سچ کہو اور گولی کھائو

(Hameeda, karachi)

مکالمہ: 2دوستوں کا
شیراز: عامر کہاں جارہے ہو
عامر: جہنم میں
شیراز: ارے میرے برف کے گولے آج شعلہ کیوں بنے ہوئے ہوکیا ہوا ہے؟ جو اس قدر غصے سے جواب دیا
عامر: تمھیں نہیں پتہ کہ اس ملک میں کیا ہو رہا ہے۔حکمران،وزراء،ریاستی و نجی ادارے،ٹرائیکا(سرمایہ دار،جاگیردار، سامراج،بیوروکریٹس ہر کوئی میرے وطن کو لوٹنے میں لگا ہے۔نئی راہیں نئی امنگیں کھولنے کے بجائے مزید مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت، اوپر سے مہنگائی کا جن ہر امیر و غریب کے جینے کے حق کو چھین رہا ہے
شیراز: ارے پاگل 1947ء سے لے کر آج تک یہی ہوتا آیا ہے تو آج کیا ہوا تمھیں جو اتنا غصہ آرہا ہے؟
عامر: ایک لڑکی میرے آفس میں کام کرتی ہے وہ مجھے بے حد پسند ہے
شیراز: تو پھر مسئلہ کیا ہے
عامر: اس کے والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ اپنا ذاتی گھر لو ڈیفنس میں اور ساتھ ہی ہماری بیٹی کو منہ دکھائی میں کرولا کار دو
شیراز: ہاہاہاہا ہاہاہا ہا بھائی یہ کیا کہہ رہے ہو
عامر: میں مذاق نہیں کر رہا ان کی یہی ڈیمانڈہے وہ بھی 2سال کے اندرگھر اور گاڑی کا انتظام کرو گا تو پھر زینت میری ہوگی
شیراز: پھر تو تم زینت کو بھول ہی جاؤ کیوں کہ پاکستان کے مسائل اور تمھارے وسائل یہ اجازت نہیں دیتے
عامر: ہاں شیراز یہ سرمایہ دارانہ نظام ہی ساری خرابیوں و مسائل کی جڑ ہے کارل مارکس نے درست کہا تھا کہ:
" مزدور محنت کرے اور کمائے سرمایہ دار "
شیراز: تو اس نظام نے ہی دنیا کے 206ممالک پر قبضہ جمایا ہوا ہے یہا ں تک کہ جن ممالک میں اشتراکیت،اشتمالیت کا ڈرامہ رائج ہے وہاں پر بھی سرمایہ درانہ نظام ہی حاوی ہے
عامر: یار ہمارے حکمران اور کرتا دھرتا لوگوں نے ایک طرف تو ہمیں شیعہ،سنی،ہندو،مسلم کے چکروں میں الجھا دیا ہے دوسری طرف بنیادی مسائل کا فقدان ہے۔پاکستان اب وہ پاکستان نہیں رہاجسے قائد اعظم ؒنے اکثریت و اقلیت کی رہائش گاہ بنایا تھا بنیادی حقوق کی بات کی تھی ملک کی ٹرائیکا نے ملک کو اس قدر نقصان پہنچایا ہے کہ صحرا و قحط کی جگہ بنا دیا ہے
شیراز: یار ہمارے علاقے 11/Jمیں آج 4سال ہوئے پانی کی شدیدقلت ہے اور مزے کی بات دیکھو ہمارے آمنے سامنے والے علاقوں میں بھر پور پانی آتا ہے یہاں تک کہ ہمارے علاقے میں ہی کچھ حصوں میں پانی آرہا ہے مگر مجال ہے کہ کوئی اس ظلم و ذیادتی کے خلاف آواز اٹھائے الٹا اگر کوئی اس کے خلاف کہتا بھی ہے تو یہ عوام ہی عوام کی مخالف ہوجاتی ہے
عامر: یہ تو صحیح کہا شیراز تم نے یہ عوام ہی خراب ہے ہم کیوں حکمران اور سرکاری و نجی اداروں کو غلط کہیں۔کیوں اسرائیل،برطانیہ،امریکہ،بھارت کو مورد الزام ٹھرائیں،بھارت کو گالیاں دیں،سعودی عرب کو امریکی غلام کہتے ہم تھکتے نہیں ہیں اپنے ملک کے حالات و واقعات کے ہم خود ہی ذمہ دار ہیں
شیراز: ہاں یار تمھیں پتہ ہے مجھے ایسا لگتا ہے موجودہ حکومت لوٹا ہوا پیسہ واپس لے آئے گی اور صرف سود!ا داہوگا قرض وہی کا وہی رہے گا اس کے بعد ملک کا بٹوارہ ہوگا
عامر: ملک کے بٹوارہ کا کیا مطلب؟
شیراز: یار ملک کا سود ہی اتارے جائے گا تو قرض باقی رہے گاجس کی بناء پر لاہور،حیدرآباد،اسلام آباد،سکھر وغیرہ سب بکھر جائیں گے اور اس ماہرانہ کرپشن سے کوئی نہیں بچ پائے گایہی تبدیلی کی اصل وجہ ہے۔دوسری طرف ملٹی نیشنل کمپنیوں کا حال تو تم دیکھ رہے ہو کتنی مہارت،چالاکی و مکاری سے سر درد کی گولیاں بیچ کر دل کی بیماریاں پھیلا رہے ہیں
عامر: دل کی بیماری کیا مطلب میں سمجھا نہیں شیراز
شیراز: واہ عامر تم ایک بڑی فارمیسی کمپنی کے مینیجر ہوتے ہوئے بھی یہ پوچھ رہے ہو۔یہ جو بین اقوامی دوائیوں کی کمپنیاں ہیں یہ سب ایک ایجنڈے کے تحت کام کررہی ہیں یہ اس طرح کی دوائیاں بنا رہی ہیں کہ ایک مرض ختم کرکے 10اور بیماریاں ہمیں بغیر کسی معاوضے کے تحفے کے طور پر دی رہی ہیں۔بہت سی دوائیوں پر نو سائیڈ افیکٹ لکھا ہوتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ نقصان سے پاک ہیں۔ جسے سگریٹ کے پاکٹ پر لکھا ہوتا ہے کہ تمباکو نوشی مضر صحت ہے اس کے باوجود یہ نشہ کھلے عام بنتا اور بکتا ہے۔اسی طرح ان کمپنیوں نے ایک کمپنی کی دوائی کو فروخت کرنے کی آڑ میں دوسری کئی بیماریاں پیدا کرنے کی کمپنیاں قائم کی ہوئی ہیں۔اسی طرح جب ایک دوائی انسان کھاتا ہے تو وہ بیماری کو دور نہیں بھگاتا بلکہ یہ دوائی اسے دعوت دیتی ہے کہ:
" آؤ میری اور ذیلی کمپنیوں کی میڈیسن کو کھاؤ اور مزید بیماریوں پاؤ"
عامر: یہ تو تم نے صحیح کہا جب ہی تو میں کہو کہ ہمارا ادارہ ایک کے بعد ایک برانچ کیسے لانچ کر رہاہے مارکیٹ میں؟
اور کل ایک کلائنٹ آیا اس کے بھی تمھاری طرح کے تاثرات تھے مجھے لگا جھوٹ بول رہا ہے ایک ایک دوائی کی مختلف اقسام برانڈ اور لوکل کے نام سے بازار میں موجودہیں۔قیمتیں بھی کوالٹی کے حساب سے رکھی گئی ہیں پتہ نہیں کیوں وہ خاموش مزاج انسان آج اس قدر بول رہا تھا اس نے یہاں تک کہہ دیا کہ سرکاری و پرائیویٹ اسپتالوں میں جو دوائیاں جاتی ہیں وہ ذیادہ تر جعلی اور مزید بیماریاں پیدا کرتی ہیں مجھے اس کی ڈھکی چھپی الفاظ میں کہی ہوئی باتیں سمجھ نہیں آئیں مگر آج تم نے وضاحت سے بتا دیا۔ اس کا مطلب کہ ہماری کمپنی بھی فراڈ کر رہی ہے اور لوگوں کو زندگی دینے کے بجائے موت کی طرف دھکیل رہی ہے
شیراز: ہاہاہاہاہاہاہا! ہاں میرے بھولے راجہ ایسا ہی ہے
عامر: یار یہ لوگ زہر مہیا کر رہے ہیں اور میں اس جرم میں برابر کا حصے دار ہوں قرآن پاک میں بھی ارشاد ہے کہ ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے۔میں آج سے نہیں جاؤ گا اس جاب کو چھوڑ رہا ہوں۔
شیراز: ہاں مگر تمھارا ذریعہ معاش یہی ایک نوکری ہے پھر کیا کرو گے؟
عامر: اللہ بہت بڑا ہے حضرت علی ؓنے فرمایا رزق انسان کے پیچھے اس طرح دوڑتا ہے جسے موت، یارا فکر مت کرو کچھ نہ کچھ انتظام کروا دے گا مولا
شیراز: اچھا تمھیں پتہ ہے سول اسپتال پر موٹر سائیکل پارکنگ ہونے کے باوجود شعبہ حادثات اور سول کے احاطے کے اندر موٹرسائیکل کیسے آجاتی ہیں جب کہ دونوں دروازوں پر 4سے 5 گارڈز بیٹھے ہوتے ہیں اور پھرایک ڈی ایم سی کی گاڑی آتی ہے اور مریضوں کی،ان سے ملنے والوں کی موٹر بائیک اٹھا کر لے جاتے ہیں
عامر: نہیں یار مجھے ابھی کا نہیں پتہ ہاں 1سال پہلے جب ابو کو ایس آئی یو ٹیSIUTلے کر گیا تھا تو میں نے بائیک سول کے اندر کھڑی کردی تھی جس کی وجہ سے DMCوالے لے گئے تھے میری بائیک پھر اتنی مشکل سے ڈھونڈنے کے بعد 500روپے دینے کے بعد بائیک وصول کی مگر اب سننے میں آرہا ہے کہ بائیک کی پارکنگ بنا دی گئی ہے ایک بائیک بھی اندر نہیں جانے دیتے اب۔
شیراز: عامر میرے بھائی تم اس قدر معصوم کیوں ہو چیزوں کا مشاہدہ کیوں نہیں کرتے؟ اب کل جاؤ اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیناکیوں کہ دن میں ہزاروں میں کماتے ہیں یہ DMCوالے اور ان کے ساتھ سول انتظامیہ،ایسٹ پولیس اورگارڈز۔ یہ سب ایک چین سسٹم کے تحت کام کررہے ہیں بائیکز کو بے دردی سے اٹھانے کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں بس یہ لوگوں کو الجھا کر کمانے کا بہترین ذریعہ ہے
عامر: ایک واقعہ میں بھی بتاؤ تمھیں
شیراز: ہا ں ہاں بتاؤ
عامر: سرجانی سیکٹر نو میں آئی جی اور ایس ایس پی دونوں مل کر کرپشن کے سمندر میں روز بروز اضافہ کر رہے ہیں ان کا ایک بزنس پارٹنر کمبر عباس المعروف عمران عباس ان کا اس کام میں برابر کا ساتھی ہے
شیراز: نہیں یار
عامر: ایک اور مزے کی بات بتاؤ اسی علاقے کی اسپیشل پارٹی ٹیم انچارج نے ایک ٹیم گھروں میں ڈاکے مارنے کے لئے بنائی ہے اے سی ایل سی کے 4اہلکار بھی اس میں شامل تھے
شیراز: اف میرے خدایا یہ کیا چل رہا ہے ہمارے ملک میں اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور ان تمام لوگوں سے ہمیں کوسوں دور رکھے۔آمین
عامر: شیراز بہت دیر ہو گئی ہے اب میں چلتا ہو ں کل یہی سے اس بات کو آگے بڑھائیں گے اپنا خیال رکھنا
شیراز: اللہ نگہبان تم بھی اپنا خیال رکھنا
دوسرے دن اخبارات میں ایک خبر چھپی۔
"عامر ولد علی زمان کوٹارگٹ کلنگ میں قتل کر دیا گیا "
اس خبر نے شیراز پر سکتہ طاری کر دیا ساتھ ہی وہ عامر کی موت کی وجہ بھی جان چکا تھا کل رات کی گفتگو کا ایک ایک لفظ اسے یاد آنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hameeda

Read More Articles by Hameeda: 25 Articles with 10445 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Nov, 2018 Views: 322

Comments

آپ کی رائے