کہا تھا چمن کو نہ اجاڑو

(Isha Naim, )

وطن عزیز پاکستان میرا گھر، تیرا گھر، سب کا گھر
جی ہاں وطن گھر ہی تو ہوتا ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔ وطن محفوظ ہو تو زندگی محفوظ وطن اللہ نہ کرے غیر محفوظ ہو تو جان مال، عزت ہر چیز غیر محفوظ ہو جاتی ہے۔
ہمیں بھی ہمارا وطن جان سے بڑھ کر پیارا ہے۔
ہمارا وطن چونکہ اسلامی ریاست ہے اور ہم مسلمان سو اس وطن کی حفاظت ہم اپنی ذمہ داری ہی نہیں سمجھتے بلکہ اس کی حفاظت کی خاطر شہادت باعث افتخار و وجہ حصول جنت بھی سمجھتے ہیں۔
ہر ہر دن اس کی حفاظت کے لئے خود سے عہد کرتے ہیں۔
پر قومی دن پہ اہنے پاکستانی ہونے پہ فخر کا اظہار اور اس کی خاطر قربان ہونے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔
یہ وطن عزیز جو اسلام کے نام پہ بنا مطلب تھا کہ یہاں مسلمان آزادانہ اسلامی طریقے سے اپنی زندگیاں بسر کر سکیں گے۔ اور اس سلسلے میں کوئی روک ٹوک نہ ہوگی۔
اس کے لئے جان مال عزت سب قربان کرنا پڑا تو پھر ظاہری سی بات ہے کی اس وطن کے لئے کوششیں مسلمانوں نے کیں ، جانیں مسلمانوں نے دیں ، عزتیں مسلمانوں کی بیٹیوں کی لٹیں تو صرف اسلام کے لئے اسلام کی راہ کے لئے اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے لئے۔
یہ وہ وطن جس میں اسلام کے خلاف کچھ بھی ہو تو پوری پاکستانی قوم تڑپ اٹھتی ہے۔ ہر طرف احتجاج شروع ہو جاتا ہے سڑکوں اور میڈیا پہ بھی چاہے وہ پرنٹ ہو یا سوشل میڈیا۔
سوشل میڈیا پہ تو عوام کا چونکہ بس بھی زیادہ چلتا ہے موقع ملتا ہے اپنے جذبات کے اظہار کا سو کھل کر ہر بندہ اظہار کرتا ہے۔
پاکستان دراصل ایک ایسے خطے سے الگ ہوا تھا جس پہ مختلف قومیں حکمران رہیں۔ ہندو ،مسلمان اور انگریز ۔
ہندو کے بعد اس پہ مسلمانوں نے ایک ہزار سال تک حکومت کی۔پھر انگریز آ گئے۔
جب انگریز جانے لگے تو ہندوستان کو ہندو مسلم دونوں ہی اپنی جاگیر سمجھتے تھے۔
دونوں نے پہلے مل کر کوششیں کیں لیکن پھر بنیا زیادہ ہشیار اور چالاک تھا سو وہ اکیلا ہی سارا خطہ ہڑپ کرنا چاہتا تھا جس کو قائد اعظم جیسے زیرک انسان نے بھانپ لیا اور علامہ اقبال جیسے دور اندیش نے جان لیا کہ ہمارے لئے الگ سے وطن ہونا چاہیئے۔
سو مسلمانوں نے کوششیں اور محنت کر کے الگ وطن حاصل کر لیا لیکن بنیا اپنے ارادے خاک میں ملتے دیکھ کر تڑپ اٹھا اور اس کو تسلیم نہ کر سکا ۔
اور اس کو ہمیشہ ختم کرنے اور اپنے اندر ضم کرنے کے خواب دیکھنے لگا۔
اس کے لئے وہ مسلسل اس وطن کے خلاف سازشیں کرنے لگا۔فرقہ واریت ۔لسانیت دہشت گردی، کولڈ وار اور کئی طرح سے حملہ آور ہوا۔
حالیہ دنوں میں ایک عیسائی خاتون جس پہ مقدمہ چل ریا تھا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گستاخانہ الفاظ استعمال کئے۔چار جگہ سزائےموت پانے کے بعد سپریم کورٹ نے اس کو بری کر دیا۔
اس پہ مسلمانان پاکستان تڑپ اٹھے اور گھروں سے باہر آکر احتجاج شروع کر دیا۔ لیکن دشمن جو شیطانی چالیں چلتا ہے اور ہر جگہ اپنا وار کرتا ہے یہاں بھی جان بوجھ کر پاکستانیوں کو بھڑکایا اور بجائے پر امن احتجاج، قانونی راستہ اختیار کرنے کے انھیں ملک میں توڑ پھوڑ اور جلاو گھراو کر کے ملک میں انارکی پھیلانے پہ لگا دیا۔ ہر طرف حالات خراب کرکے دوسری طرف دہشت گردی شروع کر دی۔
مولانا سمیع الحق جیسے محب وطن و محب اسلام، ایک جری دل انسان جس کے لاکھوں پیروکار ہیں کو شہید کر دیا۔
اس کامقصد ان لوگوں کو بھی سڑکوں پہ لانا جو گھروں میں پرامن بیٹھے ہیں اور قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کی حفاظت چاہتے ہیں۔ تو دوسری طرف محبان وطن کو چن چن کر مارنے کا منصوبہ۔
تھوڑی دیر بعد ہی جنرل حمید گل صاحب کے صاحب زادے عبداللہ گل پہ بھی قاتلانہ حملہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اللہ کی رحمت سے وہ محفوظ رہے۔
اور کہا جاتا ہے کہ مزید محبان وطن و اسلام کو خطرہ ہے۔
اور یہی دشمن کی چال تھی یہی وہ چاہتا تھا۔
کیونکہ دشمن اس وطن پہ ہاتھ صاف کرنا چاہتا ہے۔ انڈیا کی را ، اسرائیل کی موساد اور امریکہ کی سی آئی اے کا پلان یہ ہے کہ ملک میں افراتفری پھیلا کر حالات ایسے پیدا کر دیئے جائیں کہ حکومت ، فوج اور عوام باہم دست و گریبان ہو جائیں شام کے سے حالات ہو جائیں اور پھر اقوام متحدہ کے نام سے کفار یہاں امن کے نام پہ دہشت گردی کرنے آ جائیں۔ اورآپس میں اس ملک کو بانٹ لیں۔
اس کے لئے خوامخواہ فوج کو بھی گھسیٹا گیا درمیان میں۔
بات ہمارے سمجھنے کی ہے۔ ہم پہلے بھی کہتے رہے کہ ہوش کے ناخن لئے جائیں اور پرامن احتجاج کریں۔ دشمن وار کرے گا اس دھرتی کو خطرہ ہو گا دشمنوں سے۔ دشمن فائدہ اٹھائے گا اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ پاکستانیو سمجھ جاؤ ، سنبھل جاؤ، دشمن کی چالوں سے باخبر ہو جاؤ اور اپنے اس وطن کی حفاظت کرو جس کے لئے جان مال عزت سب قربان کر دیا تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت سب سے پہلے ہے۔ اس کے لئے پرامن احتجاج اور قانونی راستہ اختیار کیا جائے اور ملک میں امن و سکون کی فضا قائم کی جائے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Isha Naim

Read More Articles by Isha Naim: 13 Articles with 5655 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Nov, 2018 Views: 202

Comments

آپ کی رائے