پاکستانی میڈیا ، ضرورت سے زیادہ آزاد

(بشریٰ کنول ضیاءالر حمٰن, کراچی)
یہ تحریر میڈیا کی وجہ سے معاشرے کی بیگار اور اصلاح کے متلعق ہے

پاکستان میں میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئےپیمرا کا ادارہ تو قائم کردیا گیا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ صرف نیوز چینلز کو کنٹرول کرنے کی حد تک، پاکستانی انٹرٹینمنٹ چینلز کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری پیمرا کو نہیں دی گئی تھی۔

پاکستان کے کچھ نجی انٹرٹینمنٹ چینلز جن میں نیلا پیلا چینل پر دکھائے جانے والے ڈراموں میں انتہائی بےحیائی، فحاش زدہ ڈرامے اور ان میں غیر مہذب زبان کا استعمال بڑے ہی دھڑلے سے کیا جارہا ہے۔ عوام کو اس طرح کے ڈرامے دیکھا کر یہ ثابت کیا جارہا ہے کہ یہ تو حقیقت میں ہوتا ہے اصل زندگی میں یہی ہوتا ہے حالانکہ اسطرح کے ڈراموں میں دکھایا جانے والا مواد حقیقت پر مبنی نہیں ہے ایسا کہی نہیں ہوتا اور اسلامی معاشرے میں تو بلکل بھی نہیں۔ نیلا پیلا چینل پر چل رہا ڈرامہ اب دیکھ خدا کیا کرتا ہے میں میاں بیوی کے پاک اور ازدواجی تعلق کو اتنی بے حیائی سے محفل گفتگو بناکر دیکھا یا گیا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے صرف اور صرف اپنے چینل کی ریکٹنگ کیلئے نوجوان نسل کو خراب کیا جارہا ہے اور یہ دکھانے کیلئے کہ ایسا ہمارے معاشرے میں حقیقت میں ہوتا ہے۔

ہمارے ملک کے حکمران تو سوئے ہوئے ہیں انہیں فنڈز مانگنے سے ہی فرصت نہیں ہے جو معاشرے میں پہلا ئی جانے والی گندگی کو دیکھیں اور اس گندگی پہلا نے والوں کے خلاف نوٹس لیں اور ہماری عوام بھی اس طرح کے ڈراموں کے خلاف احتجاج نہیں کررہے ۔

میں نے اس ڈرامے کے خلاف اور اس چینل کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیا تو لوگوں نے مجھے تنقید کا نشانہ بنایا ۔

اس چینل کا اخبار بھی پیچھے نہیں ہے جہاں اخبارات کے صفحات کو کم کیا جارہا ہے وہی پورے پورے صفحات پر خبر چھاپنے کہ بجائے اشتہارات چھاپے جارہے ہیں اور اشتہار بھی کوئی مہذب طریقہ کا نہیں بلکہ بے حیائی، بے لباسی میں لپٹا ہوا ایک موبائل کے اشتہار میں لڑکی کا کیا کام اور اگر لڑکی کو دیکھایا بھی جارہاہے تو ذیادہ موبائل فون کو دیکھایا جاۓ موبائل فون کو دیکھا نے کے بجائے بھارت کی اداکارہ کو انتہائی چست لال رنگ کے لباس میں لیٹے ہوئے دیکھا یا گیا ہے اور اس کے ہاتھ میں موبائل فون ہے جو کہ نظر آنے سے قاصر ہے ، بس یہی کافی نہیں ہے بلکہ شان مصالحہ جات کےاشتہار میں بھی پاکستانی معاشرے اور ثقافت کو غلط طریقے سے دیکھا یا گیا ہے پھر آتے ہیں اس اشتہار پر جس نے بے حیائی کی ساری حدیں توڑ کے رکھ دیں ہیں اس اشتہار کو بڑے ہی دھڑلے سے چلایا جارہا ہے اس پروڈکٹ کا نام تو نہیں لکھ سکتی میں لیکن اس اشتہار میں متیرا نے کام کیا ہے سمجھ تو گئے ہوں گے آپ لوگ کہ کونسے اشتہار کی بات کررہی ہوں میں اس کے خلاف لوگوں نے احتجاج کیا کئی دفع کیا لیکن کئی دفع ایک ہی چیز دکھائے جانے پر لوگ اسے نورمل سمجھنے لگتے ہیں یہ ایک پروپیگنڈے کہ تحت کیا جاتا ہے کسی ملک کے معاشرہ کو اچھا یا خراب کرنے کیلئے اس کے میڈیا چینلز کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے دنیا کے تقریباً سبھی ممالک اس بے حیائی کی لپیٹ میں آچکے ہیں اگر ہم نے اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی تو ہم اور ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی دلدل میں زندگی گزارنے پر مجبور ہونگی۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: بشریٰ کنول ضیاءالر حمٰن

Read More Articles by بشریٰ کنول ضیاءالر حمٰن: 5 Articles with 2439 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Nov, 2018 Views: 558

Comments

آپ کی رائے