بھوک

(Dr. Shakira Nandini, Oporto)
تڑپتی آنت میں جب بھوک کا شعلہ بھڑکتا ہے، تو وہ تہذیب کے بے رنگ کاغذ کو، تمدن کی سبھی جھوٹی دلیلوں کوجلا کر راکھ کرتا ہے، حقیقت میں یہی سب سے بڑا سچ ہےکہ جو بھوک ہوتی ہے بڑی بدذات ہوتی ہے

آج میرے کنسلٹنٹ ڈاکٹر جوز فونتانا (Praça José Fontana) نے مجھے ایک مریض ایمرجنسی میں ریفر کیا۔ مجھے سارے کام چھوڑ کر اسے دیکھنا پڑا ۔
اکتیس برس کا آدمی جس نے اپنا نام سدونیوو پیز (Sidónio Pais) بتایا، میرے سامنے بچوں ی طرح ہچکیوں سے رو رہا تھا۔
میں نے ایک لمبی خاموشی کی بعد اس پوچھا کہ آج ایسا کیا ہوا جو تمہیں اتنے غمزدہ ہو۔
اس نے مجھے ایسے دیکھا جیسے میرے سوال نے اسے اور رنجیدہ کر دیا ہو۔
اس نے ایک آہ بھری ۔۔ ۔۔
ڈاکٹرآج مجھ سے کسی نے پوچھا کہ میں کیوں نشہ کرتا ہوں؟
میں سوچ رہی تھی کہ یہی سوال تو مجھے بھی کرنا تھا۔
پھر ۔ ۔۔۔ تم نے کیا جواب دیا ۔۔ میں نے اس کی طرف ٹشو پیپر بڑھاتے ہوئے پوچھا ۔۔
ڈاکٹر میں یہ سوال جب خود سے پوچھتا ہوں تو مجھے ایک ہی جواب سمجھ آتا ہے۔
بھوک۔
مجھے نہیں معلوم ڈاکٹر کیا بھوک اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ وہ میری ماں کو مجھے سڑکوں پر رلنے کے لئے چھوڑ جانے پر مجبور کردے اور پھر یہی بھوک مجھے نشہ آور بھی بنا دے؟
آج صبح آٹھ بج کر دس منٹ سے “ بھوک “ ایک سوالیہ نشان بن کر میرے آس پاس بھٹک رہی ہے اور میں چپ ہوں۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Shakira Nandini

Read More Articles by Dr. Shakira Nandini: 172 Articles with 99331 views »
I am settled in Portugal. My father was belong to Lahore, He was Migrated Muslim, formerly from Bangalore, India and my beloved (late) mother was con.. View More
16 Nov, 2018 Views: 411

Comments

آپ کی رائے