خوش اخلاقی خوفِ الٰہی کی دلیل ہے!

(Nasir Gujjar, )

انسان کی کامیابی کا راز خوش اخلاقی ہے ۔ یہ ایک اہم نقطہ ہے جس سے انسان دوسروں کے دل جیت سکتا ہے ۔ لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کر سکتا ہے ۔ لوگوں میں مقبول ہو سکتا ہے ۔ خوش اخلاقی انسان کا زیور ہے ۔جس شخص کے اخلاق اچھے ہیں وہ دنیا میں کبھی رسوا اور ناکام نہیں ہو سکتا ۔ انسان کے اخلاق اچھے ہیں تو کامیابی حاصل کر سکتا ہے ، کامیابی کا اہم جزو اخلاق کا اچھا ہونا ہے۔ امریکی صدر جیفرسن رنگ و نسل کے امتیاز کے خلاف تھا ۔ ایک دن وہ اپنے پوتے کے ساتھ گھوڑے پر سوار کہیں جا رہا تھا کہ ایک امریکی حبشی راستے سے نمودار ہوا اور اس نے بصد احترام ٹوپی اتار کر صدر جیفرسن کو سلام کیا۔ صدر نے بڑی خندہ پیشانی سے جواب دیا مگر اس کے پوتے نے یہ کہتے ہوئے منہ پھیر لیا ’’بھلا یہ کالا آدمی ہماری برابری کیونکر کر سکتا ہے؟‘‘۔ صدر جیفرسن نے کہا۔’’ مگر کالا ہونے کے باوجود خوش اخلاقی میں تم سے سبقت لے گیا اور یہ بات میرے لئے ناقابل برداشت ہے کہ تم خوش اخلاقی میں اس سے شکست کھا گئے ہو۔ایک خوبصورت قول ہے کہ خوش اخلاق لوگوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا کمال نہیں مگر بد اخلاق لوگوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا کمال ہے۔ خوش اخلاقی زندگی گزارنے کا ایک اچھا اور نیک طریقہ ہے ۔ اخلاق اصل میں انسانی سیرت و کردار پر مبنی رویے کا نام ہے ۔ انسانیت کی بنیاد اخلاق پر قائم ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی اور مخلوق کی ہر دلعزیزی حاصل کرنے کیلئے اچھا اخلاق سب سے بڑا ، سب سے بہتر اور سب سے زیادہ آسان ذریعہ ہے۔ ہر ایک انسان میں حقیقی جو ہر انسانیت کا ہونا ضروری ہے۔ مذہب اسلام کی تمام تر تعلیم کا لب لباب اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ لفظ اخلاق ہے ۔ تمام اچھے اخلاق کا خلاصہ دوسروں کو تکلیف نہ دینا ہے ۔ شجر علم کا ثمر اولین حسن اخلاق ہے ۔ انسان اخلاق سے بنتا ہے عمدہ سیرت سب سے بڑی سفارش ہوتی ہے ۔ لیاقت اور علم سے دنیا مسخر ہوتی ہے لیکن دلوں کی تسخیر کیلئے خوش اخلاقی کا ہونا بہت ضروری ہے ۔

نبی آخرالزماں ﷺ نے فرمایا کہ اچھے اور بہترین اخلا ق جنت کے اعمال میں سے ہیں ۔ آپ ﷺ کی پوری زندگی قرآن مجید کی عملی تفسیر تھی ، اس کے باوجود حضور ﷺ کے تمام اعمال میں اﷲ تعالیٰ نے جہاں آپ ﷺ کے اور اعمال کی تعریف کی ہے وہیں زیادہ تر ان کے اخلاق کی تعریف فرمائی ہے۔ فرمایا’’بے شک آپ اخلاق کے اونچے درجے پر ہیں‘‘۔ خوش اخلاق ہونے میں خرچ کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا مگر اس سے بہت کچھ خریدا جا سکتا ہے۔ اخلاق کا اچھا ہونا محبت الٰہی کی دلیل ہے۔ اخلاق ایسا ہیرا ہے جو پتھر کو بھی نرم کردیتا ہے ۔ کسی کی دل شکنی کے بعد دل جوئی کے ہزار طریقے اختیار کئے جائیں تو بھی اس کا اثر زائل کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ایک شاعر تھا جس نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی ۔ جب اسے آپ ﷺ کے حضور پیش کیا گیا تو آپﷺ نے حضرت علیؓ سے حکم فرمایا کہ اس کی زبان کاٹ دو۔ حضرت علی ؓ اسے لے گئے اور تحفے تحائف دے کر رخصت کر دیا ۔ اگلے دن وہی شخص فجر کی نماز میں حاضر ہوا اور بنی پاک ﷺ کی شان میں نعتیہ اشعار پڑھنے شروع کر دئیے اور اسلام قبول کر لیا ۔ در اصل نبی پاک ﷺ کا حکم یہی تھا کہ اس کی گستاخ زبان کو اپنی خوش اخلاقی کے ذریعے بدل دی جائے ۔زندگی میں ہمیں ایسے بہت سے لوگ ملتے ہیں جو ذرا سی دیر میں اپنے مسکراتے چہرے اور شیریں باتوں سے کانوں سے دل تک چاشنی بھر دیتے ہیں۔اور اپنے ناقدین و مخالفین کو اپنا بنا لیتے ہیں ۔ ہمیں خوش اخلاقی اور خوشامد میں بھی تفریق کرنی چاہئیے ۔ پولیس محکمے کے بارے میں لوگوں کا ردعمل انتہائی برا رہا ہے ہمیشہ سے۔ لیکن اب اس محکمے میں واضح تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے اس کا مؤجب اس محکمے میں تعلیم یافتہ افسران کی تعیناتی ہے ۔ شعور و آگہی سے اخلاقی اقدار منظم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ میں جھنگ کا رہائشی ہوں اور میری ملاقات نئے تعینات ہونے والے ضلعی پولیس افسر عطاء الرحمٰن سے گزشتہ روز ہوئی ۔ انتہائی شفیق اور مدبر انسان نظر آئے۔ اخلاقی رویے سے من موہ لیا ، کیونکہ وہ ادب سے کافی گہرا شغف رکھتے ہیں۔سابقہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شاکر حسین داوڑ بھی انتہائی اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل انسان ہیں ۔ پولیس محکمہ جھنگ میں اب کافی حد تک تبدیلی نظر آتی ہے پبلک ریلیشن کی ٹیم بھی اخلاقی اقدار کے اہداف کو یقینی بنائے ہوئے ہیں ۔ سب انسپکٹر شاہد امیر لدھیانہ ، اے ایس آئی علی عباس ، فیصل اور عرفان سبھی انتہائی خوش مزاج اور شائستہ لوگ ہیں ۔ امید کرتا ہوں کہ محکمہ پولیس ہر سطح پر اچھے اخلاقی اقدار قائم کرنے کیلئے ایسے افسران کی تعیناتی کو یقینی بنائے گا اور معاشرے کو منظم کرنے کیلئے اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے بھی کوئی کم از کم سزامتعارف کروائے گا۔ کیونکہ نظم و ضبط کا قیام اخلاقی اقدارکے بغیر ممکن نہیں ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nasir Gujjar

Read More Articles by Nasir Gujjar: 22 Articles with 9082 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Dec, 2018 Views: 334

Comments

آپ کی رائے