سارے جہاں کا جائزہ اپنے جہاں سے بے خبر

(Asif Jaleel Ahmed, India)

اکثر دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس کرنے والے کام نہیں ہوتے ہیں تو وہ نہ کرنے والے غیر ضروری کاموں میں دلچسپی کے ساتھ مشغول ہوتے ہیں،مثلاً قیل قال،بال کی کھال ،تیری میری طعنہ تنقید وغیرہ۔یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ اگر تنقیدطعنہ الزام تراشی چھوڑ دیں تو ان کے پاس بات کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں بچتا۔ خیال رہے کہ جہاں تنقید کی حد ختم ہوتی ہے ادھر سے ہی تذلیل کی سرحد شروع ہو جاتی ہے اور تذلیل کے آخری سرے پر تہمتوں کے طوفان چلتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر ان حدود کا خیال نہیں کیا جاتا اور کئی لوگ تنقید کرتے کرتے تمام حدیں عبور کر جاتے ہیں۔ افسوس! کئی لوگ یہ گوارہ ہی نہیں کرتے کہ وہ تنقید، تذلیل اور تہمت میں فرق کریں۔ آزادی اظہار کے نام پر ہر چیز کو رگڑتے جاتے ہیں اور بغیر ثبوت کھلم کھلا الزام لگاتے ہیں۔ اکثریت یہ سوچنے کو تیار ہی نہیں کہ بغیر ثبوت الزام لگانا تہمت (بہتان) ہوتی ہے اور تہمت بہت بڑا جرم (گناہ) ہے۔ بلکہ جب آپ کسی پر الزام لگاتے ہیں تو درحقیقت آپ گواہی دے رہے ہوتے ہیں کہ فلاں نے فلاں جرم کیا ہے۔آج کل بات بات پر ایک دوسرے پر یا اپنے مخالفین پر بغیر ثبوت الزام (تہمت) لگانا اور مذاق اڑانا رواج بن چکا ہے۔ دو چار بغیر سر پیر کے اور سنی سنائی سازشی باتوں کو بنیاد بنا کر نفرتیں بڑھانا اور فتوے جاری کرنا عام ہوتا جا رہا ہے۔حالانکہ یہ خود اخلاق و کردار سے کوسوں دور ہوتے ہیں، دُکان پکوڑوں کی اور باتیں کروڑوں کی ۔ہر ایک کی خبر رکھنا جائزہ لینا اور اپنی ذات سے بے پرواہ رہنا یہ عجب کی علامت ہے۔جس دل پر بغض و حسد عداوت کا قفل پڑ جائے اس دل سے کبھی اچھائی کی امید نہیں کی جا سکتی ایسادل ہمیں خانہ جنگی طعنہ تنقیداورگروہ بندی کی طرف مائل کرتا۔آج کل بڑی آفت یہ بھی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص دوسرے کی اصلاح کا خواہاں،متمنی، طلب گار اور اپنی ذات سے غافل اور بے خبر ہے ۔ہم سارے جہاں کا جائزہ انتہائی خورد بینی سے لیتے ہیں مگر اپنی ذات کے لیے ہمارے پاس کوئی آئینہ نہیں۔ہم دوسروں کی اصلاح کے لئے بیجا کوشاں اورشب وروز سرگرم عمل رہتے ہیں پر اپنی شخصیت کی تعمیر و تشکیل کے لیے ہمارے پاس لمحہ بھی نہیں۔ہمیں دوسروں کی کردارکشی، ان کی خردہ گیری وعیب جوئی میں تو بڑا مزہ آتاہے مگر اپنے عیوب دورکرناتوکجا، ان پر ایک نظرڈالنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ہم بھی کتنے بے حس اور ظالم ہوگئے ہیں کہ غیر کی آنکھوں کا تنکا ہمیں فوری نظر آجاتا ہے اور اپنی آنکھوں کی شہتیر کا تا دم واپسیں احساس تک نہیں ہو پاتا، حالانکہ ''قرآن وسنت ''دونوں ہماری رہ نمائی کرتے ہیں کہ دوسروں کی اصلاح سے زیادہ اپنی ذات کی تعمیر و تشکیل ہمارے لیے ضروری ہے۔ اﷲ جل شانہ نے دو آنکھیں اس لئے دی ہیں کہ ایک آنکھ سے دوسروں کی خوبیاں دیکھیں اور دوسری سے اپنی خامیاں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Jaleel

Read More Articles by Asif Jaleel: 183 Articles with 123028 views »
WARNING: I have an attitude and I know how to use it!.

میں عزیز ہوں سب کو پر ضرورتوں کے لئے
.. View More
06 Nov, 2018 Views: 496

Comments

آپ کی رائے