۳؍دسمبر:معذور افراد کا عالمی دن

(Asif Jaleel Ahmed, India)

ہر سال 3دسمبر کوپوری دنیا میں معذور افراد کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے دنیا کے مختلف ممالک میں معذور افراد کے مسائل، ان کی تعلیم و تربیت اور انہیں معاشرے کے دیگر افراد کے برابر لانے کے لیے مختلف قسم کے پروگرام، سیمینار، اور ریلیاں منعقد کی جاتی ہیں۔ جس کا مقصد خصوصی معذور افراد کے مسائل اور ان کے بنیادی حقوق کے تئیں بیداری لانا ہے۔پوری دنیا میں معذور افراد کے کل تیرہ اقسام ہیں تاہم انہیں سمیٹ کر چار اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان میں قوت سماعت اور گویائی سے محروم افراد دوسرے نظر سے معذور افراد تیسرے جسمانی معذور افراد اور چوتھی قسم میں ذہنی پسماندہ افراد شامل ہیں۔ 3دسمبر کا عالمی دن ان تمام معذور افراد کی نمائندگی کرتا ہے ۔ 1983سے 1992کے درمیان یو این او کے پلیٹ فارم سے معذور افراد کے تمام تر مسائل کا انتہائی گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔اور1992 میں یہ حتمی فیصلہ کیا گیا کہ اس کے بعد 3دسمبر کو ہر سال پوری دنیا میں معذور افراد کا عالمی دن کی حیثیت سے منایا جائے گا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی یو این او کی جنرل اسمبلی نے 1992میں ایک اہم تقریب منعقد کر کے اس دن کو منانے کے اغراض و مقاصد بھی بیان کیے۔ اول یہ کہ دنیا کے تمام ممالک 3دسمبر کو عالمی یوم معذور کی مناسبت سے منانے کے پابند ہونگے۔ دوسرا یہ کہ عام افراد کو اس دن کے حوالے سے معذور افراد کے متعلق شعور و آگاہی دی جائے گی تاکہ وہ خصوصی افراد کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ تیسرا یہ کہ اس دن کو منانے کا مقصد معذور افرا دکے مسائل کو اجاگر کرنا اور عام لوگوں کو سمجھانا۔ چوتھا یہ کہ معذور افراد کے بنیادی حقوق کا خیال رکھنا۔ پانچواں یہ کہ عام آدمی کو معذور افراد کے ساتھ سیاسی سماجی معاشرتی اور اخلاقی تعلقات بحال رکھنا۔ چھٹا یہ کہ معذور افراد کے لیے مالی معاونت کرنا اور ان کو روزگار فراہم کرنا۔ ساتواں یہ کہ زندگی کے ہر شعبے میں ان کی حوصلہ افزائی کرنا۔ آٹھواں یہ کہ معذور افراد کے ساتھ پیش آنے والی معاشرتی نا انصافیوں کو دور کرنا۔ نواں یہ کہ انہیں ایسا ماحول مہیاکرنا کہ وہ احساس کمتری کا شکار نہ ہو جائیں۔

ہمارے ملک میں موجود بہادر، حوصلہ مند اورخوددار معذور افراد جو بے تحاشا مصائب، تکالیف اور سہولیات کی عدم موجودگی کے باوجود ہمت واستقلال سے زندگی گزار رہے ہیں جو قابل رشک ہیں۔ ہمارے ملک میں اکثریت وہ معذور افرادکی ہے جو حکومتی لاپرواہی، معاشرتی بے حسی اور سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث معاشرے سے کٹے ہوئے ہیں اور جو ہمت و جدوجہد کرکے بہتر مستقبل کے لئے کوشاں ہیں ان کو مختلف قسم کے طبی، معاشی، معاشرتی رکاوٹوں کا سامنا ہے ۔ یاد رکھیں کوئی معذور ناکارہ نہیں ہوتا‘ پوشیدہ صلاحیتوں کو نمایاں کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے‘ بہتر تربیت کے ذریعے معذور افراد کو معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جا سکتا ہے۔یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ یہاں معذور افراد اکثر امتیازی سلوک کے شکار ہوجاتے ہیں۔ ان کی حالت عام انسانوں کی طرح نہیں ہوتی۔ معذوری اور محتاجی کی وجہ سے لوگ اِن کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرتے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرہ معذور افراد کو سماجی، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی ہر حوالے سے اپنے ہم پلہ لانے کے لیے مناسب اقدام کرے۔ حکومت کی طرف سے ایسے معذور افراد جن کے پاس ضلعی سوِل سرجن کا تصدیق نامہ ہو ایسے افراد کے لئے کچھ مراعات و سہولیات مہیا کی گئی ہیں جیسے پچھہتر فیصد رعایت کے ساتھ سفر کی سہولت ،اور مختلف محکموں میں نوکری کا کوٹہ (معذور) مختص کیا ہے۔ان سب کے علاوہ معذور افراد کے نام پر این جی اوز اورحکومتیں اربوں روپے کے فنڈز دیتی ہیں جو گرام پنچایت تک پہنچے سے پہلے خرد برد کا شکا ر ہوجاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کئی معذور مستحق تک سالانہ وظائف کی رقوم پہنچتی نہیں ہے۔ معذور افراد کی زندگیوں میں بہتری اور معاشرے میں تبدیلی تب ہی آئے گی جب حکومت کے ماتحت ضلع پریشد ،مہانگرپالیکا، پنچایت سمیتی وغیرہ معذورین کے متعلق دیے گئے مراعات پران کی بہبود کے لیے حقیقی معنوں میں عمل کرے تاکہ معذور افراد کے لیے معاشرہ رکاوٹوں سے پاک ہو، ان کا دوسروں پر انحصار کم ہو، پیشہ ورانہ تعلیم کا حصول ممکن ہو، نوکری کا حصول ممکن ہو، عام انسانوں کی طرح معاشرے میں زندگی گزار سکیں، اندرون ملک و بیرون ملک طبی سہولیات سے استفادہ حاصل کر سکیں، شدید معذوری کی صورت میں خدمت گا ر کی سہولت موجود ہو، اور معاشرے میں ایک باعزت اور کارآمد رکن کے طور پر زندگی گزارسکیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Jaleel

Read More Articles by Asif Jaleel: 183 Articles with 126338 views »
WARNING: I have an attitude and I know how to use it!.

میں عزیز ہوں سب کو پر ضرورتوں کے لئے
.. View More
03 Dec, 2018 Views: 343

Comments

آپ کی رائے