ریسٹورنٹس یا فحاشی کے اڈے

(Bushra Naseem, )

اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست میں لفظ اسلام مذاق بن کہ رہ گیاہے ۔ہر روز اخبارات ایسی شرم ناک خبروں سے بھرے ہوتے ہیں کہ فلاں جگہ، فلاں علاقے میں واقع ہوٹل ، گیسٹ ہاؤس یا ریسٹورنٹ میں غیر اخلاقی، غیر اسلامی فعل انجام دیا جا رہا تھا اور اس میں لازمًا کسی نہ کسی بڑی شخصیت کانام ضرور آتا ہے۔جیسے جیسے معاشرہ ترقی کرتا جاتاہے تو دوسری جانب اس رفتار سے تنزلی کی طر ف بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ آج کل اگر آپ کسی اعلیٰ اور بڑے ریستوران میں چلے جائیں تو آپ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ سر!کباب کے ساتھ شباب بھی ملے گا آپ آرڈر کریں۔اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شہرکے بیشتر ہوٹل اور ریسٹورنٹس فحاشی، بدکاری کے اڈوں میں تبدیل ہوگئے ہیں جبکہ متعلقہ حکومتی اداروں نے اپنی آنکھیں موند رکھی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ ان جگہوں پر ہونے والے جرائم میں مقامی انتظامیہ بھی پوری طرح ملوث پائی جاتی ہے شہر سے باہر واقع کئی ہوٹلوں اورریسٹورنٹس میں متعدد ریپ کیسسز بھی سامنے آ ئے ہیں عمومًاان میں اعلیٰ افسران اور بڑی سیاسی وسماجی شخصیات کے ملوث ہونے کی وجہ سے ان کیسو ں کو دبا دیا جاتاہے۔المیہ تو یہ ہے کہ ذرا ذرا سی بات پر واویلا مچانے والا میڈیا کی بھی بولتی بند ہو جاتی ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نیوزچینلز اپنے طور پر ہوٹلوں، ریسٹورنٹس ،پارکوں اور کیفوں میں ہورہی اس فحاشی، بد کاری کے نیٹ ورک کی پردہ پوشی کرنے کے بجائے انویسٹی گیشن رپورٹ تیار کریں اور ان جرائم کے سدباب کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔بیشتر ہوٹلوں اورگیسٹ ہاؤسز میں جرائم پیشہ افراد کا بلا روک ٹوک کسی شناختی اندراج کے بغیر آنا جانا لگا رہتا ہے اور یہاں پر جرائم پیشہ افراد کو ہر قسم کی سہولیات ملتی ہیں۔ جن میں زنا کاری، جوابازی، عورتوں کی تجارت اور منشیات فروشی عام ہیں۔ ان ٹھکانوں پر چور ڈکیت، اغوا برائے تاوان اور دہشت گردی کی سنگین وارداتوں میں ملوث افرادکو بھاری معاوضے کے عوض ان کی عیاشیوں کے لئے ساز گا ماحول فراہم کیا جاتا ہے ۔گیسٹ ہاؤس اور ہوٹل میں ٹھہرنے والوں کا نہ تو کوئی ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے شناختی اندراج ہوتاہے۔ ان گیسٹ ہاوسز اور ہوٹلوں میں منہ مانگی قیمت پر گاہکوں کو گھنٹوں کے حساب سے بھی کمرے دئیے جاتے ہیں۔جس بنا پر پولیس بلندوبانگ دعووں کے برعکس جان بوجھ کر اس مافیا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ بلکہ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے اپنا حصہ وصول کر کے قانون کی کھلے عام دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ در حقیقت یہ ہوٹل ، گیسٹ ہاوسسز، ریسٹورنٹس قحبہ خانوں میں بدل چکے ہیں۔ مقامی اخبارات میں شائع ہوجانے والی ایک رپورٹ کے مطابق سکولوں اورکالجوں کی طالبات کو ورغلا کر یہاں لائے جانے کے بعد عزتیں تار تار کی جاتی ہیں اور پھر عریاں فلمیں بنا کرانہیں بلیک میل کیا جاتا ہے۔ چند ماہ قبل ایک ایسے گروہ کا انکشاف بھی ہوا تھا جس شہر کے پوش اور آبادی سے دور واقع ایسے ہوٹل کم گیسٹ ہاؤسسز میں شریف گھرانوں کی لڑکیوں کو بھلا پھسلا کر لایا جاتا ہے اور انہیں زیا دتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے بعدازاں انہیں ڈرا دھمکا کر قحبہ خانوں کی زینت بننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بااثر سیاسی شخصیات اور مقامی پولیس عزتوں کے سوداگروں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ شہر بھر کے دلالوں، جرائم پیشہ عناصر اور قحبہ گری کی سرپرستی کرنے والے عناصر نے ان ہوٹلوں میں ڈیرے ڈالے رکھے ہیں، یہاں پر نہ صرف پیشہ ور لڑکیوں اور خواتین کو لاکر بدکاری کروائی جاتی ہے بلکہ جرائم پیشہ افراد موبائل فون ودیگر ذرائع سے کالجوں کی معصوم طالبات کو ورغلا کر ہوٹلوں میں لے آتے ہیں جہاں ان کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے اور ان کی عریاں فلمیں بنا کر بعدازاں ان کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔ ہوٹل مالکان اس مکروہ اور گھناونے عمل کیلئے جرائم پیشہ عناصر کو کمرے اور ضروری سہولیات بھی فراہم کرتے ہیں اور اس عمل کی مکمل پشت پناہی کرتے ہیں۔ان ہوٹل مالکان کو سیاسی شخصیت اور پولیس کی بھرپور پشت پناہی حاصل ہے، ہوٹل مالکان پولیس کو باقاعدہ حصہ اور منتھلی پہنچاتے ہیں۔شہر کے مہنگے ترین پوش علاقوں کی حدود میں بھی یہ مکروہ دھندہ عروج پر ہے۔ ان ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں منشیات اورشراب بھی مہیا کی جاتی ہے۔ ایسے گیسٹ ہاؤسز موجود ہیں جن کے مالکان کی مبینہ ملی بھگت سے بھاری کرایوں پر مساج روم دستیاب ہیں اور مقامی تھانے کی جانب سے انہیں بھرپور تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ مقامی تھانہ کا عملہ ہر اہم پوائنٹ پر موجود ہوتا ہے جو کسی بھی قسم کی بد نظمی پیدا ہونے سے قبل ہی صورتحال کو کنٹرول کرلیتا ہے اور اس کا بھاری معاوضہ وصول کیا جاتا ہے۔گیسٹ ہاؤسز میں انتہائی منظم طریقہ سے منشیات فروشی اور قحبہ خانوں کا یہ سلسلہ زور پکڑتا جا رہا ہے ایسا لگتا ہے کہ جسے روکنے میں تمام اعلیٰ پولیس حکام بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں۔جرائم پیشہ عناصر نے اپنی چودھراہٹ قائم کر رکھی ہے۔بظاہر قانون موجود ہے لیکن پس پردہ ہر غیر قانونی کام انجام دیا جا رہا ہے۔ جہاں پر زور شور سے فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں ،جسم فروش عورتیں بھی آنے والے گیسٹ کو ان کی ڈیمانڈ پر فراہم کی جاتی ہیں۔ تاہم اس گھنا ؤنے دھندے میں فائیو سٹار ،فورسٹار ہوٹل بھی برابر کے شریک ہیں ۔کئی ہوٹل ملازمین کے مطابق کمروں سے نشہ آور ادویات، شراب کی بو تلیں ملتی ہیں۔ ہوٹلوں میں قیام کرنے والے اکثر گیسٹ رات بھر جنسی حرکات میں مصروف رہتے ہیں۔ اور بعض ہوٹلوں میں سٹاف بھی ان غیر اخلاقی فعل میں ان کا ساتھ دیتا ہے۔متعدد ہوٹلوں میں یہ سب کچھ ہر روز ہوتا ہے اور اس طرح کی باتیں معمول کی زندگی کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں پراسرا قتل کی بھی کئی وارداتیں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ بہت سے کیسوں میں اعلیٰ سرکاری افسر بھی ملوث پائے گئے۔جیسا کہ لاہور کے ایک فائیو سٹار ہوٹل کے باتھ روم میں مقامی کالج کی طالبہ کی ملنے والی لاش نے سراسمیگی پھیلا دی تھی ۔پولیس نے اسے خود کشی کا رنگ دیدیا ۔ لیکن لڑکی کا ہوٹل کے باتھ روم میں قتل یا خود کشی سے ان فائیو سٹار ہوٹلوں کے حوالے سے کئی سوالات نے جنم دیا۔ آیا وہ لڑکی کالج ٹائم کے دوران وہاں کس سے ملنے گئی تھی اور پھر عقبی دروازے سے کیوں گئی ،پستول کیسے ساتھ لے کر گئی ، اگر قتل ہے تو اسے کسی نے اتنی سیکورٹی میں گولی ماری۔یا پھر ہوٹل کا عملہ اس میں ملوث تھا ۔ اس کا تو یہی مطلب ہے کہ فائیو سٹار ہوٹلوں میں بھی ایسے کیسسز ہوتے رہتے ہیں ان میں سے کئی دبا دئیے جاتے ہیں کیونکہ ان میں بہت سی بڑی شخصیات کا نام بھی آتا ہے اور اب تو آن لائن بکنگ نے ان مکروہ دھندے چلانے والوں کا کام اور بھی آسان کر دیا ہے۔ جرائم پیشہ گروہ ان ہوٹلوں میں لڑکیوں کی آن لائن بکنگ کرتے ہیں۔ آن لائن ہی امیر مالدار لوگ ہوٹل میں قیام و طعام کے ساتھ لذت گناہ کے حصول کے لئے پسند کی لڑکی کا اہتمام کر لیتے ہیں۔بلکہ ایسے ریسٹورنٹس ، ہوٹل سمیت گیسٹ ہاؤس بھی موجود ہیں جہاں کمروں کی آن لائن بکنگ کے ساتھ ساتھ راتیں رنگین کرنے کا پیکج بھی شامل ہوتا ہے۔اس گھناؤنے کام کیلئے باقاعدہ قعبہ خانے چلانے والوں سے رابطے میں ہوتے ہیں۔المیہ تو یہ ہے کہ پولیس کی ناک کے نیچے یہ غیر قانونی کاروبار جاری ہے ۔متعلقہ اداروں نے بھی آنکھیں موند رکھی ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Bushra Naseem

Read More Articles by Bushra Naseem: 13 Articles with 5644 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Nov, 2018 Views: 1163

Comments

آپ کی رائے