زرداری کا حکومت کے خلاف اعلانِ جنگ

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے آتے ہی عوام نے بہت ہی زیادہ امیدیں باندھ لی تھیں۔عمران خان پاکستانی معاشرئے میں ایک امید کا نشان ہیں۔ عمران خان کے ذاتی کردار پر بات کرنے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے باقاعدہ طور پر شیخ رشید کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی کردار کُشی کے لیے رکھا ہوا تھااور عورت کی حکمرانی کے خلاف طرح طرح کے فتوئے ن لیگ بے نظیر بھٹو کے خلاف شائع کرواتی پھر رہی تھی۔شیخ رشید جو ایک عوامی آدمی ہیں اِنھوں نے نواز شریف کی حمایت میں وہ زبان محترمہ بے نظیر کے خلاف استعمال کی کہ خد اکی پناہ۔ عورت کی حکمرانی کے خلاف فتوئے شائع کروانے والی ن لیگ اب مستقبل میں مریم نواز کو وزیر اعظم کے لیے بھر پور کو شش میں مصروف عمل ہے۔ اِسی لیے تو شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا امیج ن لیگیوں میں اِس طرح کا پینٹ کیا گیا ہے کہ یہ تو اِس اہل ہی نہیں ہیں۔ یہ تو تھیں کالم کے آغاز میں ماضی اور حال سے جڑی ہوئی باتیں۔

عمران خان کی جانب سے ایسا بیان کہ نوکر شاہی تعاون نہیں کر رہی ہے۔کبھی کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا کبھی کہتے ہیں کہ جانا ہے۔ عمران خان کے اوپنر بیٹسمین جناب اسد عمر کی جانب سے جو رویہ سامنے آیا ہے وہ تحریک انصاف کے کارکنوں کے لیے بالخصوص اور عوام الناس کے لیے بالعموم انتہائی عجیب ٹھرا ہے۔ موصوف اپوزیشن میں دئیے گئے اپنے ہی بیانوں کے خلاف اندھا دھند بیان داغ رہے ہیں اور تو اور اسحاق ڈار کے ویژن کو بھی درست قرار دئے چکے ہیں اور نواز شریف کی معاشی ٹیم کے لوگوں کو بھی اپنے گلے کا ہار بنائے ہوئے ہیں۔

پاکستان کی انتہائی بدقسمتی ہوگی کہ عمران خان اگر فیل ہو جاتے ہیں یقینی طور پر کرکٹ کھیلنے اور ملک چلانے میں بہت فرق ہے۔ لیکن عمران خان دیانتدار اور بہادر آدمی ہیں نمل کالج میانوالی اور شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر اور اِن ہر دو اداروں کا پاکستان کے عام لوگوں کو خدمات دینا اِس با ت کی دلالت ہے کہ عمران خان کے اندر قائدانہ صلاحیتیں بدرجہ اُتم موجود ہیں۔ اِس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ عمران خان کی نجی زندگی کو بہت زیادہ سکینڈلائز کیا گیا ہے ، یہ ن لیگ کے پاس ایک بہت بڑا ہتھیار رہا ہے کہ وہ خود کو رائٹ ونگ کی جماعت کہتی رہی ہے اور اسلام پسندی کا لیبل لگا کر مخالف سیا ستدانوں پر اخلاقی الزمات لگاتی رہی ہے۔بے نظیر بھٹو کے معاملے میں بھی ن لیگ یہ کر چکی ہے۔عمران خان کے خلاف تو سب کچھ کل کی بات ہے۔

عمران خان کی جانب سے اقتصادی مسائل کے حل کے لیے ٹیم کا نہ ہونا بہت بڑا المیہ ہے۔ کنٹینر کی سیاست کے بعد جب حکومت ملی ہے تو عمران خان کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوا ہے۔ اپوزیشن کرنا بڑا آسان کام ہے پاکستان جسے ترقی پذیر ممالک میں جہاں ہمیشہ سے مخالفین کی عزتوں کا جنازہ نکالا جاتا رہا ہے ا س ماحول میں تحریک انصاف نے بہت زبردست اپوزیشن کی ہے ۔ بلکہ فواد چوہدری اورفیاص الحسن چوہان جیسے لوگ ایسے کاموں کے لیے ہی رکھے جاتے ہیں جو وہ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں نیب کاادارہ اپنا امیج بہتر نہیں بنا سکا۔ اعلیٰ عدلیہ بھی نیب سے شاکی رہتی ہے۔ اِن حالات میں جب شہباز شریف کو نیب کی حراست میں کا فی دن گزر چکے ہیں اور ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی کارکردگی بھی منفی رہی ہے۔ عام تاثر یہی اُبھر رہا ہے کہ عمران خان سے حکومت سنبھالی نہیں جارہی اوپر سے موصوف خود فرما چکے ہیں کہ بیوروکریسی اُن کے قابو میں نہیں۔یہ باتیں عمران خان جیسے رہنماء کے لیے بہتر نہیں ہیں۔ عوامی سوچ میں تبدیلی پیدا ہونا شروع ہوگئی ہے کہ عمران فیل ہو رہا ہے۔پنجاب پاکستان کا ساٹھ فی صد ہے پنجاب حکومت میں ایک کمزور شخص کو وزیر اعلیٰ لگا کر عمران خان نے خود ہی اِس تاثر کو ہوا دی ہے کہ عمران خان حکومت کرنے میں کتنے سنجیدہ ہیں۔ علیم خان کے خلاف بھی نیب میں کیس ہیں لیکن وہ اِس وقت اصلی وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں۔سوئی گیس کی قیمت میں اضافہ، میٹرو کے کرائے میں سبسڈی ختم کرنے کا ا علان ، یہ غریبوں کو حکومت کیا پیغام دئے رہی ہے۔

آصف زرداری کی جانب سے حکومت کے خلاف متفقہ قرار داد لانے کی بات کی۔مولانا فضل الرحمان، آصف زرداری، شریف خاندانموجودہ حالات میں ایک پیج پر آچکے ہیں۔ عمراں خان کے خلاف یہ سب لوگ متحد ہو چکے ہیں۔ عمران خان نے سینٹ کے چیئرمین کے لیے آصف زردار ی کے ساتھ مل کر اکثریتی پارٹی ن لیگ کو چِت کر دیا تھا اور اِس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ آصف علی زردار ی کے پیچھے اسٹبلشمنٹ تھی اور ہے۔ میرئے اِس قیاس کو بس قیاس ہی سمجھیں کہ عمران خان کی جانب سے تین ماہ کے اندر ہی ہاتھ کھڑئے کرنا درحقیقت نادیدہ قوتوں کا ایجنڈا ہو سکتا ہے۔ عمران کی حکومت میں چوہدری پرویز الہی پنجاب میں اہم پوزیشن میں ہیں اُن کے بیٹے اور بھتیجے بھی قومی اسمبلی کے رکن بن چکے ہیں۔ پرویز الہی زرداری کی حکومت میں نائب وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ چوہدری برادران کسی وقت بھی زرداری کے ساتھ مل کر حکومتی بساط اُلٹ سکتے ہیں اور ن لیگ اِن حالات میں چوہدریوں اور زرداری کی ہر بات ماننے کے لیے تیار ہو جائے گی۔ اِس خاکسار کے خیال میں عمران خان کا بہت بڑا کارنامہ اسٹیٹس کو کو توڑنا تھا لیکن اسٹیٹس کو کی قوتیں عمران خان کو ناکام بنانے کے لیے مصروف عمل ہیں۔ زردرای کی جانب سے جس طرح منی لانڈرنگ کی گئی ہے اُِس کے کے گرد اب گھیرا تنگ ہوتا جارہا ہے اِس لیے زرداری حکومت کو کھلی دھمکی دئے رہا ہے ۔سعودی عرب کی جانب سے صحافی کے قتل کے بعد حالات کا نزلہ پاکستان پر بھی گر سکتا ہے کیونکہ ترکی ہمارے بہت قریب ہوچکا ہے۔اِن حالات مین زرداری کی جانب سے حکومت کے خلاف اعلان جنگ بہت بڑا اعلان ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اِسے نظر انداز نہ کرئے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 219325 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
28 Oct, 2018 Views: 227

Comments

آپ کی رائے