ملا اور مسٹر کی طبقاتی تفریق کا خاتمہ*

(Adeel Moavia, )

 دور حاضر میں ملک پاکستان کے مساٸل میں سے ایک المیہ *ملا اور مسٹر کی طبقاتی تفریق کا بھی ہے* ۔ آج ہمارے کالج اور یونیورسٹیز میں پڑھنے والے طلبہ کے ذہنوں میں یہ بات راسخ اور پختہ کر دی گئی ہے کہ دنیا کی ترقی میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں، اب تک دنیا میں سائنسی جتنی بھی ایجادات ہوئی ہیں۔ یہ غیروں (مغرب) کی مرہونِ منت ہیں۔ مسلمان اجڈ، گنوار اور جاہل تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے، محمد شاہ رنگیلا تھا اور جہانگیر بادشاہ لٹیرا، سائنس وٹیکنالوجی میں تمام پیش رفت کو مغرب اپنے کھاتے میں ڈالتا ہے یہ غلامانہ سوچ پروان چڑھائی جارہی ہے، یہ وہ سوچ ہے جو ہماری تعلیمی اداروں میں ہماری نئی نسل کو ازبر کرائی جاتی ہے۔ تمہارے عوام نکمے، پس ماندہ اور ناخواندہ، تمہارے حکمراں عیاش و اوباش اور تمہارے علماء جاہل، یہی وہ روگ تھا جسے دیکھ کر شاعر مشرق علامہ ؒ سے بھی نہ رہا گیا
شکایت ہے مجھے یارب خداوندان مکتب سے
کہ سبق شاہین بچوں کو دیتے ہیں خاک بازی کا

عصری تعلیم حاصل کرنے والوں کو یہ سبق دیا جارہا ہے کہ تم گندم، چاول اور پٹ سن اگاؤ اور ہمارے حوالے کرو، اپنا سونا، کوئلہ، تیل اور گیس کے وسیع دخائر ہمیں ٹھیکے پہ دے دو جس میں سے نصف ہمارا اور نصف تمہارا، اس میں سے بھی ایک تہائی مختلف حیلوں اور بہانوں سے ہمارا، تمہیں مشینیں بنانے، کارخانے لگانے اور دفاعی آلات بنانے کی کیا ضرورت ہے، ہم تمہیں لڑائیں گے بھی اور اسلحہ بھی دیں گے۔ تاکہ ہمارے اسلحے کی فیکٹریاں چلتی اور پھل پھولتی رہیں، تم چاند اور مریخ پر جاکر کیا کرو گے، ہمارے خلائی اداروں پر کامل بھروسا کرو، ہمیں آخر رہنا تو اس دنیا ہی میں ہے، تم جدید تعلیم کے حصول کے لیے اکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی میں آؤ، انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کے لیے ہم سے رجوع کرو، ملک چلانے کے لیے آئی ایم ایف اور ولڈ بینک کی طرف دیکھو، تم شرافت کی زندگی بسر کرو، ہمارے حکم پر سر تسلیم خم کرو، اگر اظہار رائے کی سرتا بی کی تو تمہارا حشر بھی شاہ فیصل اور کرنل معمر قذافی سے مختلف نہ ہوگا۔ تمہیں دنیا فتح کرنے کا جو زعم ہے اسے اپنے خیال و دل سے نکال دو۔

بات ہورہی تھی دین ودنیا کی تفریق کی تو آج مسلم دنیا کے زوال اور پستی کا واحد سبب مسٹر اور ملا کی تفریق ہے، دین اور دنیا کو جدا جدا سمجھ لیا گیا ہے۔اس خلیج کو مزید گہرا کرنے میں دونوں طرف سے متشدد گروہوں کا ہاتھ ہے۔

1857ء کی جنگ آزادی سے پہلے اسکول اور مدارس کا الگ الگ تصور نہ تھا، محدث، محقق، مدرس، طبیب، معمار اور انجینئر ایک ہی جگہ سے پڑھ کر نکلتے تھے، امام غزالی ؒ جن کی تحقیقات وتصانیف یورپ کی درس گاہوں میں سو سال تک نصاب کا حصہ رہیں یورپ کے تمام ممتاز محققین، مورخین اور مستشرقین جو عربوں کی شاگردی کو اپنی خوش بختی اور سعادت مندی سمجھتے تھے، یورپین یہ کہا کرتے تھے کہ: ’’اگر علم سیکھنا ہے تو عربوں سے سیکھو‘‘۔ یہ امام رازی و امام غزالی، ابن رشد وابن سینا، جابر بن حیان وعمر خیام، ابن الہیثم و محمد بن احمد البیرونی، الکندی و فارابی، خوار زمی وسیوطی، طوسی اور ادریسی ایک ہی جگہ کے فارغ التحصیل تھے، تاریخ میں ہے کہ جس ماہر تعمیرات نے تاج محل تعمیر کیا یعنی استاد احمد معمار لاہوری متوفی 1649ء مدرسے کا ہی فارغ التحصیل تھا، مسلمان اپنے علم وفضل میں کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے، چیچک کا ٹیکہ، اصطرلاب (آسمان کو دیکھنے کا آلہ) اور منجنیق (ٹینک کی ابتدائی شکل) مسلمانوں کی ایجاد ہے۔
متحدہ ہندوستان میں قومی زبان فارسی تھی ، اور نظام تعلیم مشترکہ تھا، یعنی آج کی طرح اسلامی اور عصری تعلیم کے درمیان دیواریں حائل نہیں تھیں۔

چنانچہ ہرتعلیمی ادارے میں جہاں اسلامی تعلیم دی جاتی تھی وہاں اس کے ساتھ ساتھ عصری علوم بھی پڑھائے جاتے تھے۔ ایک ہی تعلیمی ادارے سے جہاں انجینئر اور ڈاکٹر نکلتے تھے اس کے ساتھ ساتھ اسی تعلیمی ادارے سے اسلامی اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ علما بھی نکلتے تھے۔

اگر ایک طالبعلم کسی علاقے کا آئی جی ہوتا تھا تو اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے والا اس کا کلاس فیلو کسی تعلیمی ادارے میں شیخ الحدیث ہوتا تھا۔

یہ سلسلہ صدیوں تک جاری و ساری رہا ، لیکن پھر اسے دشمنوں کی نظر لگ گئی ، ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں کچھ گورے تاجر نمودار ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک پر چھا گئے،
ان گوروں نے نہ صرف سونے کی چڑیا ہندوستان کو لوٹا بلکہ یہاں بسنے والے انسانوں کے ذہنوں کو بھی لوٹ لیا ، یہاں کے رہنے والے مسلمانوں کو دین سے ہٹانے کے لئے کئی اقدامات کیے۔ قرآن پاک کے لاکھوں نسخے جلائے گئے، ہزاروں علما کو پھانسی دی گئی.

اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے تعلیمی نظام کو برباد کرنے کے لئے ‘‘ لارڈ میکالے ’’ نے ایک نیا تعلیمی پروگرام شروع کیا اور اعلان کیا کہ ہمارے نظام تعلیم کا مقصد ایسے لوگ تیار کرنا ہے جو رنگ و نسل کے لحاظ سے تو ہندوستانی ہوں مگر دل ودماغ کے لحاظ سے انگلستانی۔

علما نے ان تمام خطرات کا بھرپور مقابلہ کیا چنانچہ 1857 کی جنگ آزادی ،اورعلما کی قربانیاں سب کے سامنے ہیں۔

لارڈمیکالے کے تعلیمی پروگرام کے مقابلے میں مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کھڑے ہوئے اور دارلعلوم دیوبند کی بنیاد رکھتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ ہمارے تعلیمی نظام کا مقصد ایسے لوگ تیار کرنا ہے جو رنگ ونسل کے لحاظ سے تو ہندوستانی ہوں مگر دل ودماغ کے لحاظ سے اسلامی ہوں۔

لیکن بدقسمتی سے دشمنوں کو ہر دور میں میر جعفر ومیر صادق مسلمانوں کے اندر سے ہی ملے ہیں، چنانچہ وہ تعلیمی پروگرام جسے لارڈمیکالے نے شروع کیا تھا ، سرسید احمد خان نے اسے خوب پھیلایا اور تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلامی اور عصری تعلیم کے درمیان دیوار کھڑی کردی۔
ہم مسلمانوں کی تاریخ ہے شاہد اس کی
علم کو وسعت وترتیب ہمیں نے دی ہے

وہ دور پھر بھی آسکتا ہے اگر امت مسلمہ سے یہ خطرناک تفریق ختم ہوجاۓ اور ملا اور مسٹر ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوکر غلبہ اسلام اور استحکام پاکستان کےلیے کوشاں ہوجاٸیں تو یقیناً دوبارہ سے اسلامی انقلاب آ سکتا ہے۔شیخ الہند مولانا محمودالحسن دیوبندیؒ جب علی گڑھ یونیورسٹی تشریف لے گۓ تو فرمایا تھا کہ جب میں علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ کو دیکھتا ہوں ان کے چہروں پر انقلاب نظر آتا ہے اور جب دارالعلوم دیوبند کے طلبہ کو دیکھتا ہوں تو ان کی پیشانیوں پہ نور نبوت نظر آتا ہے۔مسجدومدرسہ ہو یا حکومتی ادارے ہر جگہ پہ بیٹھنے والا اسلام اور پاکستان کی محبت سے سرشار ہوگا تو پھر یقیناً نبوی انقلاب آۓ گا۔اس سلسلے میں مسلم سٹوڈنٹس آرگناٸزیشن کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔جو ملا اورمسٹر کی طبقاتی تفریق کے خاتمےکےلیے علم اٹھاۓ ہوۓ ہیں۔اور کافی حد تک کامیابی بھی حاصل کرچکے ہیں۔آج MSO جہاں مدارس دینیہ میں اپنا نیٹ ورک قاٸم کیے ہوۓ ہے وہیں سکولز،کالجز اور یونیورسٹیز میں بھی سرگرم عمل ہے۔جس کی عملی تصویر ایم ایس او کے پروگرامات میں بار بار دیکھنے کو ملتی رہتی ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طلبہ تنظیم کی ان کاوشوں کو قبول فرما کر کامیابیوں سے ہمکنار فرماۓ۔

اور اس ملک پاکستان میں اسلام کو غلبہ عطا فرما کر اسے استحکام نصیب فرماۓ۔آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Adeel Moavia

Read More Articles by Adeel Moavia: 16 Articles with 7886 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Nov, 2018 Views: 700

Comments

آپ کی رائے