نفسیاتی بیماریاں اور علاج

(Maryam Arif, Karachi)

ازقلم: نور بخاری
ذہنی بیماریاں آج کل کے دور میں عام ہوتی جارہی ہیں۔ ذہنی بیماریوں میں ڈپریشن، شیزوفینا، سٹریس ، ذہنی و جسمانی تھکاوٹ، بہت زیادہ سوچنا، انسومنیا، پینک اٹیک، بے وجہ اداسی، انزائٹی، بیجا خوف، نیند بلکل نہ آنا، بہت زیادہ نیند آنا، باتیں بھولنا، طرح طرح کے فوبیاز، گھبراہٹ وغیرہ شامل ہیں۔ اس تیز دور میں تقریبا ہر 20 میں سے 3 لوگ ذہنی و نفسیاتی بیماری کا شکار ہیں اور ہر عمر کے لوگ اس بیماری کا شکار ہو رہے ہیں۔ بچے بھی ان سے محفوظ نہیں۔ زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔

روزانہ کی سرگرمیوں میں دلچسپی ،افسوس یا خوشی کے احساسات سے ہم سب واقف ہیں لیکن اگر وہ ہماری زندگی کو مسلسل طور پر برقرار اور اثر انداز کرتے ہیں تو یہ شاید ڈپریشن ہو یا کوئی اور ذہنی بیماری۔نفسیاتی بیماریاں بہت پیچیدہ ہوتی ہیں۔ کوئی بھی نہیں جانتا کہ ان کی کیا وجہ ہے لیکن یہ مختلف وجوہات کی بناء پر ہوسکتی ہیں۔ کچھ لوگ ایک سنگین طبی بیماری کے دوران ڈپریشن کا تجربہ کرتے ہیں۔ دوسروں کو زندگی کی تبدیلیوں کے ساتھ ڈپریشن یا کوئی نفسیاتی عارضہ لاحق ہوسکتا ہے۔

وجوہات: ذہنی بیماریاں مختلف وجوہات کی بنا پر پھیل رہی ہیں۔ جیسے کہ بہت زیادہ سوچنا، زیادہ حساس ہونا، بلاوجہ کی روک ٹوک، موبائل کا حد سے زیادہ استعمال، کمپیوٹر یا ٹیلی ویژن کا زیادہ استعمال، ناقص غذا ، تنہا رہنا، شورزدہ ماحول میں رہنا، لوگوں کا رویہ، خود سے لاپرواہ رہنا وغیرہ شامل ہیں۔ غیر معمولی بلندی سے کوئی حادثہ، نیند کی کمی، ڈرا دینے والے خیالات ، خطرناک فیصلے جو خطرے سے متعلق رویے کا سبب بن سکتے ہیں، غیر مناسب سماجی رویے ،موڈ کی خرابی خاندانی رویوں پر، چھوٹی عمر میں والدین کو کھو دینا، سوشل سپورٹ سسٹم کی کمی یا اس طرح کے نقصان کا خطرہ، نفسیاتی اور سماجی کشیدگی جیسے کام کے نقصان، تعلقات میں کشیدگی، علیحدگی یا طلاق، بچوں یا خواتین کا جسمانی یا جنسی حراس کا شکار ہونا، احساس جرم کا شکار ہونا۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق ایسے عوامل جن میں خواتین میں ڈپریشن کا خطرہ بڑھتا ہے مثلا تولیدی، جینیاتی، یا دیگر حیاتیاتی عوامل ہیں۔

علامات : ذہنی بیماریوں کی علامات کچھ کا ذکر اوپر ہو چکا ہے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔باتیں بھول جانا، نسیان، ہاتھ بار بار دھونا، اندھیرے سے ڈرنا، عجیب آوازیں سنائی دینا، ہر وقت اداسی چھائی رہنا، کوئی کام کرنے کا دل نہ کرنا، ہر وقت تھکے تھکے سے رہنا، بیزاری چھائی رہنا، بات بات پر غصہ آجانا، چڑچڑاپن حد سے بڑھ جانا، بھوک نہ لگنا، نیند نہ آنا، تنہا رہنا، ہجوم سے گھبرانا، مایوسی چھائے رہنا، وغیرہ ہیں۔

علاج:کوئی بیماری ایسی نہیں ہے جس کا علاج نہ ہو۔ تو ان بیماریوں کا شکار لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان بیماریوں سے لڑنے کے لیے بہت ہمت کے ساتھ ساتھ خاندان کے مثبت رویے کی بھی ضرورت ہے۔ اگر آپ کو لگے کوئی ایسا مریض آپ کے اردگرد موجود ہے تو اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔پر کیا ہے کہ ہمارا معاشرہ کچھ ایسا ہے کہ ایسا کوئی بھی مریض اگر ہے کوئی جتنا بھی قریبی ہے اس کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے اس کو طعنے دیے جاتے ہیں۔ اس کو باتیں سنائی جاتی ہیں۔ اس سے مقابلہ بازی کی جاتی ہے ان باتوں سے مریض زیادہ نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ مریض سمجھتا ہے کہ ایسے سنگدل معاشرے میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ پھر یا تو مریض جارحیت کا مظاہرہ کرتا ہے یا خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ یا پھر انتہائی شکل میں خودکشی کرلیتا ہے۔

خاندان کے ارکان کو تعلیم دینے کے لیے معاون حل کے بارے میں بات چیت کی جانی چاہیے۔ ماہر نفسیات کو اپنے مریض کے ماحول سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔ماہر نفسیات، بھی بات چیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جیسے ڈپریشن کے لیے نفسیاتی رویے سے متعلق بات چیت کے ذریعے تھراپی میں سنجیدگی(سی بی ٹی) اور دشواری حل کرنے کے علاج شامل ہیں۔ ڈپریشن کے ہلکے معاملات میں نفسیاتی علاج کے لئے پہلا اختیار ہے۔

شدید مقدمات میں اعتدال پسندی اور وہ دوسرے علاج کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ ایروبک مشق ہلکی نفسیاتی بیماریوں کے خلاف مدد کرسکتی ہے کیونکہ یہ endorphin کی سطح کو بڑھاتا ہے اور نیوروٹرانٹرٹر نوریپینفائنین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو موڈ سے متعلق ہے۔ اس کے ساتھ میڈیسن بھی دی جاتی ہیں۔

کچھ تجاویز: ایسے مرض سے چھٹکارا پانے کے لیے خاندان والوں کو ازحد توجہ دینے کی ضرورت ہے اگر گھر والے ساتھ ہو تو آدھی بیماری تو ویسے ہی ختم ہو جاتی۔ اگر گھر کا ماحول ٹھیک ہونے میں رکاوٹ بنتا ہو تو کچھ عرصے کے لیے مریض کو ماحول بدل لینا چاہیے۔ مریض کو زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے۔ اپنی غذا کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ اپنے ماہر نفسیات سے رجوع کرتے رہنا ہے۔ ورزش کا معمول بنانا ہے۔ نماز ادا کرنے کی عادت ڈالنی ہے۔ تلاوت قرآن کرنی ہے۔ ایسا مریض خود کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھے۔ ان بیماریوں سے چھٹکارا پا کر صحت مند ہو کر ہی معاشرے میں قابل فرد بن سکتے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1226 Articles with 499478 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Nov, 2018 Views: 356

Comments

آپ کی رائے