اولڈ ایج ہوم۔۔۔۔مشرقی معاشرے میں مغربی ناسور؟؟؟

(Muhammad Rehan, Karachi)

دور حاضر کی اگر ہم بات کریں تو یہ نوجوان نسل بدقسمتی سے مغربی اثر سے اتنا متاثر ہو چکی ہے اور ان کے رسم رواج کو اپنانے کی دوڑ میں اتنا آگے نکل چکی ہے کہ اچھے برے کی تمیز کھو چکی ہے اور موجودہ دور میں اولڈ ایج ہومز کی بڑھتی ہوئی شرح بھی انہیں اثرات کا اک اثر ہے اولڈ ایج ہومز کی اگر ہم بات کریں تو ہم بات مکمل پاکستان کی نہیں کریں گے واضع رہے کہ ہم بات کریں شہری علاقوں کی کیونکہ دیہی علاقوں میں والدین کو اولڈ ایج ہومز بھیجنے کا کوئی تصور نہیں ہے یہ اثر ہم پڑھی لکھی با شعور عوام /فیملیز میں پایا جاتاہے ۔

اس سروے کے مطابق پاکستان میں موجو د اولڈ ایج ہومز میں آنے والے یا داخل کرائے جانے والے والدین میں 73% شرح با شعور اور پڑھے لکھے گھرانوں کی ہے جب کہ غریب طبقات کو دیکھا جاءئے تو وہ انپڑ اور جاہل ہونے کے باوجود اپنے والدین کو کسی قسم کے اداروں میں جمع نہیں کروا رہے ہوتے اور اگر کرو ابھی رہے ہوتے توا سکی شرح کم ازکم اس سے بہت کم ہے جو کہ اک با شعور اور پڑھے لکھے طبقے کی ہے ۔

ہمارے مذہب اسلام میں اللہ کی اطاعت و فرمانبردای کے بعد اگر کسی کو اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے ماں ،باپ ہیں الحمد اللہ ہم جس معاشرے میں ہیں وہاں ہم اپنے والدین کو عزت سے نوازتے ہیں لیکن بد قسمتی سے اسی معاشرے میں جہاں وقت کے ساتھ ساتھ اور بہت سی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اسی تبدیلی میں اک پاکستان میں بڑھتے ہوئے اولد ایج ہومز کی شرح ہے ۔

کئی گھروں میں والدین خود اپنی مرضی سے اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے آشیانے کو چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور کئی گھروں میں بچے خود اپنے والدین کو اولڈ ایج ہومز چھوڑ کر آرہے ہوتے ہیں اور اولڈ ایج ہومز چھوڑکر آنے کی کتنی وجوہات میں سے چند ایک یہ ہیں ۔
* بچے مستقبل سنوارنے کی روڈ میں انتا آگے نکل چکے ہوتے ہیں کہ ان کے پاس اپنے والدین کو دینے کئے لئے وقت ہی نہیں ہوتا
* کتنی جگہوں پر بچے اپنی فیملیز بنانے کے بعد اپنے بیوی بچے اور اپنے سماجی تعلقات میں اتنا مصرورف ہو چکے ہوتے ہیں کہ وہ ماں ،باپ کو وقت دینانہیں چاہتے۔

* انا اور خود پرستی کی جنگ جو کہ صدیوں سے ساس اور بہوکے درمیان چلی آرہی ہوتی ہے اس سے امن کے حصول کے لئے اکثر بیٹے اپنی ماؤں کو اولڈ ایج ہومز چھوڑکر آرہے ہوتے ہیں ۔
* بچے خود بیرون ممالک میں سیٹلڈ Settledہو رہے ہوتے ہیں اور والدین کو اولڈ ایج ہومز میں جمع کروا رہے ہوتے ہیں ۔
* بچے موجود دور کے اثر کے مطابق و آزادی چاہتے ہے جہاں ان کو دور دور تک کوئی روکنے والا موجود نہ ہو۔

ان حالات کے پیش نظر کافی حد تک ہاتھ والدین کا بھی ہے کیونکہ والدین نئی نسل کو یہ تو بتا رہے ہیں کہ زندگی کا مقصد کچھ حاصل کرنے ہے اور پڑھ لکھ کر اک کامیاب انسان بننا ہے والدین بچوں کی پڑھائی پر تو توجہ دے رہے ہیں لیکن آج تک معاشرے میں بچے تربیت سے بالکل خالی ہیں ۔والدین بچوں کا ا دب آداب کی بلکل تربیت نہیں دے رہے ہیں بچے اسی تربیت سے بالکل خال ہیں کہ اس معاشرے میں رہتے ہوئے کس طرح صبر اور برداشت سے رہنا چاہیے ۔

جو ناگوار گزرنے والی چیز پر درعمل کا اظہار کر نے کے بجائے اس پر صبر اور تحمل کا مظاہر ہ کریں ہم اس دور میں بچوں کو یہ تو بتا رہے ہیں کہ اگر تم یہ کرو گے تو اک کامیاب انسان بن جاؤ گے لیکن یہ نہیں بتا رہے ہیں کہ بیٹا تم اس میں نا کام بھی ہو سکتے ہو ہم صرف بچوں کو کامیابی کے سبق پڑھاتے ہیں یہ نہیں بتاتے کہ اگر کامیاب نہیں ہوئے اور فیل ہو گئے تو اس صورت میں تہمیں کیا کرنا چاہیے والدین بچوں کو یہ نہیں بتارہے کہ زندی کے مقاصد صرف پڑھنا لکھنا اور کامیاب انسان بننا نہیں ہے اس سب کے ساتھ ساتھ زندگی اصل ذمہ داریوں میں ان کے ماں باپ بھی ہیں ،نئی نوجوان نسل اسوقت اپنی عارضی خوشیوں کی خاطر اپنے فرائض سے روز بروز دہوتی جا رہی ہے ہم صرف یہ دیکھانا چاہتے ہیں کہ فی الحال ہمیں خوشی کیا چیز دے رہی ھے ۔

ہم اپنی عارضی خوشییوں کی خاطر اس حقیقت کو بہت پیچھے کرتے جا رہے ہیں جو ہماری بنیاد ہے ترقی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ انسان اپنی بنیاد چھوڑ دے اور جو انسان اپنی جڑیں چھوڑ دیتا ہے وہ معاشرہ دن بہ دن کمزور ہوتا جاتا ہے اور جو نیا معاشرہ اس تشکیل چا رہا ہے تربیت اور تہذیب سے بالکل عادی ہو چکا ہے ۔

ہمارے معاشرے میں اور ہمارے مذہب میں بھی بزرگوں کی دعاؤں کی بہت اہمیت ہے اور ماں باپ کی خدمت ہمارے مذہب میں عبادت کا درجہ رکھتی ہے ۔

اسلامی معاشرہ دن رات والدین کے حق میں دعائیں کرنے کا حکم دیتا ہے یہ کونسا معاشرہ ہے جو والدین کو ان کے بڑھاپے میں اولڈ ایج ہومز میں داخل کرانے کے فروغ کو پروان چھڑا رہا ہے اگر آج بروقت اس کی روک تھام نہیں کی گئی تو آنے والی نسل پر اس کے بہت برے اثرات مرتب ہوں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Rehan

Read More Articles by Muhammad Rehan: 5 Articles with 2214 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Dec, 2018 Views: 338

Comments

آپ کی رائے