اندھی تقلید اور اس کے برے نتائج

(Fida Hussain, India)

وادی کشمیر کا یوں تو چپہ چپہ جنت نشان ہے۔لیکن پوری وادی میں جنوبی کشمیر کو خوبصورتی میں ایک خاص حصہ قدرت نے بخشا ہے۔ یہاں کے وافر آبی ذخائر اس قدرتی حسن و جمال میں چار چاند لگاتے ہیں ۔اور بیشتر سیاحتی مقا مات کی اصل رونق وہ صاف و شفاف پانی ہے جسے کسی شاعر نے بجا طور پر بہتی ہوئے چاندنی سے تشبیہ دی ہے۔ ان سیاحتی مقامات میں بس چند ایک مقامات مشہور و معروف ہیں اور قدرتی حسن و جمال سے مالا مال بہت سی جگہیں قدرتی جمال کی متلاشی نگاہوں سے ا بھی پوشیدہ ہیں۔ اسی لئے جب کوئی قدرتی خوبصورتی کا قدر داں ان غیر معروف جگہوں میں سے کسی جگہ اپنے آپ کو پاتا ہے تو وہ ایک ایسی خوشگوار کیفیت سے لطف اندوز ہوتا ہے کہ جس کا بیان الفاظ کے تنگ قالب میں نہیں سما سکتا۔چند سال قبل راقم الحروف کو بھی ایک ایسے ہی مقام تک اتفافاً رسائی نصیب ہوئی اوراسی بہانے حیرت انگیز مسرت و انبساط نصیب ہوئی ۔یہ علاقہ جنوبی کشمیر کے مشہور قصبہ قاضی گنڈ کے نہایت ہی قریب ہے۔ بر سبیل تذکرہ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ قصبہ قاضی گنڈ کو وادی کشمیر کے صدر دروازہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ہر تعمیر گر کے نزدیک صدر دروازہ خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے صدر دروازے کی تعمیر کا کام بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ وادی کو زمین پر جنت بنانے والے نے بھی گویا کشمیر کے صدر داروازے کو بااہتمام تعمیر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر جمال پسند نگاہ قاضی گنڈ کو دیکھتے ہی خیرہ ہو جاتی ہے۔اسی قصبہ قاضی گنڈ کے بالکل بغل میں وہ خوبصورت گاؤوں ہے جہاں راقم کو ایک دعوت کے سلسلے میں جانا تھا۔ قاضی گنڈ قصبہ سے قریباً تین چار کلو میٹر کے فیصلے پر واقع اس گاؤوں کو ایک لنک روڑ سرینگر جمو ں قومی شاہراہ سے ملاتا ہے۔ جب ہم نے گاڑی کو اسی قدرے تنگ اور لچک دار راستے پر دوڑایا تو دل ہی دل میں خیال آیا کہ ہو نہ ہو اس ٹیڑھے میڑھے راستے کی منزل ضرور کسی خاص بات کی حامل ہوگی کیونکہ لچک دار راہیں ہمیشہ عجیب و غریب منزلوں پر منتج ہوتی ہیں۔ بالفاظِ دیگر وسیلہ کا ٹیڑ ھپن بسا اوقات انسان کو کسی اچھوتے سر چشمے تک پہنچا دیتا ہے۔بہرحال میرا یہ خوبصورت سا گماں اس وقت حقیقت کا روپ دھار کر میرے سامنے آگیا جب ہم اس مختصر مگر لچک دار راستے کو طے کرتے ہوئے اپنی منزل ِ مقصود تک پہنچ گئے ۔ ہماری یہ خوبصورت منزل ’’پانزتھ‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس گاؤوں کی جغرافیائی ہیت کو دیکھ کر ایسا لگا کہ ابھی یہاں قدرت کی بے عیب کاری گری انسان کی دست اندازی سے بہت حد تک محفوظ ہے۔ اور قدرتی رکھ رکھاو پر بناوٹی اور مصنوعی بناؤ اور سنگھارہنوز غالب نہیں ہوا ہے۔جہاں تک اس گاؤوں کی وجہ تسمیہ کا تعلق ہے وہاں کے مقامی باشندوں کے مطابق ’’پانزتھ‘‘ اصل میں ’’پانژ ہتھ ‘‘ کا مخفف ہے۔کشمیری زبان میں’’پانژ ہتھ ‘‘ کا معنیٰ پانچ سو کے ہیں ۔ اور چونکہ تنہا اس گاؤوں میں پانچ سو چشمے نکلتے ہیں اسی لئے اس گاؤوں کا نام پانزتھ رکھا گیا ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ کسی بھی بستی کے لئے پانی کا ایک بھی صاف و شفاف ذخیرہ یا سرچشمہ نعمت ِ عظمیٰ کا درجہ رکھتا ہے۔ پانی کا آئینہ نما وافر ذخیرہ دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے عطائے پروردگار جوش میں آگئی ہو۔اور اس نے پانچ سو چشموں پر مشتمل ایک ایسی سوگھات مذکورہ گاووں کو عطا کی کہ جس کے تئیں اس کے مکین جتنا بھی شکر ِ خدا بجا لائیں کم ہیں۔

یہاں پانچ سو چشموں کا پانی مل کر ایک ایسی بہتی ندی کو وجودبخشتے ہیں۔ کہ جس کی روانی کا خوشنما منظر ہر جمال پسند آنکھ میں نہ صرف اتر جاتا ہے بلکہ اس میں گھر کر جاتا ہے۔ اس ندی کے پانی کی شفافیت ،مٹھاس اور خنکی ہر چکھنے والے کو جیسے کوثر و تسنیم کے لذت سے روشناس کراتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو ایک بار اس ندی کا میٹھا اور صاف و شفاف پانی پی لے بار بار پینے کی خواہش اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے۔ چونکہ راقم الحروف اپنے چند دوستوں کے ہمراہ دعوت کے لئے مقررہ وقت سے چند گھنٹے پہلے ہی اس مقام پر پہنچا تھا لہٰذاایک ڈیڑھ گھنٹہ جو وہاں ہمیں رکنا پڑا اس ڈیڑھ دو گھنٹہ میں اس ندی کے ساتھ ساتھ اسے منسلک پس منظر اور پیش منظر کو تکتہ رہا اور لگاتار اس کے میٹھے پانی کو چکھتا رہا۔

اس دعوت کاخاص پہلو یہ تھا کہ اس کا اہتمام اسی خوبصورت ندی کے کنارے پر کیا گیا تھا۔ اس لحاظ سے میرے لئے یقینا یہ دعوت خاص اہمیت کی حامل تھی اور زندگی کی یادگار دعوت بھی ۔چنانچہ مہمانوں کی خاظر تواضع کے لئے بر لب ِ نہر سائبان نصب کیا گیا تھا ۔ اس سائبان کی عارضی ڈیوڑھی بھی اسی ندی کی جانب بنائی گئی تھی ۔جسے ہوتے ہوئے بیشتر مہمانوں کی نظریں بلاناغہ اسی نہر پر جا پڑتی تھی۔اس ندی کے پانی کی خراماں خراماں روانی سے پیدا ہونے والا قدرتی اور شیریں ساز لگاتار سماعتوں کی نذر تھا۔اور اس پانی سے ٹکرا کر آنے والی ٹھنڈی اور مدہم رفتار ہوائیں موسم سرما کی تپش کے لئے سمِ قاتل تھیں۔ خیر جب ضیافتوں سے پُر دسترخواں بچھ گیا۔میں یہ دیکھ کر حیراں رہ گیا کہ ان ضیافتوں میں پانی کی سیل بند پلاسٹک بوتلیں بھی شامل تھیں یہ بوتلیں پانی کو مصفاکرنے والی کسی مشہور اور غیر ریاستی کمپنی سے خریدا گیا تھا۔ راقم نے مہمانوں کی خاظر تواضع پر مامور ایک نوجوان سے جب پانی کا تقاضا کیا تو اس نے اس پانی کی بوتل کی سیل توڑ ی اور زیر لب ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ پانی کا گلاس بھر کر میری جانب بڑھایا۔اس مسکراہٹ کی تعبیر میرے سمجھ میں یہی آئی کہ میں نے پانی کی بوتل پاس ہوتے ہوئے بھی اسے پانی کا تقاضا کیا۔جو حصولِ حاصل والا معاملہ ہے۔ لیکن میں نے جب اسے یہ کہا کہ میں اس نہر سے کاپانی ہی پیوں گا۔ تو اس کی حیرانگی میں ضرور دو چند اضافہ ہوا ہوگا۔ اس نے خیر میری اس حرکت کا جو بھی من ہی من عنوان دیا ہو۔ میرے ذہن میں میزبانوں کے متعلق ایک سوال نے جنم لیا کہ آخر کیوں آبِ شیریں سے لبا لب پانچ چشموں کے ہوتے ہوئے انہیں پانی کی یہ بوتلیں بازار سے خرید کر لانے کی مجبوری لاحق ہوئی؟ بظاہر معمولی نوعیت کا یہ معاملہ ایک ایسی منفی سوچ اور طرز عمل کو ظاہر کرتی ہے کہ جس کے فروعی نتائج بھی ایک معاشرہ کے لئے بہت ہی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔یہ منفی طرز ِ عمل عام اصطلاح میں اندھی تقلید کہلاتا ہے۔اس اندھی تقلید کے نتیجے میں وہ لوگ غیر شعوری طور دو اور سماجی برائیوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔اول :اسراف دوم :ایک عظیم نعمت کی ناقدری دیکھا جائے تو یہاں پر اصل معاملہ اندھی تقلید کا ہی ہے اور دیگر دوبرائیاں یعنی نعمت کی ناقدری اور اسراف اسی اندھی تقلید کے ہی ذیلی نتائج ہیں۔ مسئلہ دراصل یہ ہے کہ ہمارے یہاں کشمیر میں شادی بیاہ یا دیگر دعوتوں پر ’’وازہ وان‘‘ سے موسوم ایک خاص قسم کا پکوان پکایا اور پھر مہمانوں کو کھلایا جاتا ہے۔ ’’وازہ وان ‘‘ بہت ساری پکوانوں کا مجموعہ ہے ۔اس مجموعے میں آئے روز نئی نئی چیزیں شامل ہوتی رہتی ہیں۔ پانی کی سیل بند بوتلیں بھی اسی لمبی چوڑی فہرست میں کسی نے اضافی طور پر شامل کردیں ۔پھر کیا تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ اضافی چیز بھی ’’وازہ وان‘‘کی بنیادی فہرست میں جگہ پا گئی۔ ایک نے شامل کر دی ۔ تو سب نے بلا پوچھے اسے جزوِ ضیافت قرار دیا۔ چنانچہ کسی بھی رسم میں کوئی بھی اضافہ ہو اور اس رسم کو من و عن بغیر یہ دیکھے لوگوں کی اکثریت اختیار کرے کہ آیا یہ رسم ان کے لئے بھی لازمی ہے یا نہیں۔ تو اسے اجتماعی سطح پر اندھی تقلید کا نام دیا جا سکتا ہے۔ مندرجہ بالا مسئلہ میں بھی اس لحاظ سے اندھی تقلید کا محّرک نمایاں ہے کیونکہ جو چیزپہلے سے پروردگار عالم نے اس سے بھی بہتر صورت میں انہیں مفت میں عنایت کی تھی ۔اسی چیز کو وہ خرید کر وہ محض اس لئے لے آتے ہیں ۔کیونکہ اسے پہلے بھی سماج میں دیگر افراد نے بھی یہی کام انجام دیا ہے۔ چنانچہ جس شخص کے پاس صاف و شفاف پانی دستیاب نہ ہو اگر وہ مصفیٰ کیا ہوا پانی خرید کر لے آئے اور مہمانوں کو پلائے تو یہ فعل عقل کے عین مطابق ہے۔ بصورت دیگر یہ معاملہ اندھی تقلید کے سوا کچھ نہیں ہو گا ۔اور اس کے پیچھے یہی سوچ کار فرما ہوتی ہے کہ اگر فلاں شخص نے کسی موقعے پر کوئی کام انجام دیا ہے تو ہم سب پر یہ فعل لازم آجاتا ہے۔ کہ ہم بھی وہ کام دوسروں کی دیکھا دیکھی میں انجام دیں۔

دوسرا منفی پہلو اس حوالے سے اسراف سے تعلق رکھتا ہے۔ چنانچہ جو چیز اس کی اصل،حقیقی اور قدرتی شکل میں آپ کے پاس وافر مقدار میں موجود ہو اور آپ اس وافر مقدار کو نظر انداز کر کے اس کی مجازی اور کم تر درجہ کی چیز بازار سے خرید کر لائیں۔یہ اسراف نہیں ہے تو کیاہے۔بحرحال پانی کے سرچشمے سے حاصل شدہ قدرتی طور پر صاف و شفاف پانی کی قدر وقیمت اور ذائقہ یقینا ایک خاص امتیاز رکھتا ہے اور چند ایک کیمیائی ادویات کی مدد سے صاف کیا گیا پانی اسکا حقیقی نعمل البدل نہیں ہو سکتا ہے۔

اس قدرتی نعمت کونظر انداز کرنا اور اسے خاطر ہی میں نہ لانا کفرانِ نعمت کے زمرے میں آتا ہے۔اور نعمت کی ناقدری کی ایک شکل یہ بھی ہے۔ کہ آپ کم تر کو اعلیٰ تر شئے پرترجیح دیں۔متذکرہ بالامعاملے میں یہی ہوا ہے۔ پانچ سو چشموں کے بے لاگ پانی پربسلیری کی بوتلوں کو ترجیح دے کر دراصل میزبان قدرت کی عطا کردہ نعمت کی ناقدری کے مرتکب ہوئے ہیں۔

ممکن ہے کہ یہاں قارئین کرام کے ذہنوں میں یہ خیال گزرے کہ یہ چھوٹا سا معاملہ اور اس پر یہ لمبی سی تمہید باندھنے کی کیا ضرورت آن پڑی۔اس سلسلے میں عرض ہے کہ بقولِ امام علیؑ کسی بھی چھوٹی غلط روش کو چھوٹا سمجھنا اسے بڑا بنا دیتا ہے۔دوسری بات یہ کہ چھوٹے چھوٹے فاسد اجزا ایک بڑی بدعت کو وجود بخشتے ہیں۔ چنانچہ بدعتوں کے ریلے کے چند قطرے پہلے پہل سماجی باندھ کو سوئی کی نوک کے برابرا چھیدتے ہیں اورپھر یہی چھوٹا سا چھید ایک بڑے درے کی شکل اختیار کرجاتا ہے۔ اس باندھ کی رکھوالی پر معمور افراد کو اس قدر باریک بین ہونا چاہے کہ وہ چھید کو درہ بننے سے قبل ہی درک کر سکیں اور اس کو بند کرنے کا اہتمام کر یں۔
cell no: 7006889184



 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fida Hussain

Read More Articles by Fida Hussain: 48 Articles with 28809 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Nov, 2018 Views: 310

Comments

آپ کی رائے