وطن کا بیٹا تیری قربانی پر فخر ہے

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر:شیبہ اعجاز
ایس پی اکبر نے آمنہ بی بی کے آگے سر خم کرتے ہوئے افسردہ لہجے میں کہا ،’’میں پوری قوم کی طرف سے آپ کو سلام پیش کرتا ہوں ، آج آپ کے ایک اور بیٹے نے شہادت کا جام پی کر آپ کو سرخرو کیا ہے‘‘۔ایس پی اکبر نے شہید کی چیزیں ایک طرف رکھیں اور سلیوٹ کرتا ہوا ایک طرف کھڑا ہوگیا ۔

آمنہ بی بی یہ سب خاموشی سے دیکھ رہی تھیں۔ بیٹے کا جوتا اٹھایا اور اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔ گہرا اطمینان ان کے چہرے سے عیاں تھا۔ جوتے ہاتھ میں لے کر ان کے لبوں پر الفاظ جاری ہوئے۔ ’’میرے لال ! تمہارے جوتوں سے جو خوشبو آرہی ہے ان کو کوئی محسوس نہیں کرسکتا۔ تمہارے قاتل کیا جانیں شہادت کی موت، موت نہیں زندگی ہے۔ جب تم شہادت کا جام پی کر چلے ہوگے تو فرشتوں نے کہا ہوگا جنت مہمان آرہا ہے اور اﷲ نے تمہارا استقبال کیا ہوگا۔

میرے بیٹے! تم راہ حق میں باطل کے لیے دیوار تھے ۔ اس بزدل دشمن کے وار کا جواب تھے جو ڈر کے پیچھے سے حملہ کرتا ہے۔ میری آنکھیں نم ضرور ہیں مگر میرے بچے یہ مت سمجھنا کہ مجھے دکھ ہے بلکہ میں خوش ہوں اور خوشی کے آنسو ہیں کیا کروں تم نے مجھے اتنا معزز بنا دیا ہے۔ میرے لال! ان جوتوں میں بیشک اب پیر نہیں لیکن یہ منتظر ہیں کسی اور مجاہد کہ جو ان کو پہن کر دشمن وطن کے پرخچے اڑانے کے لیے تیار ہے۔
میرے بیٹے تمہاری جدائی مجھے برداشت کرنی ہے تمہارے ساتھ گزارہ ہوا اک اک پل میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے تمہارا بچپن شوخی شرارت بھاگنا دوڑنا کیا میں بھول سکتی ہوں۔ تم سے وابستہ میرے خواب اب خواب ہی رہ گئے ہیں ۔ ابھی میں اپنا چہرہ اوپر کروں گی تو وہ فخر سے اونچا ہوگا۔ تم نے اپنی جان اﷲ کی راہ میں دے کر میرا وقار بڑھا دیا ہے مجھے بیٹھے بٹھائے معتبر بنادیا ہے۔

دشمن سمجھ رہا ہے کہ اس نے تمہیں ختم کردیا ہے لیکن اسے کیا معلوم کہ ایمان کی دولت کو ختم نہیں کیا جا سکتا، جذبہ شہادت بم دھماکوں سے مرتا نہیں منتقل ہو جاتا ہے۔ تم تو اب ایک گھر سے نکل کر پورے قوم کے دل میں زندہ ہو گئے ہو، تم خود بتاؤ میں کیسے رو سکتی ہوں۔ ہاں مگر کوئی میرے گلے لگ کہ تمہارے بارے میں بات کرے اور میرے آنسو نکل آئیں تو مجھے معاف کردینا۔ میرے گلشن کے پھول تمہارے جانے کے بعد بھی تمہاری خوشبو میرے چمن کو مہکارہی ہے۔

بزدلو! تمہیں شاید لگے یہ ماں کے آنسو ہیں لیکن یہ مائیں ہی ہیں جو اپنے سپوتوں کو راہ حق میں قربان کرنے کے لیے ہی پالتی ہیں۔ چھپ کر حملہ کرنے والوں مجھے معلوم ہے تمہیں ہتھیاروں سے نہیں پاکستانیوں کی جرات، جذبہ ولولہ اور شوق شہادت سے ڈر لگتا ہے‘‘۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1226 Articles with 497633 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Nov, 2018 Views: 219

Comments

آپ کی رائے