خواب جن کی کوئی تعبیر نہیں

(Qadir Khan, Lahore)

موجودہ حکومت کے 100روزہ ابتدائی منشور کی پہلی’’ قرضہ و امداد حصولی کی کامیابی‘‘ پر پی ٹی آئی نے ٹھنڈی سانس بھری ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کو بھرپور تنقید کا موقع بھی میسر آگیا ہے ۔ اس پر جملہ حقوق محفوظ رکھتے ہیں ۔کیونکہ تحریک انصاف اور ان کی اتحادی جماعتوں نے پانچ برس حکومت’’ کرنی ‘‘ہے اس لئے پاکستان میں مستحکم اور مربوط پالیسیوں کے تسلسل کے لئے ذاتی طور تمام تر تحفظات کے باوجود’’ حمایت‘‘ کی حمایت کرتا ہوں کہ نئے پاکستان میں تبدیلی کی اس سونامی کو گزشتہ حکومتوں کی طرح پوری’ مدت‘ دی جائے۔فیض آباد، ڈی چوک والی دھرنوں کی روایت بحال نہ کریں ۔ کنٹینر سیاست نہ کی جائے ، پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنا اچھا عمل نہیں ، سول نافرمانی کی تحریک نہ چلائی جائے(ناکامی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں )، ترسیلات زر کے لئے ہنڈی کے استعمال کا مشورہ تو بالکل مت دیجئے گا ۔ یوٹیلٹی بل سرعام نذر آتش نہ کریں۔ (اس سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے)۔ قرض لینے پر بھکاری ہونے کا طعنہ غیر اخلاقی طرز عمل ہے۔ یو ٹرن ، یو ٹرن اور گو عمران گو کی نعرے بازی سے پرہیز کیاجائے۔( پرہیز بیماری سے بہتر علاج ہے)۔ ذاتی طور پر میں اس بات کا شدید مخالف ہوں کہ اپوزیشن جماعتیں یا کوئی بھی تنظیم عام عوام کو پریشان کریں۔ یہ عمل پہلے بھی اچھا اقدا م نہیں سمجھتا تھا ۔ اب بھی یہی گذارش ہے کہ گر جو کرنا ہے پارلیمان کے اندر کریں۔ حکومت کو ٹف ٹائم دیں تاکہ وہ عوام سے کئے جانے والے وعدے پورے کرے۔سڑکوں پر آکر قومی املاک پر قبضے اور جلاؤ گھیراؤ سے عام عوا م کا نقصان ہوتا ہے۔ (ارزہ کرم ایمپائر کو تنگ مت کرنا)۔

پاکستان کی عوام پر بڑا کڑا وقت ہے ۔ بجلی ، گیس ، پٹرول اور ضروریات زندگی کی اشیا ء صرف کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے( کوئی قیامت تو نہیں آئی) ۔ اس کے علاوہ عوام گھاس کھائیں گے لیکن قرض لیں گے ، کے بھی عادی بن گئے ہیں ۔ ایٹم بم تو گھاس پھوس کھا کر بنا لیا ۔ ایٹم بم بنانے کی بہت بڑی قیمت بھی دینا پڑی ۔ ایٹمی تجربہ بھی کرلیا۔ سخت معاشی بحران بھی مسلسل آرہے ہیں ۔ لیکن عوام نے سب کچھ برداشت کیا ۔ اب یہ دشوار گذاردور بھی کسی نہ کسی برداشت کر ہی لیں گے ۔ گر کچھ مشکلات راہ میں حائل ہو رہی ہیں تو عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا جاسکتا ہے عدلیہ آزاد ہے ۔ انسانی حقوق کی فراہمی کے لئے چیف جسٹس کا عزم قابل تعریف ہے اس لئے جہاں ثابت ہورہا ہو کہ حکومتی اقدامات سے عوام کی بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں تو برائے مہربانی عدالت عالیہ و عظمیٰ سے ہی رجوع کریں۔

سعودی عرب نے بالاآخر پاکستان کا بڑے مشکل وقت میں ساتھ دے ہی دیا ( شکریہ شاہ سلمان) لیکن یقیناََ یہ آوازیں ضرور اٹھیں گی کہ پاکستان نے سعودی امداد کے بدلے میں کیا غیر اعلاینہ معاہدے کئے ہیں ۔ ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ ان آوازوں پر کان ہی نہ دھریں ۔ اس بات پر کچھ اطمینان ہے کہ اب آ ئی ایم ایف کادباؤ کم ہوجائے ہوگا ۔ملائیشیا اور چین کے دورے میں بھی وزیر اعظم کی کوششیں گر رنگ لے آئیں تو ممکن ہے کہ عمران خان کی اس بات کی کم ازکم لاج رہ جائے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر ہے کہ خود کشی کرلوں ۔ اﷲ نہ کرے ایسا کوئی عمل کسی بھی انسان کے ساتھ پیش آئے۔ گزشتہ دنوں ایک غریب محنت کش نے رکشے کے چالان پر خود سوزی نے دل بہت اداس کردیا ہے کہ مالی پریشانیاں اچھے بھلے انسان کی ساری خوشیوں کو آگ لگا سکتی ہے۔اب پولیس اہلکار کے خلاف کوئی کاروائی ہو رہی ہے تو اس ناقابل تلافی نقصان کا مدوا تو ممکن نہیں جو اس محنت کش کے خاندان کو اٹھانا پڑرہا ہے۔ حکومت کی مالی حالت ویسے ہی پتلی ہے ورنہ متا ثرہ فیملی کچھ مالی امداد دے دیتی۔( اب ہر کوئی طاہرہ حبیب جالب کی طرح بہادر خود د ار تونہیں ہوتا)۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اپوزیشن نے حکومت کے لئے مشکلات کھڑی کرنے کے لئے کوششیں شروع کرنے کا ارادہ کرلیا ہے ۔ لیکن دیکھنا تو یہ ہے کہ پہلے یہ خود اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل بھی ہوسکیں گے کہ نہیں۔حکومت کے خلاف متفقہ محاذ فی الوقت بہت مہلت طلب ہے ۔ کیونکہ عوام کا رویہ ابھی زبانی غم و غصہ تک محدود ہے ۔ سڑکوں پر آنے کے لئے ابھی ذہنی طور پر تیار نہیں ہیں۔ورنہ اتنی مہنگائی اور حکومت کے ابتدائی دنوں میں ہی سخت اقدامات کے بعد تو ایسا لگ رہا تھا کہ عوام کے صبر کا پیمانہ کسی بھی لمحے لبریز ہوسکتا ہے ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ۔(شائد آر ٹی ایس سسٹم فعال نہیں ہے)۔بہرحال تمام تنقید و اعتراضات سے قطع نظر پاکستان کی عوام چاہتی ہے کہ ملک میں ایسی کوئی صورتحال پیش نہ آئے کہ انہیں ’’ میرے عزیز ہم وطنوں ‘‘ کے خطاب کے بعد مٹھائیاں تقسیم کرنا پڑیں۔ تحر یک انصاف کا بیانیہ’’ مقبول‘‘ ہورہا ہے کہ حکومت میں آئے60روز ہی ہوئے ہیں تھوڑا صبر کریں سب ٹھیک ہوجائے گا ۔
وزیر اعظم کی جانب سے پاکستانی خزانے خالی ہونے اور معاشی صورتحال کا ایسا نقشہ پیش کیا جاتا رہا ہے کہ سخت سے سخت دل بھی پیسج ہے ۔ اگر میڈیا انڈسٹری بحران کا شکار نہیں ہوتی اور الیکڑونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی دال روٹی کو لالے نہیں پڑ ے ہوتے تو یقین جانیں کہ ہمارے میڈیا ہاؤسز ایسے ایسے پروگرام لائیو چلاتے کہ امریکا بھی پاکستان کی رو کی گئی امداد کو بحال کردیتا ۔بس مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت میڈیا انڈسٹری کا بحران، جان کی امان پاؤں کی طرح سنگین ہوتا جارہا ہے ۔ جس طرح وزیراعظم نے ملکی خزانے کے لئے اپنے سخت بیانات کے برخلاف قرض اور امداد لینے کے لئے میدان عمل میں آنے کا صائب عمل کیا ، میڈیا انڈسٹری بھی توقع کررہی ہے کہ انہیں بھی کوئی’’ بیل آؤٹ ‘‘ مل جائے۔

یہ امر قابل اطمینان ہے کہ جہاں عمران خان سعودی عرب کو قائل کرنے ( ہونے) میں کامیا ب ہوئے ۔ ملائیشیا اور چین کے دوروں کے بعد امریکا کی جانب سے دوبارہ ڈو مور کا مطالبہ کئے جانے کا اثر کم ہوجائے گا اور پاکستان ایف ٹی ایف لسٹ سے اپنا نام نکالنے میں بھی کامیاب ہوجائے گا۔بھارت کشمیر میں اپنی حیوانی جبلت کا جو مظاہرہ کررہا ہے ۔اس کو بھی لگام دینے کے لئے کمر کسنے کا موقع مل جائے گا ۔ وزیر خزانہ بھی سخت دباؤ سے باہر آنے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ دسمبر میں ریلوے کا خسارہ ختم ہوجائے گا( بقول وزیر ریلوے)۔ تین برس میں حکومتی خسارہ بھی ختم ہوجائے گا( حکومتی دعوے)۔ تو ان خوش کن اعلانات پر وقت سے قبل تنقید کرنے سے بہتر ہے کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی نئی وارننگ پر توجہ مرکوز کرلی جائے۔( قرضے و امداد وغیرہ لینے سے امریکا سے دو دو ہاتھ نہ کریں)۔ ویسے امریکا بھی جانتا ہے کہ وارننگ دے دیکر بے وقعت ہورہے ہیں ۔ امریکا ، افغانستان میں افغان طالبان سے 70فیصد رقبے سے عمل داری ختم کرالے تو یہی بڑی بات ہے۔ افغان طالبان سے دو مرتبہ براہ راست مذاکرا ت ہو تو گئے ہیں ۔17 برسوں کی ناکامی کا نزلہ پاکستان پر کتنا گرائیں گے ۔ ( عجیب دائمی نزلہ ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا)۔

وزیر اعظم کی پہلی ’’ کامیابی‘‘ پر مبارکباد دینے والوں کو بہت بہت مبارکباد کہ سعودی عرب سے ایک اچھا پیکچ لینے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان کے لئے ویزہ فیس میں کمی باعث مسرت ہے۔لیکن100روز میں کیا کیا کرنے تھے اور اب کیا ( فی الحال )ممکن نہیں ہے اس کے لئے اگر ابھی سے عوام کو اعتماد میں لے لیں تو اچھی بات ہوگی۔ اپوزیشن تو ایک ایک پوائنٹ کو لیکر خوب سیاست کرے گی اور کچھ تھوڑا بہت نقار خانے میں طوطی کی جتنی آواز لئے ہم بھی قلم تیز کریں گے( کیا کریں عادت سے مجبور ہیں ) ۔ لیکن خاطر جمع رکھیں راقم کا مقصد جاگتے رہو ، میرے آسرے پر مت رہنا ہوگا ۔کیونکہ میں ایسے خواب نہیں دیکھتا جس کی تعبیر نہیں ہوتی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 379 Articles with 150878 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Oct, 2018 Views: 230

Comments

آپ کی رائے