یوم مئی -ایک دوسرا پہلو

(Muhammad Rizwan, Karachi)

یوم مئی کو جب مزدوروں کی حمایت میں مضامین دیکھتا ھوں تو مجھے وہ سارے زخم یاد آجاتے ہیں جو ان مزدوروں نے دئے -

سوچتا ھوں کہاں سے شروع کروں -

کیا وہ قصہ بتاؤں کہ قوم کے اربوں روپے کی ایک بھٹی پانچ منٹ میں ختم ھو کر خاکستر ھو نے والی تھی - میں ایک کرین کے چلانے والے سے کہہ رھا تھا کہ اس کرین کو چلاؤ تاکہ میں بھٹی بچا سکوں اور وہ کہہ رہا تھا کہ نہیں ---ذھن پر ایک پریشانی تھی اور اس کرین والے نے نئی مصیبت میں ڈال دیا تھا - میں نے روتی صورت بنا کر التماس کے انداز میں صرف ھاتھ نہیں جوڑے باقی چہرے پر جو مسکینی لاسکتا تھا لیکر آیا -اور آخر کار مزدور کرین والے کو رحم آیا اور وہ کرین چلانے پر آمادہ ھوا - دل میں آتا ھے کہ پوچھوں کہ کس کے اوقات تنگ ہیں "بندہ مزدور کے یا بندہ انجینیر کے "

یہ دوسرا مزدور دیکھو - اچانک غائب ھو گیا - تین دن بعد آیا اور کہا کہ مجھے حاضر قرار دیا جائے - میرا کہنا یہ تھا کہ بھئی تم اپنے گاؤں گئے ھو -جانے کیا کر کے آئے ھو کیسے حاضری لگا دوں -لیکن اس کی ضد تھی -اس کے ساتھ مزدوروں کیمسائل حل کرنے والی یونین بھی تھی - خیر اس اخباروں پر سونے والے مزدور نے حاضری لگوالی - دل کو ایک درد دے گیا -ہے بہت تلخ اس بندہ مزدور کی یہ سوغات -- لیکن مسئلہ ختم نہیں ھوا -مہینے کے اختتام پر آیا اور کہا کہ اس غیر حاضری کا اوور ٹائم بھی لگاؤ - پھر ایک ھنگامہ شروع ھوا - دروازہ اندر سے بند کر دیا گیا - انجینیر صاحب کو پیٹنے کی تیا ریاں ھو نے لگیں اور آخر مفت کا اوور ٹائم لگا کر نجات پائی - تو عادل و قادر ھے مگر کب ملے گا افسر کو انصاف-

یہ ایک اور افسر ہیں -نہ جانے کیوں یکم مئی کو کیوں ان کے سرمیں درد ھو جاتا ھے - شاید کسی مزدور کی بد دعا لگی ھے - آج تو ان سے پوچھ کر رہیں گے - چلیں اﷲ کا شکر ھے آج کچھ بولنے پر آمادہ ہیں - کہتے ہیں کہ کئی برس پہلے یکم مئی کو کسی الیکٹریشن کا انتقال ھو گیا تھا -اس کی تدفین کے موقع پر گئے - ادارے کی طرف سے گاڑی نہیں دی گئی چنانچہ شہر میں چلنے والی وین میں اس زمانے کے مطابق پانچ روپے دی کر پہنچے ورنہ مزدوروں کی طرف سے پھر شور مچتا کہ صاحب کو مزدوروں کا غم نہیں - یہ افسر اپنے زمانے کے بہتریں طالب علم اور تقریری مقابلوں میں اول آتے تھے - اتنے میں مزدور انجمن کا نمائندہ بھی آپہنچا - اس کو ادارے کی طرف سے گاڑی ملی تھی اور ڈرائیور بھی -تعزیت کے بعد روانگی ھوئی - افسر صاحب ویسے ہی ایک عام پبلک کی گاڑی میں سوار ھوئے -کنڈکتر نے اعلان کیا "صاحبان -گرمی بہت ھے -آپ کے لیئے آﷲ نے وین کی چھت بنائی ھے جان ھیتو چلے جائیں - افسر تو نہیں گئے - لیکن دوسرے لوگ چلے گئے - راستہ میں مزدور رھنما کی گاڑی نظر آئی -افسر صاحب نے سر اپنی وین سے باہر نکالا ھواتھا کہ ٹھنڈی ھوا آتی رہے - مزدور رھنما نے ان کو دیکھ کر ھاتھ ہلایا - اس کے بعد یہ افسر سر اندر کرنے لگے تو نہ جانے کیسے وین والے نے بریک لگائی کہ ان کے سر کو چوٹ لگ گئی -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Rizwan

Read More Articles by Muhammad Rizwan: 8 Articles with 2411 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Dec, 2018 Views: 308

Comments

آپ کی رائے