سب بھوکے ننگے سُن لیں۔۔

(Engr.Mazhar Khan, )

مجھے پیٹس میں پرندے اور بلیاں پالنے کا بہت شوق ہے لیکن عملی طور پر ابھی زیرو ہوں ۔جس کی بنیادی وجہ گھر سے دُوری اور ہوسٹل لائف ہے ۔ابھی کچھ دن سے گھر ہوں تو پالتو تو نہیں لیکن صبح کے وقت عام پرندوں کا دانہ پانی ڈال کر راحت محسوس کرتا ہوں۔حسب ِ معمول صبح پرندوں کو دانہ ڈالنے کے بعد دسمبر کی خوشگواردھوپ بھی انجوائے کر رہا تھا اور ساتھ چڑیوں ،کوؤں کو دانہ کھاتے بھی دیکھ رہا تھا۔کوّئے چونکہ زیادہ چالاک ہوتے ہیں اِس لیے وہ جھٹ سے آئے اور روٹی کے ٹکڑے کھانے لگ گئے ۔ چار پانچ کوئے بڑے مزے سے کھا پی رہے تھے کہ پھر تھوڑی دیر بعد ایک دوسرا کوّا کہیں سے وارد ہوا ۔اُس نے دانے والے برتن پہ اپنا قبضہ جما لیا اور باقی پانچوں کو قریب سے بھی بھٹکنے نہ دیا ۔میرا خیال ہے وہ اُن کا سردار یا کوئی جاگیردار تھا جو کالی کلغی اور موٹا سا منہ پھلائے سب کو عجیب سی نظروں سے گھور رہا تھا ۔خیر اُس نے تھوڑا بہت کھایا کھانے کے بعد بارعب انداز میں وہیں بیٹھا رہا اور باقی کوئے للچائی نظروں سے دیکھتے رہے ۔حیرت کی بات ہے کسی کوئے نے بھی کوئی مذہمت نہیں کی اگر وہ پانچ اکٹھے ہو جاتے تو ایک کی کیا مجال تھی ۔لیکن وہ ایسے بیٹھے تھے جیسے کوئی جدی پشتی ہاری یا غلام کسی جاگیردار کے سامنے گردن جھکائے دست بستہ ہو۔

ابھی کوؤں کا وڈا سائیں اپنی اُسی اکڑ و غرور کے نشے میں مست بیٹھا تھا کہ قریبی درخت سے ایک گلہری اُتری اُس نے وڈے سائیں سمیت سب کوؤں کی گدڑ کُٹ لگائی اور بھگانے کے بعد روٹی کے سارے ٹکڑے چٹ کر گئی ۔جبکہ چوہدری صاحب اور باقی بھوکے ننگے کوّے ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے۔قریب کھڑا مَیں یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اور ساتھ سوچ بھی رہا تھا کہ قدرت نے تو میرے وسیلے سے سب کو رزق عطا کیا لیکن ایک چوہدری ،وڈیرے ،جاگیردار اور تاگڑے نے سب کے منہ سے نوالا چھین کر اپنا قبضہ جما لیا۔باقی کوؤے جو بھوکے تھے اُن کے نصیب میں بھوک نہیں تھی صرف وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے اُن کے منہ سے نوالا چھینا اور اُس ناانصافی میں وہ غاصب کے ساتھ برابر کے شریک تھے ۔

آج دنیا میں اگر انسانیت بھوکی مر رہی ہے تو اُس کی اصل وجہ اُن کے حصے کے وسائل پر قابض جگے اور جاگیردار ہیں ۔خدا نے تھر (سندھ)میں غذائی قلت سے مرنے والوں کے حصے میں بھوک نہیں لکھی اصل میں زرداریوں،بھٹووں،شریعفوں،گیلانیوں،سرداروں اور جاگیرداروں نے اُن غریب لاچاروں کے حصے کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے ۔اِس سے قبضہ مافیا کا نہ صرف پیٹ بھرتا ہے بلکہ اُن کی جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی کو بھی تقویت ملتی ہے ۔اُن کو غریب و لاچار لوگوں کااپنے سامنے ہاتھ باندھ کر گڑگڑانااچھا لگتا ہے ۔اُن کو خدا بننے میں مزا آتا ہے ۔بھوک سے بلکتے ہوئے لوگوں کو نوالا پھینک کر غلام بنانا اُن کا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔اُن کو کسی جھونپڑی میں پڑے لا ل کی نہیں سرائے محل اور رائے ونڈ محل میں رکھے کتے کی فکر ہے ۔اُن کو تمہارے ملک سے نہیں اپنی سرداری اور جاگیرداری کی فکر ہے ۔تم دیکھتے نہیں یہ اپنی سیاست کے لیے اپنی ریاست اپنی ماں پر بھی الزام لگانے سے باز نہیں آتے ۔جناح ہسپتال کے فرشوں پر مرنے والو،رائے ونڈ ہسپتال اور پیرس کے سڑکوں کوچوں پہ بچے پیدا کرنے والی ماؤں سُن لو تمہارے حصے کے وسائل پر ڈاکہ ڈال کر لند ن کے مہنگے ہسپتالوں میں یہ مکروہ لوگ اپنے معمولی چیک اپ کرواتے ہیں۔کوڑے کے ڈھیر سے رزق تلاش کرنے والو،گردے بیچ کے بچوں کا پیٹ پالنے والو! سُن لو یہ جاگیردار وڈیرے سیاستدان تمہارے حصے کے رزق پر ڈاکہ زنی کر کے دنیا کے مہنگے ترین ریسٹورنٹ میں پیٹ کا جہنم بھرتے ہیں ۔تعفن زدہ کچی بستیوں اور جھونپڑیوں میں رہنے والو،فٹ پاتھ پر سونے والو! سُن لو یہ تمہارے حصے کے وسائل پر قبضہ کر کے رائے ونڈ محل ،لندن فلیٹس اور سرائے محل میں عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں۔پیدل مسواک بیچنے والو،پیدل جنتریاں کتابیں بیچنے والو،سکول کے سامنے ٹافیوں کا پیکٹ بیچنے والوسُن لو یہی ہیں وہ لوگ جو تمہارے حصے کے وسائل چوری کر کے پاکستان ،انڈیا ،دوبئی ،سودی عرب ،لندن ،امریکہ اور پانامہ میں اربوں کھربوں ڈالر کے کالے دھن سے کاروبار کرتے ہیں اور فیکٹریاں لگاتے ہیں۔قبرستان اورکچی جھونپڑیوں میں پڑھنے والو،لوگوں کی خیرات پہ پڑھنے والو! سُن لو یہی ہیں وہ سیاستدان اور جاگیردار جو تمہارے حصے کے وسائل لوٹ کر یورپ کے مہنگے ترین سکولوں اور کالجز میں پڑھتے ہیں۔دو دو سو کے لیے اپنی عصمت بیچنے والی ماؤں بہنوں تم بھی سُن لو یہی ہیں وہ غلیظ لوگ جن کی بدولت ایک عزت دار عورت اپنی عزت اورروٹی کے نوالے کا تبادلہ کرتی ہے ۔اپنی قسمت کو کوسنے والو! سُن لو یہی ہیں تمہارے حصے کے وسائل کولوٹنے والے یہی ہیں وہ قبضہ مافیہ جن کے تم نعرے لگا لگا کے تھکتے نہیں جن کی گوہیاں دیتے دیتے تمہاری سانس پھول جاتی ہے ۔ یہی ہیں تمہارے خوابوں کے قاتل جن کے لیے تمہیں بے ہوشی کے دورے پڑتے ہیں،یہی ہیں تمہاری جہالت کے اصل اسباب جن کی وجہ سے تم عشق کو عقش بولتے ہو۔ یہی ہیں تمہارے وسائل کے لوٹیرے۔ ۔

غریب و نادار لوگوں کے نوالے پہ ڈاکہ زنی کرنے والو! تم بھی سُن لو معاشرے کفر پہ تو چل سکتے ہیں لیکن ظلم و ناانصافی سے نہیں۔اﷲ رب ا لعزت کی لاٹھی بے آواز ہے۔ماضی قریب میں تمہاری طرح مغل بادشاہ بھی غریب عوام کے وسائل کو لوٹ کر سینکڑوں لونڈیوں سمیت تاج محلوں میں عیاشیاں کرتے رہے ۔وہ بھی تمہاری طرح خدا بننے میں مصروف تھے پھر قدرت نے اُن کا وہ حشر کیا کہ دنیا نے دیکھا۔محلات اور ہزاروں نوکروں چاکروں کے حصار میں رہنے والوں نے رنگون (برما)کے ایک گھر کے سٹور روم میں ہی قید و بند کی زندگی گزار نا پڑی اور برصغیر کے شہنشاہ عالم پناہ کو دفن کے لیے دو گز زمین بھی نصیب نہ ہوئی ۔دولت و طاقت کے نشے میں دُھت رہنے والو!اگر اُن سے عبرت حاصل نہیں کی تو جاؤ انڈیا جا کر دیکھو مغل بادشاہوں کی اولادو ں کو جو آج کسمپرسی کی المناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اگر پھر بھی کچھ نہ سیکھا تو پھر گلہری کی طرح (اﷲ کے عذاب کی صورت میں )کسی ایسٹ انڈیا کمپنی، سپریم کورٹ یا نیب کی تلوار تمہاری گردن پہ پھرنے والی ہے ۔بس وقت کا انتظار کرو کل وہی تمہیں تختہ دارپر لے جانے میں پیش پیش ہوں گے جو آج تمہارے سامنے روٹی کے نوالے کے لیے جی سائیں ،جی سائیں اور میاں صاحب میاں صاحب کی گردان پڑھ رہے ہیں ۔

کسی سیانے نے کیا خوب کہا ہے :
"غربت اور بھوک و افلاس قدرتی نہیں جاگیردار وں،مکاروں لوٹیروں کی دوسروں کے رزق پر ڈاکہ زنی کی بدولت ہے"

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 223 Print Article Print
About the Author: Engr.Mazhar Khan

Read More Articles by Engr.Mazhar Khan: 10 Articles with 2525 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: