آزادکشمیر میں قائد ڈے پر خاموشی اورمسیحوں سے بے عمل تعلق ؟

(Tahir Ahmad Farooqi, Muzaffarabad ajk)
آزادکشمیر میں قائد ڈے پر خاموشی اورمسیحوں سے بے عمل تعلق ؟

مقبوضہ جموں وکشمیر شہیدوں کو تاحد نظر عوام کے بڑے بڑے جلوسوں میں پاکستان کا قومی پرچم لپیٹے سپردخاک کیا جاتا ہے اور پھر ان کی قبروں پر یہ پرچم بطور خاص رکھا جاتا ہے ‘ جس کی مثال بیان کرتے ہوئے حضرت قائداعظم کے سچے ‘ کھرے پیروکار سردار خالد ابراہیم مرحوم نے یونیورسٹی کیمپس چہلہ بانڈی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے معرض وجود میں آ جانے پر حضرت قائداعظم سے سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ کا الگ ملک پاکستان بنانے کا فیصلہ درست تھا یہ نہیں تو قائد نے جواب دیا اس کا فیصلہ خلق خدا کریگی آج مقبوضہ کشمیر میں سبز ہلالی پرچم اُٹھائے لاکھوں کے اجتماعات اور اس پرچم کو اپنے شہداء کے جنازوں پر لپیٹ کر سپردخاک کرنے کا عمل ثابت کرتا ہے کہ قائداعظم کا پاکستان بنانے کا فیصلہ ہر ہر پہلو اور مستقبل کے تناظر میں برحق تھا ‘ خالد ابراہیم کے یہ الفاظ 25 دسمبر یوم ولادت قائداعظم پر یاد آئے کیوں کہ ملک بنانے والے قائد کے یوم ولادت پر چھٹی تو کی جاتی ہے مگر ان کے عظیم کارنامے جدوجہد ‘ حالات زندگی کو بطور آئیڈیل ملت کو پیش کرنے کیلئے ان کی جماعت مسلم لیگ کے نام نہاد وارثوں سمیت تمام ہی جماعتوں کو سانپ سونگھا ہوتا ہے جو قومی اور ریاستی جماعتوں کے لیڈر کے طور پر حضرت قائداعظم کا نام لیکر خود کو تاریخ کے اوراق سے جوڑنے میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں مگر ان کے یوم پیدائش ‘ یوم وفات پر صرف چھٹی مناتے ہیں اور اپنی اپنی جماعت کے اوپر سے نیچے تک لیڈروں کی جائز ناجائز ہر بات حتیٰ کہ اندرون بیرون ملک اثاثوں کاروبار کے ذرائع کی بات ہو جائے تو زبانیں لمبی لمبی ہو جاتی ہیں ان کی جی حضوری ‘ چاپلوسی میں نمبر سکورنگ کی دوڑ میں تمام حدیں پھلانگ جاتے ہیں مگران کے ایام پر سوئے رہتے ہیں یہی حال ہمیشہ سے آزادکشمیر میں چلا آر ہاہے ‘ سرکار اپوزیشن اور ادارے صرف ان کے نام پر چھٹی منانا نہیں بھولتے باقی سب بھول جاتے ہیں ‘ یہاں کاغذی ترقیاتی سکیموں سے لیکر ورک چارج کے آرڈرز تک مال مفت دِل بے رحم کے معاملے میں سب کچھ الٹ پلٹ کر کے رکھ دیا جاتا ہے ‘ مگر قائد کیلئے ایک دِن تو درکنار ایک گھنٹہ نکال کر ان کے نام کام پر تقریب کرنے میں موت واقع ہوتی ہے ‘محض دو چار سو روپے کا کیک لیکر تصویر بنوانے کی شعبدہ بازی کا احسان قائد کی ضرورت نہیں ہے‘ میری دادی محترمہ کا نام گرامی بھی فاطمہ تھا اللہ ان کو بی بی زہرہ پاک فاطمہ ؑ کی شفاعت نصیب فرمائے ان کی طرف سے قائد کیلئے گاؤں تکیہ بڑی محبت کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے تیار کرا کر بھجوایا گیا کہ قائد دِن رات کام کرتے ہیں اس کی ٹیک لگا کر آرام سے کرسی پر کام کرتے ہوئے کچھ راحت ملے مگر قائد نے فرمایا میری قوم تکلیف میں ہے میں کس طرح آرام کا سوچ سکتا ہوں ‘ ایسے قائد کا نام لینا اور پیروکاری کرنا یقیناًخود کو خود قائد کہلانے والوں کا نصیب ہر گز نہیں بن سکتا اگر ہوتا تو قائد کے یوم ولادت پر 25 دسمبر کو کرسمس ڈے بھی ہوتا ہے ‘مقبوضہ کشمیر کا نام لیکر سیاست چمکانے اور کاروبار چلانے والے بڑے چھوٹے لیڈروں میں سے کوئی شوکت لائن چرچ جا کر ان کی خوشیوں میں شریک ہو کر مٹھائی کے تحفہ لے جاتا تو پتہ چلتا ان میں انسانیت ہے اور مقبوضہ کشمیرت کی تحریک پر موقف میں سچے ہیں جن کو ہم مسلمان کہلانے والوں نے چرچ تک نہیں بنانے دیا اور دعویدار ہیں کہ رحمت للعالمین حضرت محمد مصطفی ؐ کے اُمتی ہیں ‘ ڈپٹی کمشنر مسعود الرحمن نے ان کے چرچ کیلئے جگہ اور قبرستان کیلئے دور ایک مقام پر انتظام کیا مگر سیلاب آ جائے تو یہ بھی بہہ جائے گی ‘ سوچتا ہوں یہ حضرت عیسی ؑ کے پیروکار مسیحی یہاں سے چلے جائیں تو اس شہر کو صاف کون کرے گا ‘ عشروں سے ان کو صرف ورک چارج کے طور پر رکھنے والے سب ہی ظالموں کے سیاہ دلوں کو انسان کہلانے کا حق تو کم از کم نہیں ہے مگر ان کی اپنے ایک گھر میں بوسیدہ چرچ بنا کر تقریب میں شرکت کرنے والے میونسپل کارپوریشن ایمپلائز کے صدر شیخ طاہر وسیم ‘ ذوالقرنین نقوی ‘ ایم ڈی مغل سینئر ‘ ہارون قریشی ‘ جہانگیر کاظمی اور مسیحی مذہبی لیڈر شپ ریاست مسیح ‘ جان مائیکل کے علاوہ سجادمسیح ‘ پرویز شان ‘ پطرس رشید مسیح ‘ سونیا ریاست ‘ رامین ‘ نبیل ‘ ذیشان مسیح و دیگر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مسلمان قیادت کے دعویداروں سے سوال ضرور ہے کیا ان کو چرچ اچھے گھر جائز تنخواہ اور محفوظ قبرستان بنا کر نہ دینے کے جرائم کے مرتکب معاشرے کو مقبوضہ کشمیر والوں پر ظلم و بربریت کیخلاف باتیں کرنا محض ڈرامہ نہیں ہے؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmad Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmad Farooqi: 205 Articles with 71338 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Dec, 2018 Views: 349

Comments

آپ کی رائے