پیٹی نمبر 335139 اور لاہور آرٹس کونسل

(Noor Ul Huda, )

پاکستان آرمی پیٹی نمبر 335139 کی تاریخی حیثیت اور سپاہی مقبول حسین کا تعارف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ غازی مقبول حسین نے جس طرح دشمن کی قید میں وطن عزیز کی عزت رکھی ، بلاشبہ ازلی دشمن کے انسانیت سوز مظالم ، حیوانیت اور ناقابل یقین بربریت کو دلیری کے ساتھ برداشت کرنا ایک کٹھن کام تھا اور مسلسل 40 سال کے عرصہ تک یوں ظلم کے پہاڑوں تلے دبے رہنا یقینا کسی عام فرد کا کام نہیں ہے ۔ اگرچہ ہماری فوجی ٹریننگ ہوتی ہی ایسی ہے کہ اذیتیں برداشت کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے ۔ لیکن سخت سے سخت جان بھی جبر اور تشدد ایک حد تک ہی برداشت کر سکتی ہے …… مگر سپاہی غازی مقبول حسین نے تو استقامت کی حد ہی کر دی ۔ رینک میں صرف سپاہی تھا لیکن کسی جنرل یا کمانڈو سے بھی زیادہ قوت برداشت رکھتا تھا ۔ اس میں ظلم کو سہنے کے معاملے میں کمال درجے کی مہارت تھی …… اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انڈیا کی جیلوں سے کسی ایسے پاکستانی ، جو اس کے خلاف برسر پیکار ہو ، کا یوں بچ کر آ جانا غنیمت ہی کہی جا سکتی ہے ۔ غازی مقبول حسین ایسا ہی ایک خوش قسمت تھا جسے خراج تحسین پیش کرنا بلاشبہ ہم پر فرض بھی تھا اور قرض بھی ۔

اسی ضمن میں حکومت پنجاب نے اس مرد قلندر کو بعد از مرگ خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک سٹیج پلے ڈیزائن کیا اور اسے لاہور آرٹس کونسل میں مسلسل ایک ہفتہ چلایا گیا ۔ نئی ، نوجوان نسل کیلئے یہ آگاہی ڈرامہ تھا اور اپنے تئیں بھارتی فوج کی اوقات کو بھی ان کی عیاریاں دکھا کر باور کروا رہا تھا ۔ ڈرامے میں بتایا گیا کہ کیسے مقبول حسین کو جنگی قیدی کا درجہ دینے سے کنی کترائی گئی اور کیسے انڈین فوج نے اس سے راز اگلوانے کی کوشش کی ۔ ایسی اذتیں دی گئیں کہ انسانی ظلم کی تاریخ میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی ۔ دنیا کی عسکری اور جبری تاریخ میں ایسی کہانی شاید ہی کسی نفس کی ہو ، کسی جان سے ایسا سلوک روا نہیں رکھا گیا ہوگا جیسا بھارتی سورماؤں نے ایک پاکستانی سپاہی کے ساتھ رکھا …… مقبول حسین کے معاملے میں انڈین آرمی نے ہر قسم کے انسانی حقوق کو بالائے طاق رکھا مگر اس کی زبان و دل سے پاکستان کا ’’بھوت‘‘ نکالنے کی کوشش میں کامیاب نہیں ہوئی …… ڈرامے میں ایک ایسا موڑ بھی آیا جب اس کی گرفتاری پر بھارتی فوج نے پچھتاوے کا اظہار کیا اور اس امر کا اعتراف کیا کہ سپاہی مقبول حسین بہت ٹھوس اور فولادی ہے ۔ انہیں غازی مقبول حسین کا اس قدر خوف تھا کہ اس کی زبان تک کاٹ دی ، تاکہ وہ اپنی بپتا کسی کو نہ سنا سکے ۔ وہ بھول گئے تھے کہ پاک فوج میں پڑھے لکھے لوگ بھرتی کئے جاتے ہیں جن کی آواز چھین لی جائے تو وہ قلم کی زبان سے بھی بول سکتے ہیں ۔

بلاشبہ پنجاب حکومت اور بالخصوص وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان مبارکباد کے مستحق ہیں جن کے آئیڈیا کی وجہ سے یہ سٹیج پلے ترتیب دیا گیا ۔ فیاض الحسن چوہان نے جب سے وزارت سنبھالی ہے انہوں نے سینماؤں اور سٹیج کو گندگی اور عریانیت سے پاک کرنے پر توجہ دی ہے جوکہ قابل ستائش ہے ۔ اگرچہ آغاز میں ان کے رویے اور جذبے پر تنقید بھی کی گئی لیکن ان کے قدم نہیں ڈگمگائے اور وہ استقامت کے ساتھ اس مشن پر جتے رہے ۔ اس دوران انہوں نے ایک آرٹسٹ اکیڈمی بنانے پر توجہ مبذول کی …… ڈراموں ، فلموں میں عریانیت سے پاکی کیلئے مشاورتی کمیٹی بنائی جس میں سینئر اور منجھے ہوئے ، اچھی شہرت کے حامل فنکاروں کو شامل کیا …… اسی طرح فنکاروں کی فلاح و بہبود پر توجہ دیتے ہوئے ہیلتھ کارڈ جاری کرنے کی منصوبہ بندی کی ……اچھی کارکردگی دکھانے والے فنکاروں کیلئے پرکشش انعام کا اعلان کیا …… اس کے علاوہ ’’وائس آف پنجاب‘‘ کے نام سے صوبے کے تمام آرٹس کونسلوں میں آرٹسٹوں کی فنکارانہ صلاحیتوں کے اظہار کیلئے میوزک کنسرٹس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے …… اس کے ساتھ ساتھ آرٹسٹوں کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کیلئے انہیں مالی امداد بھی فراہم کرنی کی بھی منظوری دی …… جبکہ فیاض الحسن چوہان کی زیر سرپرستی پنجاب حکومت مجموعی طور پر آرٹسٹوں کے مسائل کے حل کیلئے جامع اقدامات بھی کرے گی …… مستحق فنکاروں کی انشورنس ، فنکاروں کو مختلف فنون پر تربیت اور تعاون کیلئے اکیڈمی کا قیام ، فنکاروں کیلئے سپورٹ فنڈ ، لوک و صوفی میوزک کی ترویج کیلئے ’’لوک سٹوڈیو‘‘ کے قیام کے ذریعے لوک فنکاروں بالخصوص دور دراز علاقوں میں رہنے والے فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور نئے فنکاروں کو پلیٹ فارم مہیا کرنے جیسے فیصلے پنجاب کے وزیر اطلاعات کے اب تک کے سفر کا حصہ ہیں …… غرض صاف ، ستھری اور معیاری تفریح کی فراہمی اور اس کے ذریعے تہذیب و ثقافت کے فروغ کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی پر توجہ جیسی کاوشیں بلاشبہ فیاض الحسن چوہان کی اچھی تربیت اور سوچ کو آشکار کرتی ہیں ۔ ہم ایک عرصہ سے کسی ایسے صاحب اختیار کی ضرورت محسوس کر رہے تھے جو آرٹ کے شعبے کی صحیح معنوں میں خدمت کرتے ہوئے یہاں سے ’’گند‘‘ کو صاف کرے …… اور موجودہ وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا اپنے منصب سے بھرپور انصاف کرتے ہوئے ذمہ داری کا صحیح معنوں میں حق ادا کرنا ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے غیرتمند ہاتھوں اور غیور اجتماعیت میں تربیت پائی ہے …… وگرنہ آج تک آنے والے کسی ’’صاحب اختیار‘‘ نے ٹی وی اور ٹھیٹر کی اصلاح پر توجہ نہیں دی …… فیاض الحسن چوہان نے پہلی مرتبہ اس کام میں طبع آزمائی کی ہے اور میری دعا ہے کہ انہیں اس ضمن میں کامیابیاں حاصل ہوں ۔

سٹیج ڈرامہ ’’سپاہی مقبول حسین‘‘ کا حصہ صدارتی ایوارڈ یافتہ منجھے ہوئے فنکار راشد محمود اور عذرا آفتاب بھی تھے جنہوں نے نہایت خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ بالترتیب غازی مقبول حسین اور اس کی ماں کا کردار ادا کیا ۔ یہ اس لحاظ سے بھی منفرد ڈرامہ ہے کہ اس میں 98 فیصد لائٹ اور ساؤنڈ استعمال کیا گیا ہے جبکہ صرف 2 فیصد کھیل آواز / بول چال پر مشتمل ہے ۔ 45 دن کی مسلسل ریہرسل کے بعد یہ کھیل عوام تک پہنچایا گیا ہے ۔ اصلاً ’’سپاہی مقبول حسین‘‘ ڈرامہ تیار کرکے ٹھیٹر کی تاریخ میں ایک نئی روایت ڈالی گئی ہے جہاں قومی ہیرو ڈسکس ہوا ہے ۔ غازی مقبول حسین ایک مضمون ، ایک تاریخ ہے ، اور اصغر ندیم سید نے اس 40 سالہ تاریخ کو کمال مہارت سے ڈیڑھ گھنٹے کے ڈرامے میں سمویا ہے ۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ اس ڈرامہ میں کسی قسم کے مالی مفاد کو مدنظر نہیں رکھا گیا ، اس کا مقصد صرف غازی سپاہی مقبول حسین کو خراج تحسین پیش کرنا اور نوجوان نسل کو اس ہیرو سے روشناس کرنا تھا ۔

میں سمجھتا ہوں کہ جہاں اس ڈرامہ میں شامل تمام کرداروں اور ٹیم کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے …… وہیں اسے دیگر آرٹس کو نسلوں میں بھی ریلیز کیا جانا چاہئے ، یا کم از کم سیٹلائیٹ پر ڈال کر آن ائیر کیا جائے تاکہ مذکورہ پیغام کی روشنی نہ صرف پورے پاکستان میں پھیلے بلکہ اس کی دھوم بھارتی فوجی درندوں تک بھی پہنچے کیونکہ اس میں بھارتی فوج کی چالاکیاں اور مکاریاں دکھائی گئی ہے جس نے ایک پاکستانی فوجی کو گمنام کرنے اور اس کی عمر کے خوبصورت پل برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ یقینا تاریخ اس جرم میں شامل ناہنجاروں کو کبھی معاف نہیں کرے گی …… نیز نئی نسل کو اپنی زمین اور اپنے لیجنڈز سے جوڑے رکھنے کا یہ سلسلہ دیگر ہیروز تک بھی پھیلانا چاہئے ۔ مختلف طریقوں سے انہیں متعارف کروانے اور خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے ، کہ زندہ قومیں ایسا ہی کرتی ہیں ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noor Ul Huda

Read More Articles by Noor Ul Huda: 48 Articles with 19572 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Nov, 2018 Views: 515

Comments

آپ کی رائے