا کام کر رہی ہیں اور ان سے یہاں یو کے میں مسلمان مستفید ہو رہے ہیں۔ الحمدا للّٰہ۔ جن مسلمانوں نے اولاد کی تربیت میں سستی ،لاپرواہی بھرتی اور پاؤنڈز کی حرص میں اپنی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری پوری نہیں کی وہ اذیت ناک زندگی گزارنے کے ساتھ پچھتا رہے ہیں۔ یہاں کی اذیت یا پچھتاوا تو موت کے ساتھ ختم ہو جائیگا۔ مگر اللہ رب العزت کے سامنے جوابدہی بہت مشکل معاملہ ہے۔ ہم سب کو اس جواب دہی کی فکر کرتے ہوئے اپنی اولاد کی تربیت کی طرف ہر لحاظ سے فوقیت دینی چاہئیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ صدقہ جاریہ میں سے افضل صدقہ جا ریہ صالح اولاد ہے۔صالح اولاد اس دنیا میں بھی والدین کے لئیے باعث راحت وسکون اور آخرت میں مغفرت اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہےاور جن لوگوں نےیہاں یو کے میں رہتے ہوئے اپنی دینی اور اخلاقی ذمہ داری بھرپور طریقہ سے نبھائی وہ یہاں بھی راحت وسکون میں ہیں اور ان شاء اللہ کل آخرت میں بھی سر خرو ہونگے۔ تحدیث نعمت کے طور عرض کرتا ہوں کہ میری بیٹی اپنی یونیورسٹی میں اسلامک سوسائٹی کی ہیڈ تھی۔

اگر والدین اپنی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری بھرپور طریقے سے انجام دیں اور اللہ تعالی سے اپنی اور اپنی اولاد کی عافیت طلب کرتے رہیں تو یقیناً اللہ سبحانہ و تعالی ہماری اور ہماری اولاد کی حفاظت فرمائیں گے۔مفتی تقی عثمانی صاحب نے فرمایا ہے کہ سمارٹ فون اس دور کا خطرناک ترین فتنہ ہے۔ ہر والدین اپنے بچوں کو اس فتنہ سے بچانے کی کوشش کرے۔ نہ پچھتانا پڑےگا اور نہ ہی لکیر پیٹنا پڑی گی۔ ان شاء اللہ

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Chaudhry M Zulfiqar

Read More Articles by Chaudhry M Zulfiqar: 18 Articles with 10680 views »
I am a poet and a columnist... View More
23 Oct, 2018 Views: 643

Comments

آپ کی رائے
May Allah guide us all.
By: Shareef Mohammad, Peshawar on Nov, 13 2018
Reply Reply
0 Like