غریب ہندو بالا چندرا سیکران کی کہانی !

(Muhammad Akram Awan, )

ہرمعاشرہ کچھ مخصوص رجحانات کا حامل ہوتا ہے۔یہی رجحانات اُس معاشرہ یاملک و قوم کے بارے میں عمومی کردار یا پہچان کاذریعہ بنتے ہیں۔بدقسمتی سے ہماری پہچان انتہا پسند،کرپٹ،دھوکہ بازقوم کے طورپر بن چکی ہے۔ اس پہچان کو تبدیل کرنا یابدلنا چاہتے ہیں تو سماج میں فکری ارتقا کے عمل کی آبیاری کرنی ہوگی،اس کے لئے سب سے بڑی ذمہ داری رائے ساز،اہل دانش اوران لوگوں کی ہے جن کے ہاتھوں میں حکومت کی باگ دوڑہے ۔بات کہیں اورچلی گئی ،میں توخوداسی معاشرے کا عام سا انسان ہوں،جس نے اسی معاشرے میں جنم لیا،مجھے تواپنے اہل وطن سے ہم کلام ہوتے ہوئے جس واقعہ کا ذکرکرنا ہے،یہ اپنی نوعیت کا کوئی منفرد یا واحد واقعہ اورواردات نہیں،بلکہ سلسلہ واردات کی ایک کڑی ہے۔ اس تحریرکے ذریعہ سے عام لوگوں کوطریقہ واردات سے آگاہ اورخبردارکرنے کے علاوہ یہ مقصدبھی ہے ،کہ ممکن ہے اس تحریر میں دی گئی معلومات تحقیقاتی اداروں کے لئے مددگاراورمعاون ثابت ہوں۔

بالاچندرچندراسیکران ایک غریب ہندوہے۔ سعودی عرب میں مزدوری کرتاہے۔اس نے محنت ،مشقت اور بڑی مشکل سے اپنے غریب اوربیماروالد کے علاج کے لئے پیسے جوڑے،اس سے پہلے کہ وہ یہ پیسے، اپنے گھروالوں کوبھیجتا، اس کے ساتھ دھوکہ ہوا،جس کے نتیجے میں وہ اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھوبیٹھا،یہ دھوکہ دینے والا ایک مسلمان اورپاکستانی تھا۔ اپنے پیسوں کے لٹ جانے کے بعد رد ِعمل کے طورپر بالاچندر چندرا سیکران کہتا ہے۔

"میں ایک ہندو ہوں اور میرانام بالاچندر چندرا سیکران ہے،میراوالدایک غریب کسان ہے ،جس نے دن رات محنت،مزدوری اورمشقت سے ہماری پرورش کی۔جس نے اپنی خواہشات ،آرام وسکون ہم پرقربان کردیا، مگرکبھی کسی کا حق نہیں مارا۔ اس وقت وہ بڑھاپے اوربیماری کی حالت میں ہے۔میں اپنے خاندان کا واحدکفیل ہوں،میں سعودی عرب میں مزدوری کرتاہوں، میں نے بڑی مشکل سے سال بھرایک ایک پائی جوڑی،اب دیوالی کاتہوارقریب تھا، میں نے سوچادیوالی کے اس پرمسرت موقع پراپنے بوڑھے والدین اور اکلوتی بہن کے لئے کوئی قیمتی تحفہ خریدوں گا۔پھرایک دن گھرسے فون آیا چھوٹی بہن رو رہی تھی، اُس سے بات کرنا مشکل ہورہی تھی، میں نے اُسے حوصلہ دیاتوبڑی مشکل سے کپکپاتی آواز میں کہابھیا باپ کی حالت خراب ہے، ڈاکٹرز نے آپریشن کا کہاہے۔میرے پاس جوجمع پونجی تھی ، ہسپتال اورآپریشن کے لئے ناکافی تھی۔اپنے ساتھ مزدوری کرنے والے دوستوں سے اُدھارلیا، کچھ کمپنی سے کیش ایڈوانس لیا،مگراس سے پہلے کہ پیسے اپنے بوڑھے والدین کوبھیجتا،مجھے ایک کال آئی ، کہاگیاکہ بینک کی طرف سے بات کررہاہوں۔آپ کا بینک اکاوٗنٹ بلاک کردیا گیا ہے۔ آپ کے اکاوٗنٹ کی تجدید درکارہے۔میں پہلے ہی ذہنی طورپرپریشان اورمفلوج ہوچکا تھا،مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میرے ساتھ یہ کیا ہورہا ہے،باپ گھربیمار پڑا ہے ،آپریشن کے لئے بڑی مشکل سے پیسے جمع کئے تھے۔ جلدازجلدیہ پیسے اپنے گھر بھیجناچاہتا تھا،تاکہ میرے والد کابروقت آپریشن ہوسکے۔

اب نیامسئلہ بینک اکاوٗنٹ کی تجدیدکا آگیا،جس کے بغیرپیسے بھیجناممکن نہیں تھا۔میں جہاں کام کررہاتھا،وہ جگہ شہرسے بہت دورتھی،اگرکسی کام کے لئے شہرجانا پڑتا توہمیں اُس دن کی بیگارنہیں دی جاتی۔ایسے میں جب بینک کی طرف سے کال آئی تووقت کی بچت اورایک دن کی تنخواہ کی کٹوتی سے بچ جانے کی صورت مجھے غنیمت اورغائبی امداد محسوس ہوئی۔سچ تویہ ہے کہ میں ذہنی طورپرمفلوج اورنفسیاتی طور پربے بس ہوچکاتھا، اس سے پہلے کہ مجھے یہ احساس ہوتا یا خیال آتا،کہ یہ ساری معلومات تو پہلے ہی بینک والوں کے پاس ہیں،اُس کالرنے یہ کہہ کرمجھے نفسیاتی طورپراپنے قبضے میں لے لیا،اُس نے کہااگرچہ آپ کے اکاوٗنٹ کے حوالہ سے ساری معلومات بینک کے پاس ہیں،مگراس وقت آپ سے صرف رکی کنفرمیشن کے لئے پوچھا جارہا ہے۔اس پریشانی کے عالم اُس نے جوکچھ دریافت کیا میں بتاتا گیا، مثلا َمیرامکمل نام، اقامہ نمبر،یوزرآئی ڈی وغیرہ ۔مجھے اس وقت قطعی ہوش نہیں تھا کہ کونسی انفارمیشن دینی چاہیے اورکونسی نہیں ۔وہ جوپوچھتا گیا میں بتاتا گیا،اس کے بعد میراموبائیل ہیک کرلیاگیا۔اس دوران اُس نے درج بالا اکاوٗنٹ بطور"بینی فیشریـ"درج کرلیاہوگا،جس کا مجھے علم نہ ہوسکا۔

بہرحال میرے باقی ماندہ ہوش بھی اُس وقت اُڑگئے جب کچھ دیر بعدمجھے موبائیل پر ایس ایم ایس موصول ہوا کہ آپ کے 3500سعودی ریال،پاکستانی کرنسی کے مطابق121039.00(ایک لاکھ،اکیس ہزار،اُنتالیس روپے)،محمدرمضان محمدمنشی کے اکاوٗنٹ نمبر 000248873512 ،یونائیٹڈ بینک ،سلانوالی برانچ ضلع سرگودہا، پاکستان ٹرانسفرہوچکے ہیں (تاریخ 21/10/2018اوروقت 2بج کر14منٹ)۔ اب میں یہاں پریشان اورمیرابیمارباپ گھرمیں بے بس اورلاچارپڑا ہے۔ صدرپاکستان،وزیراعظم پاکستان اورچیف جسٹس پاکستان سے گزارش ہے، کہ میرے پیسوں کی واپسی میں میری مددکی جائے۔ ـ"

یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں کچھ عرصہ سے اس قدر لوٹ مار کاغدربپا ہے کہ خدا کی پناہ،کوئی دن ایسا نہیں،جس دن بینکوں سے رقم غائب ہوجانے کی خبردیکھنے ،پڑھنے میں نہ آئے۔بالاچندرچندراسیکران کی طرح کتنے غریب انسان ہوں گئے جنہوں نے محنت و مشقت سے ایک ایک پیسہ جوڑ کرکچھ سرمایہ اپنے بینک اکاؤنٹ میں یہ سوچ کررکھا ہوگا کہ اُن کی محنت ومشقت سے کمائی گئی جمع پونجی بینک میں محفوظ رہے گی، ان میں سے کتنے لوگ ہوں گے ، جنہوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لئے پائی پائی جمع کی ہوگی، کتنے بوڑھے والدین ہونگے جنہوں نے اپنی بیٹیوں کی شادی کے لئے سالہاسال سے پیسہ بینکوں میں محفوظ کررکھا ہوگا،ریٹائرڈ ملازم ہونگے ،جنہوں نے اپنی عمرکے آخری حصے میں گزربسر کے لئے پینشن کی رقم بینکوں میں رکھی ہوگی، کتنے مجبور اوربے کس ہوں گے جنہوں نے اپنے خاندان کی ضروریات کے لئے سرمایہ بینکوں میں محفوظ ہونے کے خیال سے رکھا ہوگا اوربیٹھے بٹھائے اُن کا سب کچھ لوٹ لیا گیا ہوگا۔

جہاں فالودے والے اوررکشے والے کے تین تین ارب کے اکاوٗنٹ جیسے انکشافات ہورہے ہوں، جہاں ہزراہاجعلی اکاوٗنٹس کا انکشاف ہو،جہاں بینکوں میں رکھی لوگوں کی عمر بھرکی جمع پونجی نکال لی جائے،جہاں روزانہ کی بنیاد پراکاوٗنٹ خالی ہونے کی خبریں آرہی ہوں،وہاں اس غریب ہندوکے 3500سعودی ریال کی کیا حیثیت اورسنوائی ہوگی۔ایسی واردات انفرادی حیثیت سے ممکن نہیں اس کے پیچھے بہت بڑا نیٹ ورک ہوگااوراتنے وسیع پیمانے پر وارداتیں ،بینک انتظامیہ کی ملی بھگت کے بغیرممکن نہیں۔جس سے روزانہ کی بنیاد پر بیرون ملک مقیم پاکستانی اور غیرملکی متاثر ہورہے ہیں۔ ایسی وارداتوں کے تسلسل سے جہاں پاکستان دُنیا بھرمیں بدنام ہورہا ہے، وہاں سب سے زیادہ خودپاکستانی عوام متاثر ہورہے ہیں۔اس لوٹ ماراورجعل سازی کی روک تھام حکومت کی ذمہ داری ہے،متعلقہ اداروں کواپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں مجرمانہ غفلت کی بجائے اس حوالہ سے جلد ازجلدٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں،تاکہ ان مجرموں کوقانون کی گرفت میں لا کرمتاثرین کے نقصان کا ازالہ کیا جاسکے۔اﷲ تبارک و تعالیٰ ہم سب کودھوکے بازوں سے محفوظ و مامون فرمائے آمین۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD AKRAM AWAN

Read More Articles by MUHAMMAD AKRAM AWAN: 99 Articles with 44518 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Nov, 2018 Views: 276

Comments

آپ کی رائے