قوانین اصلاح

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: ڈاکٹر حامد حسن حامی
آج بچوں کو بہت خوشی ہو رہی تھی۔ا سکول کی اکٹھی پانچ کلاسیں ختم ہو گئی تھیں۔ مطلب پہلے گھنٹے کی پڑھائی کے بعد کوئی پڑھائی نہیں ہونی تھی۔ ٹریفک پولیس والے اسکول آئے تھے اور کلاسیں ختم کرا کر بچوں کو ساتھ لے جا رہے تھے۔ کوئی ریلی یا جلوس نکالنا تھا۔ پھر آٹھویں جماعت کے لڑکے آگے آگے کھڑے کر کے ان کے ہاتھوں میں دو بینر دے دیے گئے۔ ایک پر لکھا تھا، ’’ہیلمٹ کا استعمال آپ کی زندگی کا ضامن ہے‘‘۔ جبکہ دوسرے کے الفاظ تھے، ’’اپنے کم عمر بچوں کو موٹر سائیکل نہ چلانے دیں‘‘ اور ان دو بینروں والے گیارہ بچوں کی رہبری میں تمام بچے سڑکیں ناپنے لگے۔ شہر کے مرکزی چوک سے مرکزی بازار اور پھر بڑی ٹریفک کی سڑک پر سے ہوتے ہوئے واپس مرکزی چوک کا سفر بچوں کی معیت میں ٹریفک پولیس نے سب کو ٹریفک بارے ’’اقوالِ زریں‘‘ پڑھائے۔ اس کے بعد مرکزی چوک پر ہی بچوں کو دو گھنٹے بٹھا دیا گیا۔ بڑی بڑی شخصیات نے ٹریفک قوانین کی نہ صرف وضاحت کی بلکہ ان پر عمل کرنے کا بھاشن بھی دیا۔

اس پورے پروگرام میں صرف ایک بات قابلِ غور تھی۔ کم عمر بچوں کو موٹر سائیکل نہ چلانے کا حکم دینے والے بینر کو جن چھ بچوں نے پکڑا ہوا تھا وہ سارے آٹھویں جماعت کے تھے اور اب پریشان ہو رہے تھے۔ کہاں ا سکول میں ڈیڑھ بجے چھٹی ہو جانی تھی اور کہاں اب تین بجنے والے تھے۔ وہ سب دو باتوں سے پریشان تھے۔ ایک تو گھر میں کسی کو علم نہیں تھا کہ وہ سب اسکول سے باہر ہیں اور اتنی دیر ہو جانے کا سبب ا سکول والوں کے علم میں ہے۔ دوسری بات پانچ بچوں کی موٹر سائیکلیں اسکول کے پارکنگ سٹینڈ میں تھیں جو کہ ڈھائی بجے بند ہو جایا کرتا تھا۔ اب واپسی کی فکر ہو رہی تھی۔

خدا خدا کر کے ٹریفک آگاہی مہم اختتام پذیر ہوئی اور سب بچے ا سکول کو بھاگے۔ پانچوں بچوں نے پارکنگ سے موٹر سائیکلیں نکالیں اور سڑک پر ہوا ہو گئے۔ اگلے تیس منٹ میں ان پانچ میں سے دو بچے ٹریفک حادثے کا شکار ہو کر ہسپتال کے شعبہ حادثات میں داخل ہو رہے تھے۔ اس وقت کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ کم عمر کے بچے بنا ہیلمٹ موٹر سائیکل چلا رہے ہیں۔ بلکہ سب یہ دیکھ رہے تھے کہ اتنے چھوٹے چھوٹے بچے حادثے کا شکار ہو گئے ہیں۔ کہاں گئی آگاہی مہم اور کس نے وہ اقوال زریں یاد رکھے؟

ہم اپنے کم عمر کے بچوں کو یہی سکھا رہے ہیں کہ قانون توڑنا کیسے ہے۔ حالانکہ یہ وہ عمر ہے کہ جس میں سیکھے ہوئے طور طریقے انسان کی عادات بنتے ہیں۔ ایک بچہ کہ جسے بتایا جائے گا کہ غلط سمت میں موٹر سائیکل چلا کر وہ ’’جلدی‘‘ اپنی منزل کو پہنچ سکتا ہے تو وہی بچہ بڑا ہو کر کیا اپنی گاڑی غلط لین میں چلاتے ہوئے ’’جلدی‘‘ کی کوشش نہیں کرے گا؟ کسی نے اگر کہہ دیا کہ قانون بنتے ہی اس لیے ہیں کہ انھیں توڑا جائے۔ تو اس مہمل سی بات کو حقیقت سمجھ کر سبھی اس پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں۔ جبکہ ہر ذی شعور انسان جانتا ہے کہ الٹے قدموں چلنے سے نہ صرف منزل پیچھے چلی جاتی ہے بلکہ راستے کا تعین ہی ممکن نہیں رہتا۔ قوانین انسان کی سہولت اور آسانی کے لیے بنائے جاتے ہیں نا کہ تکالیف و مشکلات کے لیے۔ لیکن حضرتِ انسان ان سے روگردانی کر کے اپنے لیے مصائب خرید کرتا ہے اور یہی بات ہم سمجھنا نہیں چاہتے۔

کیونکہ بات ٹریفک قوانین کی ہوئی ہے تو اسی پر ہی توجہ کرانا چاہوں گا۔ ایک چھوٹی سی بات یعنی سگنل کی خلاف ورزی نہ کرنا وہ سبق ہے کہ جس سے حادثات میں بہت زیادہ کمی واقع ہو جاتی ہے اور صرف ہیلمٹ پہن لینے سے ہی کسی حادثے کی صورت میں جان کا خطرہ اسی فیصد کم ہو جاتا ہے۔ لیکن کون مانتا ہے؟ڈرائیونگ لائسنس بننے تو لگے ہیں، ٹیسٹ بھی ہوتے ہیں لیکن ہمارے نولے فیصد لائسنس رکھنے والے حضرات کو لائن اور لین کا معلوم ہی نہیں ہوتا۔ جیسے ہی سگنل سبز ہوتا ہے ایسے تمام افراد لین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی خطرے سے دو چار کر دیتے ہیں۔ کسی طرف مڑنا ہو تو اشارہ تک نہیں دیتے اور نہ ہی لین و لائن کا حساب رکھتے ہیں۔ سیکھنا عمر کا محتاج نہیں ہے۔ اگر آج ہی سب لوگ یہ تمام باتیں جان لیں تو سڑکیں محفوظ اور ہسپتال ویران ہو جائیں گے۔ دیکھتے ہیں کون قانون کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگی محفوظ کرتا ہے اور کب ٹریفک آگاہی مہم کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 520547 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Dec, 2018 Views: 258

Comments

آپ کی رائے