اپنی اصلاح آپ

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر:راحیلہ چوہدری
دنیا کے مشکل ترین کاموں میں ایک کام اپنی اصلاح آپ کرنا ہے بلکہ یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ فتنوں کے اس دور میں سب سے مشکل کام ہی اپنے آپ کودرست سمت میں رکھنا ہے ۔ہر انسان اپنی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں جانتا ہے لیکن اپنی خامیوں کو دور کیسے کرنا ہے یہ کوئی کوئی جانتا ہے۔اپنی اصلاح کیسے کی جائے ؟ یہ سوال انسان اکثر اپنے آ پ سے کرتا ہے لیکن جب جواب نہیں ملتا ۔تو پریشانی اور مایوسی کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے اور نتیجہ کسی نہ کسی نفسیاتی بیماری کی صورت میں نکلتا ہے۔
ٓآ ج ہم دیکھیں گے کہ اپنی اصلاح کے لیے وہ کونسی چند ایسی چیزیں ہیں جنہیں اپنا کر ہم ہمیشہ درست سمت میں رہنے کی کوششیں کر سکتے ہیں۔اپنی اصلاح کے لیے سب سے پہلے جس چیز کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے ’’نماز‘‘ اگر آپ نماز پابندی سے نہیں پڑھتے تو نماز کوپابندی سے ادا کرنے کی کوشیش کیجیے۔دوسری اہم چیز اگر نماز کا ترجمعہ یاد نہیں تو ترجیحی بنیادوں پر نماز کے ترجمعہ کو یاد کیجیے ۔نماز پڑھتے ہوئے اگر لاشعور میں نماز کو سمجھ کے نہ پڑھا جائے تو اس کے بغیر نماز کی اصل روح کو نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی تعلق باﷲ مضبوط کیا جا سکتا ہے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے‘‘۔اس آیت کی روشنی میں ہم سب کو اپنا اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔کیا ہماری نماز ایسی ہے جو ہمیں واقعی ہی برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے؟

اصلاح کے لیے دوسری اہم چیز’’ دعا ‘‘ہے۔ روزانہ کی بنیادوں پر اپنی دعا کے الفاظ پر غور کریں کہ میں اﷲ سے کیا مانگ رہا ہوں اور مجھے اﷲ سے کیا مانگنا چاہیے۔ دعا میں صرف اﷲ سے اپنی دنیاوی ضروریات کا مطالبہ مت کیجیے بلکہ بار بار اپنے مقصد حیات کو مانگیے۔ اﷲ سے باربار یہ سوال کریں کہ میرا مقصدِحیات کیا ہے۔ میں دنیا میں کس کام کے لیے آیا ہوں۔ یہ دعا آپ کو اپنے مقصدِ حیات کی طرف توجہ دلائے گی اور مقصدِ حیات کی جستجو ہی آپ کو دنیا اور آخرت میں کامیابی دلائے گی۔ اپنی اصلاح کے لیے یہ ایک انتہائی ضروری امر ہے کہ انسان کو اپنا مقصدِ حیات پتا ہو۔ اگر آپ کو اپنا مقصدِ حیات پتا نہیں یا مقصدِ حیات بنایا نہیں۔ تو آج ہی سے اپنے مقصدِ حیات کو تلاش کیجیے۔

واصف علی واصف کہتے ہیں: ’’بے مقصد زندگی چاہے کتنی طویل کیوں نہ ہو، موت سے بد تر ہے‘‘۔ مقصدِ حیات کے لیے ضروری ہے کہ آپ کبھی کبھی تہجد کا اہتمام کیجیے اور اس وقت اﷲ تعالیٰ سے پورے خشو ع وخضوع کے ساتھ دعا کیجیے۔نماز اور دعا کی درستی کا جا ئزہ لینے کے بعد تیسری اہم چیز جو ہمیں اپنی زندگیوں میں شامل کرنے کی اشد ضرورت ہے وہ ہے’’ روزہ‘‘۔ ہر ماہ تقریبا تین نفلی روزوں کا خاص طور پر اہتمام کیجیے۔ نفلی روزوں اور نفلی عبادتوں کے بغیر عمل کی پختگی ممکن نہیں اور نہ ہی نفس کی درستی اور نفلی عبادتوں کے بغیر خود شناسی سے خدا شناسی تک کے سفر کو کامیاب نہیں بنایا جا سکتا۔

ٓآج کل بیسیا ر خوری ایک فیشن بن چکا ہے۔ افسوس کے ساتھ خاص طور پر نوجوان نسل نے اپنا مقصدِ حیات اور خوشی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہی اچھا کھانے پینے کو بنا لیا ہے۔ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی جنسی بے راہ روی اور زنا با الجبر کے بڑھتے ہو ئے واقعات کی اصل وجہ بھی یہی بیسار خوری کی عادت اور نفلی عبادات سے دوری ہے۔

اس سلسلے میں شاہ ولی اﷲ فرماتے ہیں: ’’جب انسان کا پیٹ بھرا ہوا ہوتا ہے تو اس کے اعضا بھوکے ہوتے ہیں (یعنی اس میں جنسی حس زیادہ ہوتی ہے) اس وقت اس پر حیوانیت طاری ہوتی ہے اور اگر اس کا پیٹ خالی ہو تو اس کے اعضا سیر ہوتے ہیں (یعنی جنسی جذبات سرد پڑ جاتے ہیں)‘‘۔اس قول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میری خاص طور پر ماؤں سے درخواست ہے کہ وہ فرض روزوں کے ساتھ ساتھ نفلی روزوں کو اپنے گھروں میں سختی سے رواج دیں تاکہ ہم اپنے بچوں کو گناہِ کبیرہ کے پاس بھی پھٹکنے سے بچا سکیں۔

جب میری آنکھوں کے سامنے سے یونیورسٹی اور کالجز میں زنا با لجبر کے واقعات کی خبریں گزرتی ہیں تو میری روح کانپ کے رہ جاتی ہے ہمارا آج کا مسلمان نوجوان کیا کررہا ہے۔ کیا یہ ہمارے بچے ہیں؟ اور یہ کس کی ذمہ داری ہیں؟ آج کا نوجوان یہ تربیت کہاں سے لے کر آ رہا ہے؟ افسوس کہ آج کے اساتذہ اور والدین نے بچوں اور نوجوانوں کی روحانی تربیت کے حوالے سے اپنی آنکھیں بالکل بند کر لی ہیں۔
اپنی اصلاح کے لیے چوتھی اور اہم چیز ’’ذکر الہٰی‘‘ ہے۔نبیﷺ نے فرمایا، ’’دل دو چیزوں غفلت اور گناہ سے زنگ پکڑ تا ہے اور دو چیزوں سے ہی زنگ دور کیا جاسکتا ہے،استغفار اور ذکرِ الہٰی‘‘۔

نماز، روزہ، حج، زکوۃ یہ سب عبادتیں تو ذکرِ الہٰی ہیں ہی لیکن کچھ تسبیحات ایسی ہیں جن کو پڑھنے کی نبیﷺ نے بے شمار جگہ بڑی تاکید فرمائی ہے، ان تسبیحات کو زندگی میں قطرہ قطرہ روزانہ کی بنیاد پر شامل کرنے سے انسان بہت سے گناہ کرنے سے بچ جاتا ہے اور انسان تھوڑے وقت میں زیادہ اجر اکھٹا کر لیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذکر کرنے سے انسان کوئی بھی عمل کرتے ہوئے ہمیشہ اﷲ کو اپنے سامنے اور ساتھ پاتا ہے اور نفس کو درست سمت میں رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔ سورۃ الا عراف میں اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں، ’’اور تو اپنے رب کو صبح شام اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ یاد کیا کر اور اُونچی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ اور غافلوں میں سے نہ ہو جانا‘‘۔ یعنی اﷲ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اور عاجزی کے ساتھ صبح اور شام اپنے نفس میں اﷲ تعالیٰ کا ذکر کر اور اس کی یاد سے غفلت مت برت۔ اس آیت سے ہمیں ذکرِ الہٰی کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کے نفس کو درست سمت میں رکھنے کے لیے ذکر کتنا ضروری ہے۔

ایک دفعہ آپﷺ کی لختِ جگر حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنھا نے چکی کی مشقت اور دیگر معمولات کی زیادتی و تکالیف کی شکایت کرتے ہوئے آپﷺ سے خادم طلب فرمایا۔ توآپﷺ نے سیدہ فاطمہ کو خادم دینے کے بجائے رات کو سوتے وقت 33 مرتبہ سبحان اﷲ، 33 مرتبہ الحمدﷲ اور 34 مرتبہ اﷲ اکبر پڑھنے کا ارشاد فرمایا اور فرمایا خادم کے بجائے یہ کلمے تمہارے لیے بہتر ہیں‘‘۔

ایک دوسری جگہ نبیﷺ نے فرمایا، ’’ہر انسان کے تین سو ساٹھ جوڑ ہیں جس شخص نے اﷲ اکبر، الحمدﷲ، لا الہ الا اﷲ اور استغفراﷲ کہا اور لوگوں کے راستے سے پتھر یا کانٹے یا ہڈی کو دور کر دیا یا نیکی کا حکم یا برائی سے منع کیا اور یہ کام تین سو ساٹھ عدد کے برابر کیا تو وہ اس روز اس طرح چلتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو جہنم سے بچا لیا‘‘۔اگر ہم اپنی اس مصروف زندگی میں صرف اس ایک تسبیح کو اپنا لیں اور روزانہ اس کو اطمینان اور سکون سے پڑھ لیں۔ میرے خیال سے ہم پچاس فیصد اپنے نفس کو درست رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1238 Articles with 517724 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jan, 2019 Views: 260

Comments

آپ کی رائے