منشیات, ہماری نسل اور بچاؤ!

(Babar Alyas, Chichawatni)
سب اسلام سے دوری کی وجہ سے ھے ورنہ میرا دین مکمل دین ھے اس پر عمل کرنے سے اللہ کی رحمت ملتی ھے اور اس سے دور ھو کر دنیا کی ذلت.....

دین اسلام نے انسان کو پاکیزہ زندگی گزارنے کی مکمل تعلیم دی اور صالح معاشرہ کو تشکیل دینے اور تعمیر کرنے کی مکمل راہنمائی کی اور ترغیب بھی دی۔ انسان کو حلال وحرام کی تمیز سکھائی، جائز وناجائز کی حدود بتائی ، اسکے لیے مفید ومضر کے فرق کو واضح کیا، اشیائے خورد ونوش میں اچھے, برے، طیب وخبیث کو الگ الگ کرکے دکھایا۔جو چیزیں انسان کی صحت ِ ظاہری و باطنی کے لئے خطرناک ہیں ان کی مکمل حقیقتوں کو اجاگر کیا، اور جن چیزوں سے صرف ایک فرد تباہی کے دہانے پر نہیں بلکہ پورے کا پورا معاشرہ بربادی کے گڑھے میں چلا جاتا ہے اس سے بچنے کا طریقہ تک بتایا ہے.

سرور کائنات محمد کریمﷺ نے شراب کو تمام برائیوں اور خرابیوں کی کنجی اور جڑ قرار دیا ہے، اس کے استعمال کرنے کی وجہ سے وہ برائیوں کے دروازوں کو کھول بیٹھتاہے اور گناہوں ونافرمانیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:لاتشرب الخمر، فانھا مفتاح کل شر۔( ابن ماجہ:337۰)’’کہ شراب نہ پینا، کیوں کہ وہ ہر شر کی کنجی ہے۔‘‘آپﷺ نے شراب کو ’’ام الفواحش‘‘ یعنی برائیوں اور بے حیائیوں کی ماں قراردیا ہے۔ارشاد ہے:الخمر ام الفواحش اکبر الکبائرمن شربھا وقع علی امہ وعمتہ وخالتہ۔( دارقطنی:4052)’’کہ شراب فواحش کی ماں ہے، اور اکبر الکبائر( کبیرہ گناہوں میں بہت بڑا) ہے، جو اس کو پیتا ہے وہ اپنی ماں اور پھوپھی اورخالہ کے ساتھ بھی بدکاری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔‘‘آپ ﷺ نے فرمایا:لاتشربن الخمر، فانہ راس کل فاحشۃ۔( مسند احمد:21503)کہ تم ہر گز شراب نہ پینا، اس لئے کہ یہ ہر برائی کی جڑہے۔‘‘

" ایک ایسا لفظ ہے جس کے زبان پر آتے ہی اس کی خرابیاں نگاہوں کے سامنے رقص کرنے لگتی ہیں
نشوونما کے دور میں نئی چیزوں کے بارے میں تجسّس ہونا فطری بات ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ہر فرد بشمول ہمارے بہترین دوستوں کے یہ کام کر رہے ہیں۔دوستوں کے علاوہ ذرائع ابلاغ بھی ہمیں متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔سگریٹ ، منشّیات ،شِیشہ یا شراب وغیرہ ہر چیز اچھی معلوم ہوتی ہے اور اپنے انداز کے لحاظ سے بالغوں کی سرگرمی معلوم ہوتی ہے۔ذرا غور کیجئے کہ اِن چیزوںکی فلموں اور اشتہارات میں کس طرح منظر کشی کی جاتی ہے۔

لفظ ’منشیات‘ بہت وسیع ہے، اس کی تعریف ایسے مواد کے طور پر کی جاسکتی ہے جو جسم یا/اور دماغ پر ایک یا ایک سے زیادہ قسم کے طبعی اثرات پیدا کرے۔ ان میں سے بعض منشیات مکمل طور پر قانونی ہوتی ہیں اور آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں، چند دیگرصرف نسخے پر دستیاب ہیں، اور کچھ کا استعمال، پیداوار اور تقسیم غیرقانونی ہے۔

بعض منشیات کا اثر مثبت بھی ہوتا ہے اور ان کو کئی طرح کے امراض کے علاج کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے،تاہم کچھ زندگیوں کو تباہ کر دیتی ہیں اور وہ مقامی آبادی اور پورے معاشرے کے لئے بربادی کاسامان بن جاتی ہیں۔ حتٰی کہ وہ جن کا جائز طبی استعمال ہوتا ہے یا ان کو معاشرتی سطح پر بھی قبولیت حاصل ہوگئی ہے ، علت میں مبتلا کرسکتی ہیں اور ان کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔

گذشتہ دنوں جعفرآبادپولیس کا ڈیرہ ﷲ یار میں قائم جوئے کے ایک اڈے پر کامیاب چھاپہ ،سندھ وبلوچستان کے 31 نامور جواری گرفتار،داؤپر لگے لاکھوں روپے سمیت 16موٹر سائیکل بھی برآمد،گرفتار افراد میں 4پولیس اہلکار بھی شامل ہیں،مقامی پولیس کی اجازت سے اور رضامندی سے یہ اڈہ چل رہا تھا،ایک گرفتارجواری کا تھانے کے اندر پولیس پر الزام،تفصیلات اور ذرائع کے مطابق ایس ایس پی جعفرآباد کی خصوصی نگرانی میں قائم مقائم ڈی ایس پی ڈیرہ اللہ یار سرکل سبحان علی مگسی نے ڈیرہ اللہ یار کی بہادرشاہ کالونی میں واقع ایک مکان پر چھاپے کے دوران 31افراد کو مبینہ طور پر جواء کھیلتے ہوئے گرفتارکر کے دواؤ پر لگی ہوئی ایک لاکھ14ہزار روپے سمیت 16موٹرسائیکلیں بھی قبضے میں لیکر ان کے خلاف پولیس تھانہ ڈیرہ اللہ یار میں ایس ایچ او گل حسن بھرانی کی مدعیت میں مقدمہ نمبر264/18کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے ،مزید تفتیش سب انسپیکٹرجہانزیب خان کررہے ہیں،جوئے کے اڈے سے گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق جعفرآباد،نصیرآباد،صحبت پور اور جیکب آباد سے بتایا جارہا ہے،جن میں جعفرآباد پولیس کے دو جبکہ جیکب آباد اور بلوچستان کانسٹیبلری کا ایک اہلکار بھی شامل ہے،موقع سے گرفتار ایک جواری کا کہنا تھا کہ مذکورہ جوئے کا اڈہ باقاعدہ پولیس کی سرپرستی میں چل رہا تھا ،جس کا 6لاکھ روپیہ ایڈوانس جبکہ نوہزار روپے روزانہ کی بنیاد پر مقامی پولیس سے معاہدہ طے ہواتھا،جبکہ موقع سے پولیس نے ساڑھے 19لاکھ برآمد کئے ہیں،تاہم جب اس سلسلے میں مقامی ایس ایچ او سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں یکسرمسترد کردیا,بہرحال یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک بھر میں پولیس کی آشیر باد اور بااثر شخصیات کی سرپرستی کے بغیرمنشیات,جواء اور فحاشی کے ان اڈوں کا قائم ہونا تو ممکن ہے لیکن زیادہ عرصہ تک چلنا ناممکن ہوتا ہے,اسی لئے اس قبیح کاروبار میں ملوث افراد کومجبوراً مقامی پولیس کی سرپرستی حاصل کرنی پڑتی ہے اور اس میں کیا شک کہ ان اڈوں سے ملنے والی آمدنی کا حصہ بقدر جثہ نیچے سے اوپر تک سب کو پوری دیانتداری کیساتھ پہنچا دیا جاتا ہے,اوربدقسمتی سے ہم صحافی بھی محض چند ٹکوں کے عوض برائی کے ان اڈوں کے خلاف کچھ بھی نہیں لکھ پاتے,

کسی بھی معاشرے کی اخلاقی پستی کا اندازہ اس معاشرے میں پائ جانے والی اخلاقی برائیوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے,اور بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں جواء,منشیات اور جسم فروشی جیسی برائیاں انتہائی عام سمجھی جاتی ہیں,اور ہمارے ملک کا کوئ علاقہ ایسا نہیں جہاں ان برائیوں کے اڈے موجود نہ ہوں,کہیں چوری چھپے تو کہیں سرے عام ,جن علاقوں میں ان اڈے چلانے والوں کو مقامی پولیس اور بااثر شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے وہاں وہ بلاکسی خوف وخطر ان مکروہ دھندوں کو جاری رکھے ہوتے ہیں,اوران سے تنگ علاقہ مکینوں کی کہیں پربھی کوئی شنوائ نہیں ہوتی,ان برائیوں کی وجہ سے اچھے بھلے خاندان تباہ وبرباد ہو جاتے ہیں ,اور انہی کی بدولت معاشرے میں جرائم کی وارداتیں روز کا معمول بن جاتی ہیں,آج ضرورت اس امر کی ہے کہ صرف پولیس یا میڈیا والوں پر ہی انحصار کرنے کے بجائے معاشرے کے ہر باشعور فرد کو ان برائیوں کی روک تھام کے لئےاپنا اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئیے تاکہ ہم اپنی موجودہ و آنے والی نسل کو مذکورہ بالا اخلاقی برائیوں سے بچا سکیں....

عالمی ادارہ صحت W.H.O نے بھی 80 ملکوں کے احوال وکوائف کا بہت غور سے جائزہ لے کر یہ بتایا کہ امریکہ، برطانیہ، مغربی جرمنی، روس اور جاپان میں نفسیاتی، ذہنی اور اعصابی امراض میں افزائش کا واحد سبب نشے بازی ہے۔

اس لئے اب ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم اپنے معاشرہ کو ,اپنی نئی نوجوان نسل کو منشیا ت کی لعنت سے پاک کریں، اس کے تمام چھوٹے بڑے نقصانات کو لوگوں کے سامنے صاف انداز میں مکمل پیش کریں،وطن عزیز کے مستقبل کو اپنے نوجوانوں کو اس لعنت سے بچائیں اور تباہی کی دلدل میں پھنسنے سے ان کو روکیں، والدین اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں، اور ان کی صحبت اور دوستی کا جائزہ لیتے رہیں،تاکہ وہ منشیات کی قبیل کی تمام تر چیزوں سے سختی کے ساتھ روکیں اور دینی ودنیوی، ظاہری وباطنی، روحانی وجسمانی نقصانات اور خطرات سے آگاہ بھی ھو جاہیں اور محفوظ بھی.اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرماۓ.
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 291 Articles with 99005 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
16 Nov, 2018 Views: 464

Comments

آپ کی رائے