تعلیمی نفسیات کا دائرہ کار

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

تعلیمی نفسیات ایک وسیع اور اہمیت کا حامل مضمون ہے۔ اس میں اساتذہ کے لئے طالب علم سے لے کر تعلیمی نصاب تک اور طریقہ تدریس سے لے کر تعلیمی جائزے تک ہر پہلوکا احاطہ شامل ہے۔ استاد کمرہ جماعت میں داخل ہو تا ہے اور پڑھانا شروع کرتا ہے تو تعلیمی نفسیات کا کردار اسی لمحے سے شروع ہو جاتا ہے۔ اس وقت استاد کے ذہن میں مختلف سوالات جنم لیتے ہیں۔کیا بچوں نے پڑھایا ہوا سبق یاد کیا ہوگا ، کل جو بچے کلاس سے غیر حاضر تھے ‘ آج اُن کی موجودگی میں کیسے پڑھایا جائے کیوں کہ گزشتہ سبق سے آج کا سبق پیوستہ ہے ، کیا تمام بچوں کو پچھلا سبق یاد ہوگا ، کتنے بچوں نے ہوم ورک کیا ہوگا ، کیا یہ تسلی کر لینی چاہیے کہ تمام بچے آج کے سبق کے لئے ذہنی طور پر حاضر ہیں اور اس کے قسم کے بے شمار سوالات استاد کا ذہن میں موجود ہوں گے۔ کامیاب استاد وہی ہوتا ہے جو ان تمام سوالات کے جوابات تلاش کر کے نیا سبق شروع کرتا ہے۔ اس کے علاوہ استاد کو بچوں کی ذہنی سطح کے علم کے ساتھ ساتھ بچوں کی معاشرتی اور معاشی حالات کا علم بھی ہونا چاہیے۔ اگر ایک استاد ان تمام پہلوؤں سے ناواقف ہو گا تو اُس کا پڑھانا اور محنت وہ رنگ نہیں لائے گی جس کی وہ توقع رکھتا ہوگا۔ استاد کے پاس کمرہ جماعت میں داخل ہونے سے قبل ایک سبقی پلان ہو تا ہے لیکن اس پر عمل درآمد میں بے شمار رکاؤٹیں سامنے موجود ہوتی ہیں ۔

ان تمام رکاؤٹوں کے حل کے بعد ہی اس کا تدریسی عمل مؤثر ہوگا۔ اَب یہیں سے تعلیمی نفسیات کا کردار شروع ہوجاتا ہے۔ استاد کو کیا پڑھانا چاہیے ، استاد کو کب اور کیسے پڑھانا چاہیے اور استاد کو کیوں پڑھانا
چا ہیے وغیرہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات کے لئے تعلیمی نفسیات سے رہنمائی ناگزیر ہوجاتی ہے۔

مثال کے طور استاد کمرہ جماعت میں داخل ہوتا ہے اور آج اُس نے ٹیکنالوجی کی افادیت کے موضوع پر پڑھانا ہے۔ اسی مناسبت سے وہ اپنے ساتھ سبقی اشارہ اور معاونات لاتا ہے ۔ لیکن جماعت کے اند ر بچوں کو اِدھر اُدھر بھاگتے اور کھیلتے دیکھتا ہے۔ کمرہ جماعت میں بچوں کی افراتفری دیکھ کر چند لمحے وہ پریشان ہو جاتا ہے کہ اتنا مشکل موضوع ایسی صورت حال میں کیسے پڑھایا جائے گا۔ کچھ بچے استاد کو دیکھ کر اپنی کرسیاں سنبھال لیتے ہیں اور کچھ شریر بچے ابھی تک کھیل میں مصروف ہوتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں پڑھانا نہایت مشکل کام ہے لیکن استاد تعلیمی نفسیات کا سہارا لیتا ہے اور بچوں کے جھرمٹ کے پاس جا کر اُن کے پاس بیٹھ جاتا ہے اور اُن سے پوچھتا ہے کہ وہ کیا کھیل رہے ہیں۔ ایک بچہ استاد کو ٹوٹے ہوئے موبائل کا ڈھانچہ دکھاتا ہے ۔ استاد ڈانٹ ڈپٹ کی بجائے بڑے پیارے سے پوچھتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ بچے کہتے ہیں کہ یہ ٹوٹا ہوا موبائل فون ہے۔ استاد کو بچوں سے ریسپانس ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ اَب استاد مختلف نوعیت کے سادہ سوالات کرتا ہے۔ سب سے پہلے گپ شپ میں بچوں سے موبائل کی ملکیت کا پوچھتا ہے اور اُس کے ٹوٹنے کی وجوہات جانتا ہے۔ جب بچوں کی دل چسپی بڑھنے لگتی ہے تو پھر استاد مزید سوالات کرنا شروع کر دیتا ہے ، یعنی موبائل کا کیا کام ہوتا ہے، اس سے ہم کیا کیا کام لے سکتے ہیں ، اس کے اجزاء کون کون سے ہوتے ہیں اور یہ کیسے کام کرتا ہے وغیرہ۔ جب استاد بچوں کو مکمل طور پر اپنی جانب مائل کرلیتا ہے تو پھر اپنے موضوع کی طرف لوٹ آتا ہے اور ٹیکنالوجی کی افادیت کو موبائل کی مثال پیش کرکے پڑھانا شروع کردیتا ہے۔ پس ایک استاد تعلیمی نفسیات کا استعمال کرکے اپنے سبقی مقاصد کو پائے تکمیل تک پہنچا دیتا ہے۔ جیسا کہ مثال میں واضح ہے کہ استاد کمرہ جماعت میں داخل ہونے کے فوراًبعد سبق شروع نہیں کرتا ہے۔ وہ صحیح وقت کا انتظار کرتا ہے اور جب تمام بچوں کو اپنی جانب متوجہ کرلیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اَب بچے ذہنی طور پر تیار ہیں توپھر پڑھانا شروع کردیتا ہے۔ ایسی تدریس سے ہی سبق کے مقاصد حاصل ہو سکتے ہیں۔ تعلیم و تربیت کے دوران موقع محل کی وضاحت آپ ﷺ نے ایک واقعہ سنا کر یوں فرمائی ۔ ’’ تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس نے ننانوے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ پھر اس نے پوچھا کہ زمین پر سب سے زیادہ علم رکھنے والا شخص کون ہے ؟ چناں چہ اسے ایک راہب کا پتہ بتا دیا گیا۔ وہ راہب کے پاس گیا اور پوچھا۔ ’’ میں ننانوے قتل کر چکا ہوں ، کیا میرے لئے توبہ کی کوئی صورت ہے ؟ راہب نے جواب دیا ۔ ’’ نہیں ‘‘۔ یہ سُن کر اس شخص نے راہب کو قتل کرکے سو کا ہندسہ پورا کر دیا۔ اس نے پھر پوچھا کہ سب سے زیادہ رکھنے والا کون ہے ؟ لوگوں نے اسے ایک عالم کا پتہ بتا دیا۔ وہ عالم کے پاس گیا اور پوچھا۔ ’’ میں سو آدمیوں کا قتل کر چکا ہوں ، کیا میرے لئے توبہ کی کوئی صورت ہے ؟ ؑعالم نے کہا۔ ’’ ہاں ! توبہ اور تمہارے درمیان کون حائل سوسکتا ہے ؟ تم فلاں بستی جاؤ اور وہاں لوگوں کے ساتھ مل کر اﷲ کی عبادت کرو اور اپنی بستی کی طرف نہ آؤ کیوں کہ یہ بُری بستی ہے ‘‘۔ چناں چہ وہ وہاں سے چل دیا۔ نصف رستہ میں اسے موت آگئی۔ اس کی روح قبض کرنے والے فرشتوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ شخص خلوص دل سے توبہ کر کے نکلا تھا۔ جب کہ عذاب کے فرشتوں کے نزدیک ، اس شخص نے کوئی ایک بھی اچھا عمل نہیں کیا۔ اتنے میں ایک فرشتہ آدمی کی صورت میں نمودار ہوا اور اس نے کہا ۔ ’’ دونوں بستیوں کے درمیان فاصلہ ناپو ، جس بستی کے قریب ہو اسی کو شمار کرو ‘‘۔ جب فاصلہ ناپا گیا تو تو نیک بستی کے قریب تھا۔ چناں چہ رحمت کے فرشتوں نے اس کی روح قبض کی ‘‘۔ (صحیح مسلم )۔

تعلیمی نفسیات کا دائرہ صرف کمرہ جماعت اور تدریس تک محدود نہیں ہے بلکہ نصاب کی تیاری ، یعنی تدوین نصاب میں اس کا بڑا عمل دخل پایا جاتا ہے ۔ہر جماعت کا نصاب تیار کرتے ہوئے بچوں کی ذہنی سطح کا مد نظر رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جماعت در جماعت یہ مرحلہ وار اور آسان سے مشکل کی جانب تیار کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کمپیوٹر سائنس کے مضمون میں طلبہ کو پہلے مشینوں اور آلات کا تصور دیا جائے گا پھر کمپیوٹر کی تعریف کی جائے گی اور مختلف انواع و اقسام کے کمپیوٹروں کے بارے میں پڑھایا جائے گا۔ نصاب کی تیاری میں یہ خیال بھی رکھا جاتا ہے کہ اس میں بچوں کی دل چسپی ، ضرورت اور اُن کی پسند کا سامان بھی پایا جائے۔ اگر اس میں دل چسپی ، ضرورت اور پسند کے عناصر نہ رکھے جائیں تو بچے اس سے کنارہ کشی اختیار کریں گے۔ اس کے علاوہ نصاب کی تیاری میں بچوں کیطبعی اور اوسط ذہنی عمروں کا خیال رکھا جائے کیوں کہ ایک ہی کلاس میں پڑھنے والے تمام بچے طبعی لحاظ سے ایک ہی عمر کے ہو سکتے ہیں لیکن ان کی ذہنی عمریں مختلف ہوں گی ، یعنی اُن کا آئی ۔ کیو لیول مختلف ہو سکتا ہے۔

تعلیمی نفسیات کو طریقہ ہائے تدریس سے الگ نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ ایک استاد کے لئے تعلم کو آسان بنانے کے لئے مختلف طریقے ہوتے ہیں جن کو اپنانے سے تدریس نہایت مؤثر ہو گی۔ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہر بچے کا آئی ۔کیو لیول مختلف ہوتا ہے ، کچھ بچے جلد سمجھ پاتے ہیں اور کچھ کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے ۔لہٰذا ایک طریقے سے سارے بچے اچھی طرح سے نہیں سمجھ پا سکیں گے۔ یہاں استاد تعلیمی نفسیات کا استعمال کرے گا اور دیکھے گا کہ کون سا طریقہ مؤثر ہے یا کون کون سے طریقوں کو ملا کر استعمال کرنے سے تدریسی عمل بخوبی سر انجام پائے گا۔ آپ ﷺ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آپ ؐ دعوۃ و تربیت میں لوگوں کی خوبیوں و کمزوریوں ، مزاج و نفسیات اور طبیعت و ساخت کا خیال رکھتے۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ۔ ’’ لوگوں کے ساتھ ان کے مرتبہ کے لحاظ سے پیش آؤ ‘‘۔ ایک مرتبہ ایک شخص آتا ہے اور وہ سب سے افضل عمل کے بارے میں پوچھتا ہے تو آپ ﷺ جواب میں فرماتے ہیں کہ سب سے افضل عمل جہاد ہے۔ ایک دوسرا شخص آتا ہے اور یہی سوال کرتا ہے تو آپ ﷺ اسے جواب دیتے ہیں کہ سب سے افضل عمل نماز ہے۔ تیسرے شخص کو آپ ﷺ بتاتے ہیں کہ سب سے افضل عمل حسن اخلاق ہے۔ بظاہر ان اقوال میں تضاد ہے لیکن در حقیقت یہ جوابات مخاطب کے ذہن اور نفسیات کو سامنے رکھ کر دیئے گئے ہیں۔

ہم اگر اپنی روز مرہ زندگی پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر کام کی تکمیل کے بعد یا بعض اوقات کام کے دوران اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ کام کتنی حد تک تسلی بخش ہوا ہے، اس کے جانچنے کے لئے جائزے کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اسی طرح ایک تعلیمی عمل جائزے کے بغیر نامکمل ہے۔ اس میں استاد یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ بچوں نے تعلیمی مقاصد کا حصول کس حد تک کیا ہے جس کے لئے وہ مختلف انواع و اقسام کی آزمائشیں بناتا ہے جن کی بنیاد نفسیاتی ضرورتوں کے مطابق ترتیب دی جاتی ہے۔ پس ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ نفسیاتی بنیادوں پر استوار ہونے والی تعلیمی سرگرمیاں زیادہ مفید اور مربوط ہوں گی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 124395 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Oct, 2018 Views: 3265

Comments

آپ کی رائے