دنیا میری انگلیوں میں

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر:صدف نایاب
ریشمی صوفے پر سر ٹکاے ماریہ کافی دیر سے کوئی انڈین فلم دیکھنے میں مصروف تھی۔ یہ اس کا روز کا معمول تھا۔ امی ابو سے چھپ کر وہ زیادہ تر ڈرامہ اور فلمیں یوٹیوب پر دیکھا کرتی تھی۔ ’’ارے ماریہ کیا کررہی ہو۔ یہ دیکھو میں نے وزن کم کرنے والی ایک ایپ انسٹال کی ہے‘‘، ماریہ کہ بھائی محسن نے لاونج میں بیٹھی ماریہ کو بیٹھا دیکھا تو خوش ہوتے ہوے بتایا۔

’’تمھارا کچھ نہیں ہونے والا موٹو!‘‘ ،ماریہ نے مون کو چھیڑا۔ یہ سننا تھا کہ وہ بھی غصہ میں بولا ’’اچھا یہ بات ہے تو میں بھی امی ابو کو بتا دوں گا کہ یہ جو آئے روز تم نئی نئی چیزیں بناتی ہو اسپیگھٹی،لزانیہ وغیرہ اس میں تمھاری عقل کا کمال نہیں بلکہ فیس بک اور انسٹا گرام کا کمال ہے‘‘۔ ’’ہاں ہاں بتا دو، میں کونسا اکیلے کھاتی ہوں تم بھی تو ساتھ کھاتے ہو کل کیسے میرا بنایا ہو پیزا کھا رہے تھے‘‘، ماریہ کے اس جملے پر مون تلملا اٹھا۔ اب ماریہ آگے آگے اور مون تکیہ لے کر پیچھے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ بھاگتے ہوئے دونوں امی ابو کے کمرے تک جا پہنچے جہاں امی (آئی ایم او) پر کسی پرانی پڑوسن سے بات کرنے میں مصروف تھیں۔

’’ارے مریم بہن دیکھو آج زمانے نے کتنی ترقی کر لی بس انگلیاں گھماو اور ان لوگوں سے بھی بات کر لو جن سے رابطہ نہ ہو۔ آج اس نیٹ کی بدولت ہم اتنے سال بات ایک دوسرے کو دیکھ اور سن سکتے ہیں‘‘، جوابا امی نے بھی ان کی تائید کی۔سائیڈ پر بیٹھے ابومحسن سے بولے ،’’بیٹا میری ایک زوم پر میٹنگ ہے میں کچھ مصروف ہوں تم یہ بجلی،میرے موبائل وغیرہ کے بل جمع کروا دینا‘‘۔ جی ابواب تو یہ سب بل میں نیٹ کے ذریعے ہی جمع کروا دوں گا۔ ویسے بھی مجھے کل کے لیے اپنی اسائنمنٹ بنانی ہے تو باہر جانا مشکل ہو گا‘‘، یہ کہہ کر دونوں بچے کمرے سے باہر نکل آئے۔

ماریہ اور مون دونوں یونیورسٹی کے طالبعلم تھے۔ ان کا موبائل اور نیٹ پر بڑھتا ہو رجحان ہر وقت والدین کو پریشان کیے رکھتا۔ امی بہت بار دونوں کو نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کی تلقین کرتیں مگر ان کی لاپروائی تھی کہ بڑھتی جارہی تھی۔ دونوں بچے والدین کے ساتھ بھی زیادہ وقت نہ گزارتے۔ بس ہر وقت موبائل میں گردن دیے بیٹھے رہتے۔ آخری سمسٹر کے امتحان سر پر تھے اور ماریہ بیٹھی فلم دیکھ رہی تھی۔ مون نے یہ دیکھا تو بولا’’ پڑھائی کر لو۔ امی کو پتہ چلا تو بہت ناراض ہونگی‘‘ ،جس پر ماریہ بولی،’’ یار دنیا میری انگلیوں میں ہے امی کو کیا پتہ چلے گا اور تم بھی تو گوگل سے ہی چھاپے مار مار کے آج تک پاس ہوتے آئے ہو۔ تم نے کونسا اپنا دماغ لگایا ہے‘‘۔ ’’ہاں یہ تو تم نے ویسے صحیح کہا کہ دنیا اب ہماری انگلیوں میں ہے ایک بٹن دبانے سے اور ایک جملہ لکھ کر گوگل پر تلاش کرنے سے ساری دنیا کی کتابیں کھل جاتی ہیں‘‘۔وقت گزرتا گیا نتیجے کا دن آ پہنچا اور دونوں کو ہی برے بتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ جس پر ابو امی بچوں پر بہت برہم ہوئے۔

کچھ دنوں بعد ماریہ کے یہاں اس کی خالہ اور ان کے بچے رہنے آئے۔ ماریہ اور محسن دونوں بہت خوش تھے۔ گھر میں بہت رونق تھی۔ ایک دن ماریہ کی کزن نے دیکھا کہ ماریہ نیٹ سے ناولز ڈاؤنلوڈ کر کے پڑھتی رہتی ہے۔ جس پر جب رابعہ نے اس سے استفسار کیا تو ماریہ نے کہا،’’یار دنیا اب ہماری انگلیوں میں ہے۔ اب تو سب کچھ آسانی سے نیٹ پر مل جاتا ہے‘‘۔ تم پڑھو گی؟ ماریہ نے رابعہ سے پوچھا تو وہ کہنے لگی،’’ نہیں! ویسے بھی نیٹ پر آنے والے ایسے ناولز اور فلمیں ڈرامے غلط راہ پر انسان کو لے جاتے ہیں۔ گناہ الگ ہوتا ہے۔ اچھا اب میں نماز کے لیے جارہی ہوں‘‘۔ماریہ یہ سب سن کر بہت حیران ہوئی۔ایک دن محسن اور ماریہ آپس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ تم نے دیکھا ماریہ’’ ریاض بھائی، رابعہ اور خالہ جان نماز کی بہت پابندی کرتے ہیں‘‘، مون نے کہا۔’’ ہاں اور میں نے تو رابعہ کو واٹس ایپ پر اسلامک لیکچرز بھی سنتے دیکھا ہے‘‘۔

ایک دن محسن اپنے موبائل پر گیم کھیلنے میں مصروف تھا۔ اس نے ریاض بھائی کو بھی دعوت دی۔ مگر انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ’’میں قران شریف حفظ کررہا ہوں۔ اس طرح کی گیمز مسلسل دیکھنے سے انسانی ذہن میں یہ ہی ہر وقت شیطانی خیالات آتے ہیں۔ جس کے باعث انسان اشتہا انگیز سوچوں میں غرق ہو جاتا ہے‘‘۔ خالہ جان اور امی بیٹھی باتیں کر رہیں تھیں کہ خالہ کہنے لگیں،’’ مریم تم کچھ اداس سی لگتی ہو‘‘۔

جس پر امی نے کہا،’’ہاں بس بچوں کی وجہ سے، آج کل کے اس انٹر نیٹ نے اولاد کو والدین سے دور کر دیا ہے اور دین اسلا م کا توکچھ ہوش نہیں رہا بچوں کو‘‘۔’’تم فکر مت کرواوراولاد کے لیے دعا کرو، ماں کی دعا ضرور پوری ہوتی ہے‘‘۔رابعہ ایک دن کسی وجہ سے پریشان تھی۔ اور اپنی امی کی گود میں سر دیے بیٹھی تھی۔ جس پر ماریہ کی خالہ اسے تسلی دیتے ہوے نماز اور صبر سے مدد مانگنے کا کہہ رہی تھیں۔ اس واقعہ کو دیکھ کر ماریہ اور محسن کے دل پر بڑا گہرا اثر ہوا۔ کچھ دنوں بعد خالہ جان چلیں گئیں اور جاتے ہوے بچوں کو اسلامی کتب کا ایک سیٹ تحفے میں دے گئیں۔

خالہ جان کے جانے کے بعد ایک دن امی فجرکی نماز کے لیے اٹھیں تو دیکھا کہ ماریہ کے کمرے سے آوازیں آرہی ہیں۔ انھوں نے اندر جھانکا تو ماریہ لیپ ٹاپ پر کسی مدرسہ کا بیان سن رہی تھی۔پھر اس نے وہ بند کیا اور نماز کی نیت باندھ لی ۔اب اکثر ایسا ہی ہوتا تھا کہ ماریہ موبائل پر کسی نا کسی اسلامی گروپ میں لیکچرز سن رہی ہوتی۔ ایک دن امی نے ماریہ سے پوچھا تو اس نے شرمندگی سے سر جھکاتے ہوئے بتایا کہ کیسے وہ پہلے فلمیں ڈرامے دیکھا کرتی تھی مگر خالہ وغیرہ کی صحبت نے اس کو نئی راہ دکھائی۔ یہ بات سن کر امی کو اپنی دعائیں قبول ہوتی دکھائی دیں۔

ایک دن ابو کسی کام سے بچوں کے کمرے میں گئے تو انھوں نے دیکھا کہ کمرے میں تلاوت لگی ہوئی ہے اور محسن موبائل میں سے تفسیر نکال کر پڑھ رہا ہے۔ یہ دیکھ کر ابو کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ انھوں نے بے اختیار مون کو گلے لگا لیا۔ابو حیرت سے مون کی طرف دیکھتے ہوے بولے ’’بیٹا یہ سب ‘‘؟ جس پر مون نے کہا۔’’ ابو دنیا میری انگلیوں میں ہے اب یہ مجھ پر منحصر ہے کہ میں اپنی دنیا کو غلط خطوط پر چلا تا ہوں یا صحیح‘‘۔اس بات پر پیچھے کھڑیں امی کی انکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہو گئے اور سب گھر والے سجدہ شکر بجا لائے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 520203 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Nov, 2018 Views: 204

Comments

آپ کی رائے