سیشن کورٹ سے سپریم کورٹ

(Aalima Rabia Fatima, )

ملعونہ عاصیہ مسیح۔۔۔ 2009 میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی کی مرتکب ہوئی۔۔۔ اہل علاقہ نے شیخو پورہ کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں کیس دائر کیا۔۔ گواہان نے گواہی دی۔۔۔اور خود آسیہ ملعونہ نے اقرار جرم کیا۔۔نومبر 2010 میں 295 سی کے قانون کے تحت سزائے موت سنا دی گئی۔۔۔ملعونہ کے شوہر نے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔۔۔ سلمان تا ثیر نے بھی اس وقت ایک فیصلہ کیا تھا کہ اگر ملعونہ کی سزا برقرار رکھی تو صدارتی معافی کو اختیار کرتے ہوئے سابق آصف زرداری سےمعافی کی اپیل کرے گا۔۔۔یہ سب چل ہی رہا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے ملعونہ کی سزا کو برقرار رکھتے ہوئے اس کو کوٹ لکھ پت جیل لاہور کے ڈیتھ سیل میں ڈال دیا گیا۔۔۔۔

پھر ملعونہ نے سپریم میں اس فیصلے کو چیلنج کیا۔۔ سپریم کورٹ نے دونوں ما تحت عدالتوں کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے۔۔ ملعونہ کو رہا کر دیا گیا۔۔۔

سپریم کورٹ سے سوال یہ ہے کہ۔۔۔ اگر واقعی گواہان کی گواہی میں تضاد تھا اور ملعونہ ان کی نظر میں واقعی بے گناہ تھی ۔۔۔ تو گواہان کو سزا کیوں نہیں دی؟؟؟ ان پر تعزیری سزا کیوں عائد نہیں کی گئی؟؟؟ یہ کیسا کیس تھا؟؟ کہ بس ختم۔۔۔ سب اپنے اپنے گھر روانہ۔۔۔۔پاکستان میں تو خان صاحب کے مطابق سب کو انصاف ملے گا۔۔۔ سب کو مساوی حقوق ملیں گے۔۔۔ تو یہ کیس یونہی کیسے ختم ہوگیا؟؟؟

ہم کسی سے عشق کی سند نہیں مانگ رہے۔۔۔ ہم کسی کے ایمان کا ثبوت نہیں چاہتے۔۔۔ ہم بس یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر واقعی گواہان کی گواہیوں میں تضاد تھا تو عدالت کا وقت ضائع کرنے اور بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر سزا کیوں نہیں دی؟؟؟

بات کچھ بھی نہیں ۔۔ بس اتنی سی ہے۔۔۔ہم آج بھی انگریزوں کے غلام ہیں۔۔ کیوں سزا ہوتی۔۔۔اور کیسے سزا سناتے؟؟ معاملہ معمولی تھوڑی تھا۔۔۔ عالمی سطح کا تھا۔۔۔ ویسٹ سے اتنی طاقتور آواز جو بلند ہوئی تھی۔۔۔ ملعونہ کی نیوز کو فنٹیسٹک نیوز جو قرار دیا جارہا ہے۔۔۔ اور جو دے رہا ہے وہ خود بھی ملعون جو ہے۔۔

ہم اس فیصلے کو نہیں مانتے تو ہم پر امن احتجاج کریں گے۔۔ ہم احتجاج کریں گے کیوں کہ ہم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں انگریزوں کے نہیں۔۔۔ہم پر امن احتجاج کریں گے کیوں کہ عشق رسول ہمارے ایمان کی روح ہے۔۔۔ہم نے پر امن احتجاج کیا ہے اور کرتے رہیں گے جب جب ملعونہ جیسے مجرموں کو رہائی کا پروانہ دیا جائے گا۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aalima Rabia Fatima

Read More Articles by Aalima Rabia Fatima: 48 Articles with 26331 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Nov, 2018 Views: 355

Comments

آپ کی رائے