موجودہ تعلیم اور وہ تعلیم، جس کی آج ضرورت ہے

(Ahmad Qayyum, )

 ازقلم: عرفان ارقم
گزشتہ صدی میں صنعتی دور کے آغاز کے ساتھ ہی جس نظام تعلیم کا آغاز ہوا اورجسے پوری شد و مد کے ساتھ نافذ العمل کرنے کی کوشش کی گئی، وہ نظام کیا آج بچوں کی ضروریات تعلیم کو پورا کررہا ہے؟ بچوں کے لیے جو طریقہ تدریس رائج ہے کیا وہ بچوں کے سیکھنے کے عمل سے مطابقت رکھتا ہے؟ کیا ہم یہ مہر ثبت کرسکتے ہیں کہ تعلیم سے متعلقہ موجودہ نظام معاشرے میں تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے میں مدد گار ثابت ہورہا ہے؟ اس نظام سے معاشرے میں کوئی اصلاحی تبدیلی بھی آرہی ہے یا یہ بگاڑ اور انتشار کی طرف لے جارہا ہے؟ نافذ العمل نظام تعلیم کیا لیڈر، مفکر، سائنسدان اور اس قسم کے دیگر بڑے لوگ پیدا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے یا نہیں؟ کیا اس میں تبدیلی کی گنجائش ہے؟ کیا موجودہ نظام تعلیم کی ضرورت ہے بھی یا نہیں؟

ان تمام سوالوں کے جوابات تلاش کرنے کے لیے فاؤنڈیشن آف افیکٹو ایجوکیشن اینڈ لرننگ کے زیر اہتمام پاکستان کے معروف ماہرین تعلیم اور اس موضوع پرحد درجہ دسترس رکھنے والی شخصیات کی رائے لینے اور اسے عوام الناس کے سامنے رکھنے کے لیے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئج اسلام آباد میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔جس کا موضوع تھا:‘‘موجودہ تعلیم اور وہ تعلیم جس کی آج ضرورت ہے''۔ جس میں شہر اقتدار اورگردو نواح سے افراد ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔تمام ماہرین نے موجودہ نظام تعلیم میں پائی جانے والی خرابیوں اور جس تعلیم کی بچوں کو اس وقت ضرورت ہے، کے بارے میں اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔

تلاوت قرآن کے بعد انجینئر نوید قمرصاحب (ڈائریکٹر آف فاؤنڈیشن آف ایفکٹو ایجوکیشن اینڈ لرننگ پاکستان) نے سب سے پہلے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔انھوں نے سامعین کے سامنے موجودہ تعلیمی نظام کی کارکردگی پر کچھ سوالات اٹھائے اور کہا کہ اس وقت یونیورسٹی کے طلباء بھی پریشان ہیں کہ وہ جس مقصد کے لیے آئے تھے وہ اس کے حصول میں ناکام ہیں کیونکہ اس نظام تعلیم کا حقیقی زندگی سے دور تک کا بھی واسطہ نہیں۔والدین بچوں کو سکول میں تعلیم دینے کے لیے نہیں بھیجتے بلکہ ان کی شرارتوں سے جان چھڑوانے کے لیے بھیجتے ہیں۔ماہرین تعلیم سے گزارش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمیں مل کر بچوں کے مسائل حل کرنے کے لیے ان کا مقدمہ لڑنے کی ضرورت ہے، ایک تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ہر طرف نمبروں کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔بچوں سے لے کر اداروں تک مقابلہ بازی کی فضاء چھائی ہوئی ہے۔ سکول کے دیے ہوئے نظام میں یہ بھی ایک بھیانک حقیقت ہے کہ اگر آپ جیتنا چاہتے ہیں تو دوسرے کو لازمی ہرانا پڑے گا ورنہ آپ کی جیت ناممکن ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے کیسے تربیت کی تھی؟ ہمیں اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ اس نظام تعلیم کی بدولت معاشرے میں قربانی دینے والے لوگ پیدا ہورہے ہیں یا خود غرض قسم کے افراد؟

عبدالحیی (مینیجنگ ڈائریکٹر آف ماہنامہ میگزین طفلی) نے اپنی گفتگو کا آغازکرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تعلیمی نظام میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایک استاد جو مربی کا کردار ادا کرنے کے لیے تھا، جس سے بچوں نے بہت کچھ سیکھنا تھا، نہ صرف یہ کہ تعلیمی حوالے سے بلکہ تربیتی حوالے سے بھی، وہ چند ہفتوں بعد تبدیل کردیا جاتا ہے اور بچوں کو پھر ایک نئے چہرے سے شناسائی میں کافی مشکل پیش آتی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ گریڈز اور پوزیشنوں کے چکروں میں ہم نے اپنے بچوں میں وسوسے کی سی کیفیت پیدا کردی ہے حالانکہ وسوسوں سے بچنے کے لیے سورۃ الفلق میں آیات موجود ہیں۔پھر اگرکوئی پوزیشن حاصل کربھی لے تو وہ تکبر کا شکار ہوجاتے ہیں اور پوزیشن نہ ملنے پر مایوسی پیدا ہوتی ہے جو کہ بذات خود ایک گناہ ہے۔ یہ سب کچھ اس نظام تعلیم کی مرہون منت ہے۔ انھوں نے مزید بات کرتے ہوئے یہ کہا کہ مغربی دنیا جہاں سے نظام تعلیم آوارد ہوا ہے وہ خود اس نظام سے بددل ہوچکے ہیں۔ایک مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مہمان نوازی سکول میں پڑھائی جاسکتی ہے جبکہ سکھائی صرف گھر میں جاسکتی ہے یعنی اصل چیز ماحول اور صحبت ہے۔صحابہ اکرام رضی اﷲ عنہم صحبت کے باعث ہی صحابی کہلائے جاتے ہیں۔

انجینئرذیشان وارث نے فیل کے ایک پراجیکٹ ''بیت الحکمہ'' کا تعارف کروایا کہ کس طرح وہ یہاں بچوں کی ضروریات اور تعلیمی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تربیت کے مراحل طے کررہے ہیں۔

اس کے بعد ماہرین تعلیم کا ایک پینل بلایا گیا جن میں عام شہزاد (ایڈیٹر ماہنامہ میگزین امی ابو)، محمود احمد (فاؤنڈنگ ڈائریکٹر آف آفاق)، ہمایو مجاہد تارڑ (ویثنری ایجوکیشنسٹ)، احمد حاطب صدیقی (شاعر و ماہر تعلیم) اور انجینئر نوید قمر صاحب (ڈائریکٹر فیل) شامل تھے۔ جس میں تعلیم کے مختلف موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ اس دوران سامعین سے سوالات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔جس میں یہ بات سامنے آئی کہ بچے کی اصل تربیت یہ ہے کہ اس کی نگرانی کیے بغیر وہ گناہ سے بچے، کسی خوف میں مبتلا ہوئے بغیر وہ سچ بولے، خود صفائی ستھرائی کا خیال رکھے۔ پینل ڈسکشن میں یہ بھی کہا گیا کہ 80 فیصد بچے سکولوں میں مجرم تصور کیے جاتے ہیں۔سکولوں میں بچے چلتی پھرتی لاش کی طرح ہوتے ہیں۔ان پر پریشر اور خوف کی تلواریں لٹک رہی ہوتی ہیں حالانکہ ڈرا دھمکا کے پڑھانے سے بچوں کی شخصیت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔بچے نصاب کی بورنگ کتابوں سے دور بھاگتے ہیں۔ایسے میں بچوں کو کتاب کے انتخاب کا حق حاصل ہونا چاہیے۔پینل ڈسکشن کے آخر میں ماہرین تعلیم نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں بچوں کی تعلیم و تربیت کا سب سے ضروری ذریعہ خاندان ہوگا۔

ڈاکٹر انور جمال (سی ای او برین ویو پاکستان اینڈ مینیجنگ ڈائریکٹر دی لرنرز ایجوکیشن فاؤنڈیشن لاہور) نے اپنی گفتگو کے دوران انھوں نے موجودہ تعلیمی نظام کی خامیاں بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام ہمارے بچوں میں بے مقصدیت، غیر یقینی کیفیت اور غلامانہ سوچ پیدا کررہا ہے۔انھوں نے کہا کہ کامیاب نظام تعلیم وہ ہوتا ہے جو بچوں کو خود شناسی، خدا شناسی، معاشرت اور آفاقی سوچ پر مبنی تعلیم دے۔ ایسا نظام تعلیم جس میں ریاضی بطور منطق سکھائی جاتی ہو، اتحاد کا درس دیا جائے نہ کہ تقسیم کرنے کا اور سوال کرنے کی اجازت ہو، ہی بچوں کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

سیمینار کے اختتام پر ڈاکٹر عرفان حیدر صاحب (ڈین ان سی بی ایم اینڈ سی ای ایس اینڈ ڈائریکٹر آف ایل ٹو ایل) جو اس تعلیمی پروگرام میں بطور مہمان خصوصی موجود تھے، نے تعلیم اور تربیت کے تمام پہلوؤں پر انتہائی جامع گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ بچے کے بارے میں یہ عجیب بات کی جاتی ہے کہ وہ صاف کاغذ کی طرح ہوتا ہے اور وقت سیپہلے والدین اور اساتذہ مل کر اس کاغذ کو سیاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ بچے میں اﷲ تعالی نے بچوں میں وہ تمام صلاحتییں پہلے سے رکھی ہوتی ہیں جو اسے زندگی گزارنے کے لیے کام آسکیں۔ جیسے ایک بیج کو پودا بنانے کے لیے اس میں تمام تر ضروری اجزاء پہلے سے موجود ہوتے ہیں بس اسے ماحول دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی کیفیت بچوں کی بھی ہوتی ہے۔ ایسا کیسے مکمن ہے کہ ہم سکول میں مصنوعی تعلیمی ماحول دے کر بچوں سے حقیقی زندگی میں کچھ کر گزرنے کی امید رکھیں۔ ہمارے نظام تعلیم میں استاد کا تعلق صرف سکول تک ہوتا ہے جبکہ ایک مربی کا کردار تو سکول کے باہر بھی بچوں کے سامنے ہونا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کامیابی سے مراد صرف ڈگری کے کاغذ کا حصول ہے یا کچھ اور؟ ڈگری خیرالرازقین ہے یا اﷲ خیرالرارزقین ہے؟ تعلیم کا مقصد تو اچھائی اور برائی میں فرق کرنا تھا۔ تعلیم میں سے حقیقی زندگی کا تصور نکال دیں تو پیچھے بچتا ہی کیا ہے؟ آخرت میں کامیابی کے علاوہ تعلیم کس کام کی؟

(نوٹ: اسی موضوع پر فاؤنڈیشن آف ایفیکٹِو ایجوکیشن اینڈ لرننگ کے زیرِاہتمام تیسرا قومی تعلیمی سیمینار مؤرخہ 24 نومبر 2018ء کو آڈیٹوریم شیخ زید اسلامک سنٹر جامعہ پنجاب میں منعقد ہو گا۔)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ahmad Qayyum

Read More Articles by Ahmad Qayyum: 2 Articles with 839 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Nov, 2018 Views: 358

Comments

آپ کی رائے