ایدھی صرف ایک ہی تھا

(Ali Hassan Joya, Islamabad)

اسے بچپن سے ہی ا یدھی پسند تھا اسے ایدھی جیسا بننا پسند تھا مگر ا یدھی جیسی شخصیت بننا کوئی عام بات تھوڑی ہے لیکن پھر بھی وہ ا یدھی جیسا بننا چاہتا تھا۔ اس میں کوئی شک نہ تھا کہ دوسروں کو درد میں دیکھ کر اسے کچھ ہوتا تھا۔ اسے یاد تھا کہ جب اس کی پہلی نوکری ہوئی تو اس نے اپنی پہلی تنخواہ سے غریبوں کے لئے کھانا خریدا۔ کچھ عرصے تک وہ اپنی ہر تنخواہ میں سے آدھی تنخواہ غریبوں میں بانٹتا تھا اس کی زندگی میں ایک عجیب سا سکون تھا اسے کوئی کسی چیز کی پریشانی نہ تھی۔ مگر اب اس کی ضرورتیں بڑھتی جا رہی تھی اچھی بات ہے اسے اپنے آپ کو بھی سہی رکھنا تھا پہلے سائیکل اور اب اس کی ضرورت گاڑی بن چکی تھی۔ضرورتیں بڑھنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی زندگی کا مقصد بھولتا جا رہا تھا جیسے اس کے اندر ایک لالچ سی جاگ اٹھی ہو۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا امیر لوگوں میں ہوچکا تھا تو مہنگی چیزیں اس کی مجبوری بن چکی تھی ابھی وہ اپنی زندگی کا مقصد بھول چکا تھا اس کے پاس پیسہ تو بہت تھا مگر اس کی زندگی سے سکون جا چکا تھا۔ اچھی گاڑی بڑا گھر اور پیسے کی لالچ بڑھتی جا رہی تھی حالانکہ اس کے لئے اک چھوٹا سا گھر بھی کافی تھا مگر بڑا گھر بڑی گاڑی اس کے لئے انا بن چکی تھی۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جہاں اسے غریبوں کے گھر چھین کر وہاں اپنا کاروبار شروع کرنا پڑا۔ ایسے ہی پیسے کماتے کماتے اس کی زندگی کا آخری پہر آچکا تھا اب سب اس کے سامنے اس کی بہت تعریف کرتے ہیں مگر اس کو معلوم ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں سب اس کے خلاف ہیں۔ وہ اندر ہی اندر سے بالکل اکیلا ہو گیا ہے اس کی اولاد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے ملک سے باہر جا چکی ہے وہ اکیلا ایک بڑے بنگلے میں بیٹھا رات کے اس پہر ہاتھ میں سگہار جلائے آنکھوں میں آنسو لیے رو رہا ہے۔ آج اسے اپنا بچپن یاد آ رہا ہے اسے یاد آ رہا ہے کہ اس کا مقصد کیا تھا وہ پیسے کے پیچھے کیا کچھ کھو بیٹھا تھا۔ آج اس کے پاس پیسہ تو بہت ہے مگر سکون نہیں۔ اسے آج معلوم ہوا کہ پیسے سے سکون نہیں ملتا۔ آج اسے معلوم ہو رہا تھا کہ ا یدھی ہر کوئی نہیں بن سکتا۔ اس سے اپنا یہ اکیلا پن برداشت نہ ہو پا رہا تھا تو اس نے اپنا فون اٹھایا اور اپنے بیٹے کو فون ملایا مگر اس کا بیٹا مصروف تھا اور اس کے پاس اپنے والد سے بات کرنے کو وقت نہیں تھا۔ آج یہ ڈھیر سارا پیسہ اس کے کسی کام کا نہ تھا اور سب بوڑھاپے میں اسے چھوڑ کے جا چکے تھے کہ اس کے گھر میں کام کرنے والا ایک غریب سا نوکر اس کے پاس آیا اور بولا آپ پریشان مت ہوں میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ali Hassan Joya

Read More Articles by Ali Hassan Joya: 8 Articles with 2415 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Nov, 2018 Views: 333

Comments

آپ کی رائے