انسان کی زندگی میں احساس ِ تنہائی

(Pirah Memon, Karachi)

ہر انسان زندگی میں عمر کے کئی مراحل طے کرتا ہے اور ہر مرحلہ مختلف آزمائشوں کو ساتھ لاتا ہے ۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم زندگی میں ثابت قدمی سے رہیں یا پھر ڈگمگا جائیں ۔ ہم کبھی کبھار زندگی میں کئی بار سب کے ہوتے ہوئے بھی خود کو بہت تنہا محسوس کرتے ہیں،یوں مانو کہ تنہا ئی کا احساس ہی روح تک کو جھلسا دیتا ہے ۔

اکیلاپن ،تنہائی جیسے الفاظ اگر کسی کی زندگی کا حصہ بن جائیں تو اُس کی ازیت کو صرف وہی انسان محسوس کر سکتا ہے جس پر ایسی کیفیت طاری ہو ۔ یوں ہی انسان زندگی کی اُلجھنوں میں تنہا رہنے کا عادی ہوجاتا ہے اور خود سے بھی انجان ہوجاتا ہے ، یہی یکسانیت اُس کی پوری زندگی کے ساتھ ساتھ اُسکی شخصیت پر بھی حاوی ہو جاتی ہے ، اور ایسی صورت ِ حال میں وہ انسان اندھیرے میں اُجالے تلاش کرتا رہ جاتا ہے ۔ہر کوئی زندگی میں کچھ ا یسے تلخ تجربات سے گزرتا ہے کہ ایسے مشکل وقت کا بھی سامنا کرنا پڑ جاتا ہے اور یہ وہ کیفیت ہوتی ہے جسے لفظوں میں بیاں کرنا ناممکن ہے ۔ اگر ایسا ہی مقدر کسی عورت کا ہو تو ہم انسانیت کے ناطے اُس کی تکلیف کا اندازا کر سکتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ جب دل کے موسم اُداس ہوں تو رونقیں بھی متاثر نہیں کرتیں ، کسی نے انسان کی فطرت کو بہت نزدیکی سے سمجھتے ہوئے اتنی گہری بات کی ہے، جو دل کو لگی ۔

میں نے بھی زندگی میں تنہائی کو بہت قریب سے دیکھا ہے ۔ میں بھی ہر لمحہ یہ سمجھتی رہی کہ میری مشکلیں کثیر ہیں ، یہ بھی ہم انسانوں کی نفسیات ہے کہ ہم محض اپنے ہی دکھوں کو بہت زیادہ سمجھتے ہیں ، ایسا لگتا ہے دنیا بھر کے مسائل ہماری زندگی میں ہی ہیں ، لیکن جب کبھی خود سے کم تر پر غور کرتے ہیں تو خدا کی بے تحاشا نعمتوں کا دل سے احساس ہوتا ہے ، کیوں کہ ہم تو خطا کے پُتلے ہیں جو معافی مانگ کر بھی خطا پر خطا کرتے چلے جاتے ہیں ، لیکن وہ ہمارا رب ہماری ہر خطا بخش کر اَن گنت نعمتوں سے نوا دیتا ہے ۔

حقیقی معنوں میں زندگی وہ ہے جس میں انسان صابر اور شاکر ہو ، مگر ہم زندگی کے حالات کو اپنے اوپر سوار کر لیتے ہیں اور نتیجے میں اپنی ہی غلطیوں کی سزا بھگت کر نصیب کو قصور وارٹھراتے ہیں ۔ ایسے میں کچھ حالات کی ستم ظریفی اور کچھ انسان کا اپنا پچھتاوا آخر کار زندگی میں بہت تنہا اور بے بس کر دیتا ہے ،جو مسلسل سہتے سہتے ایک وقت ایسا آتا ہے جب ہم سے یہ سزا برداشت نہیں ہوتی اور تھک کر ہار جاتے ہیں ۔

میں نے شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی لوگوں کو جب جب مشکلات میں پایا ، میں نے فطر تاََ دل سے محسوس کیا ، نہ جانے کیوں لیکن ایک عجیب سی تکلیف ہوتی تھی ۔

اور جہاں تک تنہائی کی بات ہے تو یہ کہنا چاہونگی کہ شائد سب کے ہوتے ہوئے بھی دل کا خالی پن محسوس کرنا اور ہر وقت ذہنی اُلجھنوں میں رہنے کی تکلیف مجھ سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا ۔ ایک طویل عر صہ جب کوئی ایسی کیفیت میں رہے ،تو اُس میں زندگی کے دوسرے عناصر بھی اپنا کردار بخوبی نبھاتے ہیں ، جیسے کہ انسان کی شخصیت میں احساسی کمتری کاپیدا ہوجانا ، اور خود کو سب کے بیچ بھی تنہا محسوس کرکے الگ تھلگ رہنا ۔ سب عام لوگوں کی طرح میں بھی دنیا بھر کے تمام مسائل کا بوجھ اپنے کندھوں پر محسوس کرتی تھی ۔ سب کا کہنا ہوتا ہے کہ میں بہت حساس ہوں اور حد سے زیادہ سوچتی ہوں ۔ شائد یہ بلکل ٹھیک بات ہے ، کیوں کہ میں نے ہمیشہ اس مسئلے کا تناسب بھی عورتوں میں مردوں کی بنسبت زیادہ دیکھاہے ۔ میری عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے کہ آ خر ہر مسئلے کا نشانہ ہمارے سماج میں عورت ہی کیوں بنتی ہے ؟

میں نے آج اپنی تحریر میں کڑی سے کڑی ملائی ہے محض یہ بات واضع کرنے کے لیئے کہ اس تنہائی کا بھی ایک عورت کی زندگی سے بہت گہرا تعلق ہے ،اور اس بات کا اندازا میں نے ہمیشہ اپنے ارد گرد کی مثالوں سے لگایا ، کبھی ایک عورت ماں کے روپ میں اکیلی ، تو کبھی بہن ، کبھی بیوی یا پھر محبت کے راستے میں بھی عورت کو اکیلا ہی پایا۔

قدیم دور سے لے کر آج تک کہ تمام مسائل سے ہر کوئی واقف ہے ، جو ہر عورت کی کہانی ہے لیکن مجھے اُن دنوں بہت تعجب کے ساتھ افسوس بھی ہوا ، جب میں نے اپنی آنکھوں سے اُس ضعیف عورت کو دیکھا جو بظاہر نارمل تھی لیکن جب اُس کے بارے میں جاناتوبہت دل دُکھا ۔ یہ با ت ہے کچھ ماہ پہلے کی ، جب میں اپنی والدہ کے ساتھ عید کے موقع پر پالر گئی ، وہاں اُس دن اتفاق سے رش نہیں تھا ،بس ایک وہ ضعیف عورت تھی جو بہت صاف ستھری اور اچھے بھلے حُلیے میں نظر آئی اور پالر کی سر وسز لے کر چلی گئی ۔ اُس کے جانے کے بعد بیو ٹیشن نے بتایا کہ وہ ضعیف عورت اکیلی رہتی ہے اور بیوہ ہے ، دو بچے ہیں ،وہ بھی شادی شدہ ہیں ،لیکن بیٹی اپنی ماں سے ملنے ہر ہفتے آتی ہے ،اس لیئے اکیلے پن کے باعث اُس عورت کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں رہتا ، جس کی وجہ سے وہ خود کو جوان سمجھتی ہے اور آج کل کسی رانگ نمبر پر ایک ۲۶سالہ جوان لڑکے کی محبت میں گرفتار ہوگئی ہے اور کہتی ہے کہ لڑکا مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ ( لڑکے سے وہ عورت صرف messagesمیں بات کرتی ہے ،اور اُنھوں نے کبھی ایک دوسرے کی آواز نہیں سُنی ، جس کی وجہ سے وہ لڑکا اُس ضعیف عورت کی سچائی سے انجان ہے اور اُس کو ہم عمر جان کر بات کرکے دلا سے دیتا رہا ہے ۔) اور اُس عورت کا حال اب یہ ہے کہ وہ تنہائی سے گھبرا کر اِس دلدل میں پھنس چکی ہے اور اب سچ بتا کر اُ س کو کھونا نہیں چاہتی ۔ اُس کی یہ حقیقت جان کر سب ہسنے لگیں ، اور وہ بات وہیں ختم ہوگئی ، لیکن مجھ پر اِس قصے نے بہت اثر کیا ، مجھے ایسا لگا کہ میرے مسائل تو شائد کچھ بھی نہیں ہیں ۔پر وہ عورت اپنے ہی بس میں نہیں ۔ میں نے اُس دن کے بعد  سے اﷲ کا شکر ادا کیا اورخود کو بدلنے کی پوری کوشش کی ہے۔ لیکن یہ بات میرے زہن سے آج تک نہیں نکل سکی محض یہ سوچ کر کہ انسان کا تنہا رہنا بھی اُس کا اپنا ہی دشمن ثابت ہوا ۔ اور ایسی صورت میں کو ئی عورت اتنی بے بس اور عجیب کشمکش میں مبتلا رہ کر کب تک اور کس کے سہارے جیئے گی ؟ وہ بھی ایک آدھا وجود جو پہلے سے ہی عمر کر آ خری حصے میں ہو تو وہ انسان کیسا محسوس کرتا ہوگا جس پر یہ انتہائی کٹھن وقت آیا ہو۔ اُس کے بارے میں جان کر بھی میری کیفیت عجیب تھی ، لیکن اب اس  تحریر کے دوران بھی میں خود کو سنبھال نہیں پا رہی ، میں وہ لمحہ بیان نہیں کر سکتی ،جو میں نے اُس وقت محسوس کیا او رجسے میں آج تک بھلا نہیں سکی۔ نہ جانے کیوں لیکن اس واقعے کو سوچ کر ہی میری روح کانپ اُٹھتی ہے کہ یہ کیسا عجیب احساس ہے ،اس کا مطلب جب کسی انسان کے ساتھ بظاہر کوئی مسا ئل نہیں ہوتے تو وہ ایسے مسائل اُس کا نصیب ہوتے ہیں ۔ میری خدا سے یہ دعا ہے کہ وہ انسان کو کبھی کسی کا محتاج نہ کرے اور کبھی کسی دشمن کو بھی ایسا وقت نہ دکھائے کہ اپنی ہی قسمت کے آگے انسان مجبور ہو کر رہ جائے ۔ میں نے اپنی اس تحریر میں انسان کی زندگی سے جڑی تمام کڑیوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے ،مگر میں آج یہ بات دل سے محسوس کررہی ہوں کہ کسی کے درد کو لفظوں میں تحریر کرنا کتنا مشکل ہے ۔میں نے ہمیشہ خواتین کے مسائل پر لکھا لیکن کبھی اتنی تکلیف محسوس نہیں کی ، جتنی مجھے اس تحریر سے ہوئی ۔ صحیح معنوں میں آج جان سکی ہوں کہ درد او ر ازیت کیا ہے ، اس بات سے ایک اور سچ بھی واضع ہوا کہ انسان ہر عمر میں پیار محبت کا پیاسا ہے اور محبت کیسے انسان کو زندگی دے کر چھین لیتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Pirah Memon
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Oct, 2018 Views: 484

Comments

آپ کی رائے