بغیر شریعی علت کے کسی جاندار کی تصویر بنانا اور اس کی آخرت میں سزا

(Manhaj As salaf, Peshawar)

انس بن مالك ، قال:‏‏‏‏ كنت جالسا عند ابن عباس، ‏‏‏‏‏‏فجعل يفتي، ‏‏‏‏‏‏لا يقول:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى ساله رجل، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ إني رجل اصور هذه الصور، ‏‏‏‏‏‏فقال له ابن عباس:‏‏‏‏ ادنه فدنا الرجل، ‏‏‏‏‏‏فقال ابن عباس : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏يقول:‏‏‏‏ "مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ"۔

سیدنا نضر بن انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ فتویٰ دیتے تھے اور حدیث نہیں بیان کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک شخص نے پوچھا: میں مصور ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے پاس آ، وہ پاس آیا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:
مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ

”جو شخص دنیا میں تصویر بنائے اس کو قیامت میں تکلیف دی جائے گی اس میں جان ڈالنے کی اور وہ جان نہ ڈال سکے گا۔“
(صحیح مسلم، رقم: 5541، فواد عبدالباقی حدیث نمبر: 2110)

جاء رجل إلى ابن عباس ، فقال:‏‏‏‏ إني رجل اصور هذه الصور فافتني فيها؟ فقال له:‏‏‏‏ ادن مني فدنا منه، ‏‏‏‏‏‏ثم قال:‏‏‏‏ ادن مني فدنا حتى وضع يده على راسه، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ انبئك بما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏يقول:‏‏‏‏ " كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يَجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَتُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ إِنْ كُنْتَ لاَ بُدَّ فَاعِلاً فَاصْنَعِ الشَّجَرَ وَمَا لاَ نَفْسَ لَهُ ‏.‏ فَأَقَرَّ بِهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ" ‏.

سعید بن ابی الحسن سے روایت ہے، ایک شخص عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں تصویر بنانے والا ہوں تو اس کا کیا حکم ہے بیان کیجئیے مجھ سے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے پاس آ۔ وہ گیا، پھر انہوں نے کہا: پاس آ۔ وہ اور پاس گیا یہاں تک کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا اور کہا: میں تجھ سے کہتا ہوں وہ جو میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:
" كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يَجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَتُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ ‏"‏ ‏.‏

وَقَالَ إِنْ كُنْتَ لاَ بُدَّ فَاعِلاً فَاصْنَعِ الشَّجَرَ وَمَا لاَ نَفْسَ لَهُ ‏.‏ فَأَقَرَّ بِهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ" ‏.

”ہر ایک تصویر بنانے والا جہنم میں جائے گا اور ہر ایک تصویر کے بدل ایک شخص جاندار بنایا جائے گا جو تکلیف دے گا اس کو جہنم میں۔“

اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر تو نے ایسا ہی بنانا ہے تو درخت کی یا کسی اور بےجان چیز کی تصویر بنا۔
(صحیح مسلم، رقم: 5540، فواد عبدالباقی حدیث نمبر: 2110)

اس حدیث سے بغیر شرعی علت کے جاندار کی تصویر کی حرمت کے ساتھ ساتھ جو بات ثابت ہوئ وہ یہ بھی ہے کہ عام عوام کے لیے علماء کا فتوی دینا جائز ہے مگر جب بات بہت اہم مضوع پر ہو یا حرام و حلال پر ہو تو قرآن والسسنۃ سے دلیل ضرور دینا چاہیے جیسا کہ تصویر کی حرمت کو بیان کرنے کے لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے صحیح حدیث کا حوالہ بھی دیا، واللہ اعلم

اللہ ہمیں اس کو سمجھنے، عمل کرنے اور پھیلانے کی توفیق دے، اللھم آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Manhaj As salaf

Read More Articles by Manhaj As salaf: 286 Articles with 215878 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Nov, 2018 Views: 281

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ