تعلیمی فقدان اور سیاستدانوں کا رویہ

(Ashir Ali, Sialkot)
علم ہی ذریعہ ہے کامیابی کا

تعلیم کسی بھی قوم کے لئے ترقی کی بنیاد ہوتی ہے تعلیم کے بغیر ترقی کا تصور بھی بیوقوفی ہے لیکن ہم بدقسمتی سے دن بہ دن اس بیوقوفی میں دھنستے حا رہے ہیں ہمارا نظام ہمیں دن بہ دن ناکامی کی طرف دھکیل رہا اور ہماری قومی شناخت کو مٹاتا جا رہا ہےقیام پاکستان سے لے کر آج تک ہم نے اپنے تعلیمی نظام میں اصلاحات کا تصور بھی نہیں کیا لیکن ترقی کے منتظر ہیں ہم بیچارے عوام تو عوام حکومتی وزراء اور اراکین اپوزیشن بھی ہر طرح کے اوچھے ہتھکندے استعمال کر رہے ہیں جس سے یہ بات بلکل واضع ہوتی جارہی ہے کہ ہم نے کہیں نہ کہیں تعلیم سے دوری احتیار کر لی ہے ہمارے قابل عزت سیاستدان جو ہمارے نظام کو درست کرنے کے لئے منتخب ہوتے ہیں وہی ٹی وی چینلز پر آ کر غلیز زبان کا استعمال کرنا قابل فخر محسوس کرتے ہیں تو کیا ہم ایک ایسا نظام آنے والی نسل کے حوالے کر رہے ہیں جس میں ایک دوسرے کی ذاتیات کو نشانہ بنانا فخر کی بات ہو کیا یہی وہ ترقی ہے جس کے چرچے ہم قیام پاکستان سے لے کر آج تک سنتے آ رہے ہیں کیا یہی وہ ملک ہی جس کی بنیاد نظریہ اسلام اور مساوات پر مبنی ہے لیکن کیا کیا جا سکتا ہے کیوں کہ جب تک تعلیمی نظام ہی کی کوئی واضح سمت نہیں ہو حی تو پھر یہ سب تو ہو گا کیا سیاستدانوں کو یہ بات یاد نہیں کہ وہ سیاستدان اور وزراء ہونے سے پہلے انسان ہین اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمان ہیں اور جن کے بارے غلط زبان کا استعمال کرتے ہیں وہ بھی مسلمان اور انسان ہیں ہر کسی کی عزت نفس ہے جس کو مجروح کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو چاہیئے کہ اخلاقیات کا دامن تھامے رکھیں تاکہ عزت پا سکیں اور کیا ہی عجیب بات ہے کہ ایک سیاستدان کہتا ہے کہ فلاں کا نام لینے سے پہلے مجھے بتا دیا کرو تاکہ میں کپڑے سے ناک ڈھانپ سکوں اور کوئی کہتا ہے کہ فلاں نے عزت دار لوگوں کو نوچ نوچ کر کھایا ہے۔ تو میرا ایسے تمام سیاستدانوں سے ادنی سا با ادب سوال ہے کہ کیا آپ سب اخلاقیات سے آزاد ہو؟ کیا آپ کے لئے جو زبان پر آئے بولنا جائز ہے؟ کیا آپ کو آنے والی نسلوں کی کوئی فکر نہیں؟ اور ہاں یاد آیا آپ کو فکر ہونی بھی کیوں ہے کیوں کہ آپ کی نسلوں کی پرورش تو برٹش ممالک میں ہو رہی ہے وہ تو آپ ملنے کے لئے بھی ادھر آنا پسند نہیں کرتے بلکہ آپ ادھر جا کر مل لیتے ہیں اور ان کی فکر میں دوسروں کو نوچ رہے ہیں۔ کیوں اپنے مذموم عزائم کا نشانہ معصوم عوام کو بنا رہے ہیں کیوں ٹی وی چینلز پر غلیز زبان کے استعمال پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ خدارا کچھ تو خدا سے ڈرو کل روز مخشر پکڑ سے بچنے کے لئے آج اپنی درستگی کرو لیکن یہ سب ان کی عقل میں آنے والی باتیں نہیں کیوں کہ یہ لوگ تو تعلیم جیسی چیز کے نام سے بھی واقف نہیں یہ تو صرف اپنے عہدوں کے بچاؤ اور اپنے بڑوں کو خوش کرنے میں مصروف عمل ہیں ان کو کیا خبر کہ ان کہ استعمال کردہ الفاظ قومی بقاء کے لئے کس قدر نقصان دہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے آج تک کوئی ایسا تعلیمی ضابطۂ طے نہیں کیا جس سے عوام کو آگاہی دی جا سکے لیکن اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تعلیمی باگ ڈور تو ان کے اپنے ہاتھ میں بھی نہیں یہ تو خود چند آقاؤ کے نوازے ہوئے ہیں اور ان کہ آقاء اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر ایک اقبال عوام کو اجاگر کر سکتا ہے اور قائد کا یقین کامل پاکستان کا وجود پیدا کرسکتا ہے تو اگر ایسی قوم کو تعلیمی زیور نصیب ہو گیا یہ تو ہمیں ہی نیست و نابود کر دے گی۔ اسی لئے وہ ہمارے لاعلم سیاستدانوں کو نواز دیتی ہے اور عوام اسی طرح سسکتے رہتے ہیں۔ تو خدارا آج آنکھیں کھولنے کا وقت ہے اپنی سمت کی جانب گامزن ہونے کا وقت ہے وہ سمت جو ہماری میراث ہے نہ کہ وہ جو اغیار ہمیں عطاء کر رہے ہیں۔ آج ہمیں تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تعلیمی نظام میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے اور سب سے بڑھ کر میری قلم کے ذریعے حکومت پاکستان ، چیف جسٹس آف پاکستان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سے درخواست ہے کہ عوامی نمائندوں کو الیکشن سے پہلے ایک مکمل تعلیمی ضابطۂ پورا کا کہا جائے تا کہ عوامی احساسات کی درست نمائندگی ہو سکے۔ کیوں تعلیم ہی وہ واحد چیز ہے جو اقبال، قائد، ارسطو اور ابن الہیشم جیسی عظیم شخصیات پیدا کرتی ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ آج تک کتنے وزیراعظم بنے جو سکالرز تھے لیکن جواب ملتا ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں کا سیاست سے کیا تعلق تو خدارا تعلق ہے لیکن نظام اجازت نہیں دیتا لہذا ضرورت وقت یہ ہے کہ تعلیمی نظام میں ضروری اصلاحات کر کہ تعلیم کو عام کیا جائے تاکہ ہر شہری سوچ سکے کہ کس طرح ملکی ترقی میں حصہ ڈالنا ہے اور یہ سب صرف اور صرف تعلیم ہی سے مملکن ہے۔ اللہ ہم سب کے لئے آسانیاں پیدا کرے اور ہم سب کو درست معنوں میں آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا کرے اور ہماری اس ارض پاک کو رہتی دنیا تک قائم و دائم رکھے۔
خدا کرے یہ سرزمین پاک یونہی پھولوں سے مہکتی رہے
یہ روانی یہ جوانی اور یہ شادمانی یونہی چلتی رے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ashir Ali

Read More Articles by Ashir Ali: 9 Articles with 3282 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Dec, 2018 Views: 444

Comments

آپ کی رائے