اختتام سفر

(Haseeb Shah, )

کڑے سفر کا تھکا مسافر تھکا ہے ایسا کہ سوگیا ہے
خود اپنی آنکھیں بند کرلی لیکن ہر آنکھ بگھوگیا ہے
آج دل بہت بے چین تھا مجھے اُستاد کے استاد مولانا سمیع الحق صاحب کی کمی شدت سے محسوس ہورہی ہے سوچھا کہ قلم اُٹھاکے دل میں بوجھ کا غبار ہلکا کردو محترم استاد العلماء استاد الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق(مرحوم) دامت کی یاد میں دل کو خون کی آنسو رلانے والا تحریر.....
.........دادا استاد کی یادمیں.........

دادا اُستاد کے وفات کے بعد مجھے اپنی زندگی بھت پھیکی پھیکی لگتی ھے. دل بلکل خالی خالی رھتا ھے. مجھے وہ جملے وہ بیانات وہ نصیحت یاد آتے ھیں... جو وہ اپنے عوام طلباء کو کرتے تھے. وہ مدرسہ جس میں وہ رہتے تھے. وہ کمرہ وہ برآمدہ وہ چارپائی بھت زیادہ یاد آتے ہیں... میرے دل پر کتنا بوجھ ہوتا... غم ہوتا... بے چینی ہوتی... بے قراری ہوتی....بیماری ہوتی...

گلے,شکوے,شکایتیں ہوتی... بھائیوں سے.. بہنوں سے... اپنوں سے.. بیگانوں سے... اس کے کچھ بیانات سن کر.... تھوڑی دیر بیٹھ کر.. غور کرکے.. بیان سن کر... سب کچھ کافور ہوجاتا.... اب درد دل سنانے کیلئے کوئی نھیں...کون ھے جو میرے درد کو سمجھ سکے... میرے دل کے بوجھ کو ھلکا کرسکے.... کس کے باتوں سے مٹھاس حاصل کرسکوں.... کس کی لمبی لمبی دعاؤں سے سکون حاصل کرسکوں... میری دنیا ویران ھوچکی... اب دنیا میں ایسا کوئی نظر نھی آتا.. جس کے پیروں پر ہاتھ رکھ کر... اس کے سینے سے لگ کر.... اس کے سامنے آنسوں بہا بہا کر... اپنا غم ہلکا کرسکوں.... کوئی بھی نھی جسکے پاس بوجھل قدموں سے جاکر واپس خوش خوش آؤں... کون ھے.. جو میرے چھرے کو دیکھ کر اندرونی کیفیت جان سکے... میری خاموشی اور افسردگی سے اپنی مومنانہ فراست کی بنا پر.... میرے قلبی تذبذب کو محسوس کرے... آج میں ان کو یاد کرکے کیوں نا رؤوں... کہ موت سے صرف دودن پھلے مجھے حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کیلئے فکرمند دکھائی دیئے...دو دن پہلے خطاب میں کہ دیا کہ ... شاید میری اور آپ لوگوں کی ملاقات پھر نا ھوسکے... اپنی جو عادت ھے ھمیشہ سے لاپرواھی کی... اس بنا پر اسکی بات کی تہہ تک نہ پھنچ سکا... بات کو بلکل سرسری لیا... اس قلندری گفت کو.... الہام کو دور اندیشی کو نہ سمجھ سکا.. میں سویا ہوا تھا تقریباً شام کے وقت والد محترم تشریف لائے مسنون طریقے سے تسلّی کے الفاظ ادا کئے... ایک قیامت ٹوٹ پڑی....کچھ خبر ہی نہ رہا... ارد گرد کا... آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا... پھر بھی علماء سے محبت کی برکت تھی کہ دل نہ پھٹ سکا... دیر تک دعا کرتا رہا...ھر عمل میں اس کا نورانی چہرہ سامنے رہا.. ابھی تک بھولا نہیں... شاید مرتے دم تک نہ بھول سکوں.. استاد ہر آدمی کا شفیق ھوتا ھے... لیکن ایسا استاد جو ہر ایک بیٹا بلکہ یہ محسوس کرے. سب سے زیادہ شفقت طالب علموں کے اوپر فرما رہے تھیں... ایسا استاد جو عالموں کا عالم کا بھی استاد ہو... تمام عمر طالبعموں کو حدیث پڑھا کر گزارا ہو... باتیں حکمت ودانائی کے کرتا ہو..جب ھر چیز ساتھ تھی... مال و دولت کی فراوانی تھی... تو لوگوں نے بھت جودوسخا کی بناء پر سخی جان سے مشھور کیا. دل غنی رہا.. خود دار ہو... ملنسار ہو... ھر وقت زبان پر بے انتھا تشکر وامتنان کے الفاظ.. بے حد تکلیف... بیماری کے باوجود.. کسی کو تکلیف و بیماری کا پتہ نہ چلے.. جو بیماری پر بھی خوش رھتا ہو.. تکلیف میں بھی مسکراتا ہو... چھرے پر بشاشت ھو.. دل میں اللہ سے رابطہ ھو... تو ایسا استاد بھت کم اور خوش قسمت لوگو کو نصیب ھوتا ھے.. آج غم بالائے غم یہ ہے.. درد ھے... دکھ ہے تو یہ ہے... کہ میں تو کمزور ہوں.. کم ہمت ہوں.. اسکی کس نصیحت پر عمل کروں.. اسکی وصیت کو پورا نہیں کرسکتا ہوں..

...یا اللہ..... میرا تو آج دل پھٹ رہا ہے... پھوٹ پھوٹ کر.. چیخ چیخ کر رونے کو دل چاھتا ہے.... کیوں اسکی وصیتیں پورا نہیں کرسکتا... میں گُم سُم.... پیر نہیں چل رہے... کیسے صلہ رحمی کروں... کہ اسکو قبر میں راحت پہنچاؤں.. میری تو زبان نھی چل رہی... بوجھل ہے.. کس سے اظھار ھمدردی کروں... کس بھائی کی مدد کروں... بُخل آڑے آتی ھے...

یا اللہ تو مجھے حوصلہ دیدے.. توفیق دیدے.. ہمت دیدے... اسکی نصیحتوں پر عمل کرنے..... اسکی وصیتوں کو پورا کرنے کی.... اسکی روح کو سکون پھنچانے کی.... آمین یا رب العالمین...

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Haseeb Shah

Read More Articles by Syed Haseeb Shah: 15 Articles with 6582 views »
I am Student i-com part2.. View More
12 Nov, 2018 Views: 557

Comments

آپ کی رائے