بچپن کو جی لینے دو

(M Munnawar Saeed , Karachi)

بچپن کو جینے دو

اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
لوٹ کر پھر بچپن کے زمانے نہیں آتے

ہمارے معاشرے کی یہ ستم ظریفی ہے کہہ ہم من حیث القوم بہت جلد باز واقع ہوئے ہیں ہر شخص ایک انجانی جلدبازی اور بے کلی کا شکار ہے۔ ہمارے بچے بھی مرغی کے نیچے انڈے رکھ کر چاہتے ہیں کہ اکیس دن کے بجاے اگلے دن ہی چوزے نکل آئیں ۔جوانوں کو بوڑھا ہونے کی جلدی ہے۔عمر تیس سال کی ہوتی نہیں ہے زمانے کی بے ثباتی کےنوحہ کناں بن جاتے ہیں ہر بات پر آہیں بھر کر کہتے ہیں کہ اب ہماری عمر ہے ان باتوں کی اور بوڑھے ملک عدم کو سدھارنے کے لئے ہمہ وقت کمربستہ دکھائی دیتے ہیں۔ہر فرد ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتا ہے۔

بیٹی جب دوپٹہ اوڑھنا شروع کردے تو ماں کو پریشانی لاحق ہوجاتی ہے کہ اب بیٹی جوان ہورہی ہے چنانچہ وہ جلد از جلد اسکی شادی کی فکر میں گھلنے لگتی ہے۔شادی کو چند دن ہی گزرتے ہیں کہ خاندان بھر کی عورتیں کن اکھیوں سے دلہن کو دیکھ کر شرارتا" مسکرانا شروع کردیتی ہیں اشارے کنایہ میں چیمینگوئیاں شروع ہوجاتی ہیں ہر کوئی بےچینی سے 'گڈ نیوز 'سننے کا متمننی ہوتا ہے جیسے ہمارے ملک میں جاری قحط الرجال اس نومولود کی آمد سے ختم ہوجائے گا۔اس انتظار میں اگر چند ماہ گزر جائیں تو بہو خاندان والوں کی سوالیہ نظروں کی تاب سے پریشان اور ساس بیچاری فکر میں ہلکان ہوجاتی ہے وہ چاہتی ہے کہ فی الفور دادی بن جاے دادا بھی کہاں پیچھے رہتا ہے کہتا ہے کہ اگر میرے پوتا پوتی ہوتے تو میں انگلی پکڑ کر انہیں نماز کیلئے مسجد لے جاتا۔اس خواہش کی تکمیل کے لئے لیڈی ڈاکٹروں کے چکر لگنا ہشروع ہوجاتے ہیں اور خدانخواستہ سال دو سال گزر جائیں تو پیروں فقیروں کی چاندنی ہوجاتی ہے۔

اللہ اللہ کرکے سب کے دل کی مرادیں بر آتی ہیں۔جس کا ہوتا ہے انتظار وہ شاہکار آجاتا ہے۔

بچہ جیسے ہی ذرا لاشعور سے شعور کی منزل طے کرتا ہے۔ گود میں ہی ہوتا ہے کہ سارے معاشرے کو اس کی تعلیم کی فکر لاحق ہوجاتی ہے۔جیسے بڑے ہوکر وہ ان کے مقدمات مفت لڑے گا۔گھر میں کام کرنے والی ماسی سے لیکر گلی کے نکڑ پر کھڑے سبزی فروش تک ہر ایک کے لبوں پر ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ" مننا اسکول نہیں گیا"۔بیچارہ مننا احساس جرم کا شکار ہوجاتا ہے۔اور لوگوں کی نظروں سے چھپنا شروع ہوجاتا ہے تاکہ ان کے سوالات سے بچ سکے ۔ معاشرتی دباؤ میں آکر والدین بچوں کو دو سال کی عمر میں ہی اسکول داخل کرا دیتےہیں ۔ورنہ بصورت دیگر اسکول میں اوور ایج ہونے کا طعنہ سننا پڑتا ہے ( اگر یہ ہی حالات رہے تو ہر میٹرنیٹی ہوم کے ساتھ مانٹیسری اسکول بھی جلد قائم ہونے لگیں گے،)۔

یہاں ایک اور دلچسپ مشاہدہ دیکھنے میں آیا ہے اس چھوٹی عمر کے بچے سے بھی اسکول والے ایکسپیکٹ یہ کرتے ہیں کہ وہ داخلے سے پہلے پڑھنا لکھنا جانتا ہو۔ہمارے سب سے چھوٹے بیٹے مبشر میاں جو کہ ماشااللہ بہت ذہین ہیں ان کو ہم ایک معروف مانٹیسری اسکول میں ساڑھے تین سال کی عمر میں داخلے کے لئے لیکرگئے (اس پر ہمیں بہت پچھتاوا ہے اللہ نے دوبارہ موقع دیا تو سات سال سے پہلے اسکول کا نام نہیں لیں گے) انکا تحریری ٹیسٹ لیا گیا جسکی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں تھی ۔اس کے بعد انڑویو ہوا ۔سپاٹ چہرے پر میک اپ کی دبیز تہہ جمائے ایک عمر رسیدہ خاتون نے بڑے تشویشناک انداز اور کرخت لہجہ میں آگاہ کیا کہ باقی سب تو ٹھیک ہے مگر بچے کو My self پر Essay لکھنا نہیں آتا۔ان کئ اس بات پر ہمیں غصہ بھی تھا اور حیرت بھی ، بجائے اس کہ کے بچہ کو اسکی ذہانت اور مہذب رویئے پر سراہتیں حوصلہ افزائی کرتیں الٹا اس کو تاسف میں مبتلا کردیا جسکا انداذہ کوئ بھی حساس شخص ، جو کہ انسانی نفسیات کو سمجھتا ہو، بچے کی شکل دیکھ کر بخوبی لگا سکتا تھا۔ہم اس بیچاری ہیڈ مسڑیس کو حیران و پریشان چھوڑ کر فوری وہاں سے آٹھ آئے۔

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ "علم حاصل کرو ماں کی گود سے لیکر گور تک"۔
یعنی ماں کی گود ہی بچہ کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔بچہ کو اس ننھی عمر میں ماں کی محبت چاہت اور آغوش کی ضرورت ہوتی ہے۔ماں باپ کی توجہ اور محبت ہی ان میں خود اعتمادی اور تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہے۔
معاشرہ چونکہ نفسا نفسی کا شکار ہے۔مردوزن دونوں پیسے کمانے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔وہ اپنے بچوں کو زیادہ وقت نہیں دے سکتے وہ بچوں کو جلد از جلد اسکول میں داخل کرواکر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونا چاہتے ہیں۔ اب انکی خواہش زیادہ سے زیادہ نمبروں کے حصول تک محدود ہوتی ہے۔وہ نادانستہ طور پر بچوں کو اپنی نا آسودہ خواہشات کا اسیر بنا لیتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ زیادہ سے زیادہ نمبر لے اور جلد از جلد ڈاکٹر انجینئر بنکر برسر روزگار ہوجائے ۔نمبروں کے حصول کی دوڑ دراصل بادی انظر میں پیسہ کمانے کی دوڑ ہوتی ہے۔اس دوڑ میں ایک اہم ترین چیز نظرانداز ہوجاتی ہے وہ ہے کردارسازی۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک چین ،ساوتھ کوریا ،سنگاپور میں تقریبا %90 بچوں کو اوسطا چھ سات سال کی عمر میں اسکول داخل کرایا جاتا ہے۔یہ بچے چھوٹی عمر میں اسکول جانے والے بچوں کی نسبت زیادہ پراعتماد ذہنی طور پر مضبوط اور جسمانی لحاظ سے توانا ہوتے ہیں ۔اٹھنے بیٹھنے کا سلیقہ بات چیت کے آداب اور صفائی ستھرائی کے طور طریقوں سے بخوبی واقف ہوتے ہیں ۔

وو بچے جو دو سال کی عمر سے عملی جدوجہد شروع کر دیتے ہیں ۔یخ بستہ سردیوں میں جو عمر لحاف اوڑھ کر آغوش مادر میں سونے کی ہوتی ہے یہ معصوم صبح سویرے زیادہ سے زیادہ نمبر کمانے سفاک وین ڈرائیورز کے حوالے کردیئے جاتے ہیں جو انھیں بے دردی سے وین میں ٹھونس کر اسکول پہنچا دیتے ہیں جہاں شوہروں سے سے لڑ کر آنے والی ستم زدہ خواتین اساتذہ ان معصوموں کو تختہ مشق ستم بناتی ہیں۔تربیت سے عاری ان درسگاہوں میں بچے تعلیم تو حاصل کرلیتے ہیں اچھی نوکریاں بھی حاصل کرلیتے ہیں مگر دینی اور اخلاقی تربیت سے محروم ہوتے ہیں۔ان کے جذبات سرد ہوچکے ہوتے ہیں ۔یہ رحمدلی ،جذبہ ایثار وفا ،الفت و محبت اور اخوت کے جذبات سے قطعی ناآشنا ہوتے ہیں۔

رویوں کے زوال اور معاشرتی برائیوں کو برائی نہ سمجھنے سے کرپشن کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
ہم بھی اب ایک ترقی یافتہ قوم بننے والے ہیں۔نیا پاکستان وجود میں آچکا ہے ایسا شخص ملک کا وزیراعظم ہے کہ جس کے ویژن سے جاپانی بھی متاثر ہیں ۔خان صاحب کو چاہئے کہ قوم کے بچوں کو بھی اپنا ہی سمجھیں ۔کوئ ایسی بہترین تعلیمی پالیسی وضع کی جائے کہ جس کے نفاذ سے بچوں سے ان کا بچپن جینے کا حق کوئی نہ چھین سکے ۔

ہمیں یقین کامل ہے کہ جس دن ہمیں، ہمارے اساتذہ اور رائے عامہ کو یہ بات سمجھ آگئی اس دن سے پاکستان کی تقدیر بدلتے میں دیر نہیں لگے گی ۔

بچوں کے چھوٹے ہاتوں کو چاند ستارے چھونے دو۔۔
چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہوجائیں گے۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Munnawar Saeed

Read More Articles by M Munnawar Saeed: 35 Articles with 20712 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Dec, 2018 Views: 535

Comments

آپ کی رائے