ہمارا معاشرہ اعلیٰ اخلاق و کردار کا مثالی مظہرکیسے ہوگا؟؟؟

(Asif Jaleel Ahmed, India)

دنیا جس قدر تیزی کے ساتھ ترقی پذیر ہورہی ہے اسی تیزی کے ساتھ پوری عمومی طور پر پوری دنیا اور خصوصی طور پر مسلم معاشرے کی اخلاقیات کا جنازہ نکلتا جارہاہے۔اس اخلاقی گراوٹ کے سامنے بظاہر تو کوئی بند باندھنے کی کوشش نظر نہیں آرہی اور اگر کہیں کہیں اس کی رمق موجود بھی ہے تو اس کا قابل بیان حد تک فائدہ مجموعی ملت کو ملتاہوا ابھی تک نظروں سے اوجھل ہے۔اخلاقی تنزلی کے اس رو میں ہمارامعاشرہ بھی بہتاچلاجارہاہے۔یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ نیکی و جائز امور میں اگر سہولت پیدا کی جائے گی تو معاشرہ درست سمت کی جانب پیش قدمی کرے گا اور وہ ہی معاشرہ اعلیٰ اخلاق و کردار کا مثالی مظہر ہوگا۔ اگر کسی معاشرے میں نیکی اور جائز امور کو مشکل سے مشکل تر بنا دیا جائے گا تو اس کے جواب میں ناجائز و برے امور کے لیے چور دروازے اس قدر تیزی سے کھلتے جائیں گے کہ اس سے بپاہونیوالی تباہی کا شاید ہی کسی کو احساس و ادراک ہو، معاشرے میں سے اخلاقی گراوٹ کے بہت سے اسباب ہیں،اخلاقی بے راروی کے تین اہم سبب ہیں۔اول معیشت ،دوم معاشرت اور سوم میڈیاہے۔ معاشرے میں تباہی و بربادی اور اخلاقی قدروں کے قتل عام اس وقت ہوتا ہے جب حلال اور جائز امور کی انجام دہی میں غفلت برتی جاتی ہے۔مثال کے طور پر گذشتہ چند روز سے جنسی زیادتی کی خبریں منظرعام پرآئی ہوئی ہیں کہ فلاں فلاں مقام پرفلاں فلاں طرح کے لوگوں نے معصوم بچو ں اور بچیوں کو اپنی ناپاک ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔ان خبروں کی ہر جانب سے مذمت کی گئی حکمرانوں نے مذمتی بیانات جاری بھی کیے اور ملزموں کا قرارواقعی سزادینے کی باتیں بھی کی ہیں۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان یکایک طوفان بد تمیزی میں گم ہوکر حیوانی صفت کا مرتکب کیوں کر ہوگیا؟اس نکتہ پر اب تک کوئی غور و فکر نہیں کیا گیا۔

سیدھی سی بات ہے جب معاشرے میں نکاح جو کہ ایک سنت عمل ہے اس کو کاروبار بنالیا جائے گا تو تباہی و بربادی اور اخلاقی انحطاط کا پیدا ہوجانا ایک فطری امر ہے۔اسلام نے انسان کی فطری ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے نکاح کا حکم دیا ہے۔جبکہ یہ حکم بھی دیا ہے کہ جب بچہ بالغ ہوجائے توبغیر لیت و لعل کے اس کانکاح کر دیا جائے۔حضرت سید ابوالحسن ندوی ؒ فرماتے ہیں کہ’’ اس سنت کو پورا کرنے میں صرف دو اساسی شرطیں ہیں کہ مرد بیوی کا حق مہر اداکرنے اور اس کے نان نفقہ کی ذمہ داری قبول کرے‘‘ اس کے علاوہ موجودہ معاشرے میں رائج جہیز،سونا،زمین تمام تر رسمیں خلاف اسلام ہیں۔اب جب کہ معاشرے نے اس نیک کام کو مشکل نہیں بلکہ مشکل تر بنادیا ہے تو ظاہر ہے اس سے معاشرتی و اخلاقی زوال جنم لے گا۔والدین کو جب اس جانب متوجہ کیا جاتا ہے کہ اس پرفتن دور میں جہاں چاروں اطراف سے نئی نسل پرحملے ہورہے ہیں خدارااپنے بچوں کی حفاظت کے پیش نظر بروقت نکاح کریں تو ان کی جانب سے ٹکا سا جواب ملتا ہے کہ بچہ ابھی روزگا ر نہیں کماتااور اس میں معاملہ فہمی کی صلاحیت پیدا نہیں ہوئی اس وجہ سے ہم اس سنت پر عمل کرنے سے معذور ہیں۔اس نیک و جائز کام کے سامنے معیشت و معاشرت کا رونارو کر بند باندھ دیا گیا مگر اس کے رد عمل کے نقصانات سے دانستہ طور پر چشم پوشی کرلی گئی اس کے نتائج بیان کرنے کی ضرورت نہیں…!جب کہ یہ بات واضح ہے کہ بچہ کی ولادت سے لے کر جوانی تک کے عرصہ میں سب والدین،معاشرہ،مدرسہ و مسجد،تعلیمی اداروں اور حکمرانوں کا فریضہ ہے کہ اس کی اس انداز سے تربیت کرنا کہ وہ باعزت روزگار حاصل کر سکے اور وہ اپنی معاشرتی ذمہ داریوں سے واقفیت حاصل کر سکے۔معاشرے میں پھلتے اور پھولتے زوال میں میڈیا کا بھی بڑاکردار ہے جس میں بالخصوص سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کا کردار بھیانک ہے۔ آج کا بچہ بمشکل شعور کی منزل میں قدم رکھتا ہے کہ اس پر کمپیو ٹر،موبائل، سوشل میڈیا کا جادو منکشف ہوجاتا ہے اور اس سوشل میڈیا پر اچھی اور صاف سرگرمیوں کے بہ نسبت اخلاق باختہ اور فحش سرگرمیاں عروج پر جن کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہرذی شعور ان سے آگاہ ہے۔دوسری جانب الیکٹرانک میڈیا پر اپنے کاروبار کو عروج بخشنے کے لیے بہت سے متجسس پروگرامات نشر کیے جاتے ہیں کہ ان کو دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ فلاں فلاں مقام پر فلاں فلاں قسم کے فحش کام ہورہے ہیں،ان کو اس انداز میں نشر کیا جاتا ہے کہ ان سے درس عبرت حاصل کرنے کی بجائے وہ پروگرامات فحش سرگرمیوں میں ملوث افراد کے حوصلوں کو مزید جلابخشتے ہیں۔کیوں کہ ان تمام تر پروگرامات کو اس انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ ہوبہو ابھی ہورہاہے اور دوسراان میں برائی کو تو بیان کیا جاتا ہے مگر برائی کے وجود میں آنے کے سبب اور اس کے نقصانات اور اس سے بچنے کی تدبیر بیان کرنے سے احتراز کرتے ہیں کیوں کہ میڈیا کا کام ہے خبر کو نشر کرنا اور صحت مند منافع حاصل کرنا۔اصلاح معاشرہ تو ان کی ترجیحات میں کہیں شامل ہی نہیں۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر والدین،اساتذہ،علماء،حکمران اور معاشرے کے تمام افراداگر نوجوانوں میں سرطان کی طرح پھیلتے جراثیموں کے خاتمے میں سنجیدہ ہیں تووہ اپنی نئی نسل کی اخلاقی حفاظت کی ذمہ داری کو قبول کرتے ہوئے اپنے ترک کیے ہوئے فریضہ کی انجام دہی کریں۔اس کے ساتھ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی سوشل میڈیااورہر طرح کی روزمرہ کی مکمل سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ اخلاق سوز واخلاق باختہ تمام ٹی وی پروگرامات،انٹر نیٹ ،فحش فلمیں اور ڈرامے پر پابندی عائد کرے۔معا شرے کے ہر افراد کو چاہیے کہ اول اصلاح معاشرہ کے فریضہ میں از خود اپنا دینی کرداراداکرے۔آج ہی سے معاشرے کے تمام محرک کرداروں کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم نیک وحلال کام کو آسان بنائیں گے اور برے اور حرام کام کی بیخ کنی کے لیے اپنی ہرممکن کوشش کریں گے تو بعید از قیاس نہیں کہ ہم اپنے بڑھتے ہوئے اخلاقی تنزل کو تھامنے میں کامیاب ہوسکیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Jaleel

Read More Articles by Asif Jaleel: 183 Articles with 126316 views »
WARNING: I have an attitude and I know how to use it!.

میں عزیز ہوں سب کو پر ضرورتوں کے لئے
.. View More
01 Nov, 2018 Views: 424

Comments

آپ کی رائے