قسمت کا لکھا

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: رانیا میر، سیالکوٹ
نازش بہت بہادر لڑکی ہے۔ نازش کی شادی والدین اس سے 27 سال بڑے 46 سالہ نور علی سے صرف اس لیے کردیتے ہیں کہ وہ نیک دیندار اور امام مسجد ہے۔ نازش والدین کی اطاعت میں اس فیصلے کو نہ چاہتے ہوئے بھی وقتی طور پر قبول کرلیتی ہے اور نور علی کی ڈولی میں بیٹھ کر اس کے گھرکی زینت بن جاتی ہے۔نور علی کمرہ عروسی میں داخل ہوا تو نازش اْداس بیٹھی تھی۔ اس نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا، آپ اس شادی پرناخوش تو نہیں، کہیں آپ کے والدین نے آپ کی مرضی کے بغیر تو نکاح نہیں کردیا۔ نازش کی خاموشی پر نورعلی کی پریشانی بڑھ گئی اور کہنے لگا، ’’پریشان نہ ہوں، اگر آپ کی مرضی شامل نہیں توفیصلہ تبدیل ہوسکتا ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی نازش نے خاموشی توڑی اور سر جھکا کر کہا کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں، یہ میرے والدین کا فیصلہ ہے اور وہ کبھی میرے بارے میں غلط نہیں سوچ سکتے۔ آپ میرے مجازی خدا ہو، مجھے آپ کی رفاقت پر کوئی اعتراض نہیں۔ نازش کا جواب سنتے ہی نور علی مطمئن ہوگیا ۔
نور علی شکل و صورت کے اعتبار سے سطحی سا تھا اور اس کی عمر نازش سے27 سال زیادہ تھی۔ اس لیے وہ کسی نہ کسی انداز میں اس عدم توازن کا ذکر کر ہی دیتا تھا۔ نازش اسے تو مطمئن کردیتی لیکن اندر سے وہ اس بندھن کو قبول کرنے پر تیار نہ تھی۔ وہ بغاوت کی تدبیریں سوچتی رہتی تھی اس کی ماں بھی اب نازش پر طنز کرنے لگیں تھیں۔ روز کہتیں کہ نازش گھر کے کاموں میں بھی دلچسپی لیا کرو، ہروقت سوچوں میں گم صم رہتی ہو، اس کو اپنا گھر سمجھو۔ نازش سن کر نظر انداز کردیتی۔ نور علی جب عشاء کے وقت گھر آتا تو نازش جان چھڑانے کے لیے کہتی آپ ذرا امی سے مل لیں میں برتن دھو کر آتی ہوں۔

ایک دن کاموں سے فارغ ہوکرنازش ساس کے کمرے میں گئی تو ساس نور علی سے اولاد نہ ہونے کا شکوہ کرتی دکھائی دی۔ نازش کو پہلی بار احساس ہوا کہ وہ صاحب اولاد نہیں ہے کیونکہ وہ نورعلی سے کسی بہانے جان چھڑانا چاہتی تھی اور اس کے بچوں کی ماں بننے کا تو اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ نازش دینی مزاج کی وجہ سے شوہر کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ساس کے طعنے روز بروز بڑھتے ہی جارہے تھے۔ کبھی کہتیں تم نے میرے بیٹے کو غلام بنا لیا ہے، کبھی کہتیں تم نے اس پر جادو کروایا ہے۔ وہ ہر وقت پریشان رہنے لگی، جب نور علی آتا یہ سر جھکائے رو رہی ہوتی۔ وہ نازش کو تسلی دیتا کہ اولاد جب اﷲ چاہے گا ہو جائے گی، پریشانی کی بات نہیں۔ تم مطمئن رہو۔

رات کو نور علی کمرے میں آیا تو اسے مخاطب کرکے کہا،’’نازش تم تیاری کرو کل کسی اچھے ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں‘‘۔ صبح وہ نازش کو لے کے شہر کے اچھے ہسپتا ل میں گیا۔ ڈاکٹر نے ٹیسٹ کروائے اور کل آنے کو کہا۔ دوسرے دن نورعلی ڈاکٹر کے پاس گیا تو اس نے رپورٹ دکھاتے ہوئے کہا کہ نازش ماں بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ یہ سنتے ہی نورعلی کے اوسان خطا ہوگئے۔ وہ غم زدہ گھر پہنچا، ماں اور بیوی انتظار میں تھے۔ ماں نے آتے ہی پوچھا ڈاکٹر کیا کہتا ہے۔ نور علی سر جھکائے گم صم کھڑا تھا، اس کی آنکھوں سے آنسو کی لڑی بہہ رہی تھی۔ یہ سنتے ہی اس کی ماں نے نازش پر برسنا شروع کردیا، ہائے میرے بچے کی زندگی تباہ کردی ، اس نے۔ نورعلی دونوں کو وہیں چھوڑ کر کمرے میں آگیا۔

نور علی کی محبوب بیوی اولاد کے لیے تڑپ رہی تھی، اس کے اندر کی عورت ادھوری شخصیت پر ٹوٹ پھوٹ رہی تھی اور اس کی ساس روزانہ اسے طنز کے تیر بھی برساتی تھی۔ نورعلی اس صورت حال پر بہت پریشان تھا۔اس کربناک صورت حال میں آخر نازش کی ساس زینب کا دل بھی پسیج گیا۔ اس نے اپنے بیٹے نورعلی اور نازش کو دلاسہ دینا شروع کردیا اور انہیں حوصلہ دینے لگ گئی اور اولاد کی کمی پر صبر کرنے کی تلقین کرنے لگی۔

زینب بی بی بیٹے اور بہو کا دکھ سمجھ رہی تھیں انہوں نے اپنی طعن و تشنیع کا مداوا کرنے کا سوچ لیا۔وہ چپکے سے اپنے بڑے بیٹے ظفر کے گھر گئی اورانہیں نور علی اور نازش کی پریشانی کا سارا حال سنا دیا کہ ڈاکٹر نے ساری رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد نور علی کو بتا دیا ہے کہ نازش کبھی ماں نہیں بن سکتی۔اس نے کہا کہ نازش اس خبر کے بعد ٹوٹ پھوٹ چکی ہے، روز بروز اس کی صحت جواب دے رہی ہے اور نورعلی جو نازش کے بنا زندگی کی بازی ہار جائے گا۔ ایسے میں ہمیں کوئی حل تلاش کرنا چاہیے۔ ظفر اور حمیرا نے بھی اس دل خراش خبر پر آنسو بہائے۔حمیر اکے گھر بھی ولادت چند ماہ میں ہونے والی تھی۔ زینب نے صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے بڑی سادگی اور مامتا بھرے لہجے میں حمیرا سے کہا کہ بیٹا تمہیں اﷲ اولاد کی نعمت سے نواز رہا ہے۔ تو اپنا پہلا بچہ نازش کے نام کردے، اﷲ تیرے گود ہری کرتا ہی رہے گا۔

ظفر اور حمیرا غمگین تو تھے ہی لیکن ماں کی بات پر ششدر رہ گئے اور کچھ نہ کہہ سکے۔ چند دن بعد زینب کو دل کا دورہ پڑا اور ظفر اور حمیرا بھی ہسپتال پہنچ گئے۔ ماں نے وہاں بھی اپنا مطالبہ دہرایا اور کہا کہ،’’ اگر نازش کو اولاد نہ ہوئی تو وہ پاگل ہو جائے گی‘‘۔ ظفر نے حمیر اسے کہا کہ تم ہاں کردو ورنہ میری ماں اسی غم میں جان کی بازی ہار جائے گی۔

حمیرا صورت حال سے اتنی متاثر ہوئی کہ اس نے ہاں کردی۔زینب کی زندگی نے ساتھ نہ دیا لیکن وہ یہ راز
دل میں لیے ہی جان کی بازی ہار گئی۔رفتہ رفتہ ظفر اور حمیرا کا ارادہ کبھی ہاں اور کبھی نہ میں بدلتا رہا۔حمیرا عجیب کیفیت سے گزر رہی تھی۔ ایک طرف مامتا کا جذبہ تھا اور دوسری طرف مرحومہ ساس سے کیا ہوا وعدہ تھا۔ ظفر پہلے ہی فیصلے کا حق حمیرا کو دے چکا تھا۔ حمیرا عجب بے سکونی کا شکار تھی۔ایک دن حمیرا نے نماز کے بعد زار و قطار روتے ہوئے دعا کی کہ یارب العالمین میرے دل کو سکون عطا فرما۔

اسی دوران حمیرا کے دل سے آواز آئی کہ بیٹا ہو یا بیٹی وہ نازش کی گود میں رکھے گی۔ یہ خیال آتے ہی حمیراکا دل مطمئن ہوگیا۔ وہ مصلے سے اٹھی اور ظفر کے پاس جا کر پیار سے کہنے لگی کہ میں نے فیصلہ کرلیا۔ ظفر چونک سا گیا اور حیرت بھری نگاہوں سے حمیرا کی طرف دیکھنے لگا،میں نے بہت سوچا ہے لیکن اماں جان کی بات سے انکار ممکن نہیں، اسی میں ہماری بہتری اور اﷲ کی رضا ہے۔ یہ سنتے ہی ظفر کی آنکھوں سے آنسو کی لڑی لگ گئی اور اور بہت دیر تک حمیرا کے کندھوں پر سر رکھ کر روتا رہا اور حمیرا کو دلاسہ دیتا رہا ، تو نے میری ماں کی لاج رکھ لی۔تب سے ظفر کے دل میں حمیرا کی قدر ومنزل بہت بڑھ گئی۔

چند ہی دنوں بعد اﷲ تعالیٰ نے حمیراکو دو خوبصورت بیٹیوں سے نوازا ۔ ظفر جیسے بے خود سا ہوگیا، خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا۔ جب نورعلی اور نازش نے اسے مبارک دی تو حمیرا نے نازش سے کہا کہ ایک بیٹی آپ کی ایک میری۔ یہ سنتے ہی نورعلی اور نازش آبدیدہ ہوگئے۔ انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کن الفاظ میں حمیرا اور ظفر کا شکریہ ادا کریں۔ حمیرا نے بہت محبت سے کہا کہ میرا ماں جی سے وعدہ تھا کہ پہلی اولاد آپ کی گود میں رکھوں گی، اﷲ نے اپنی رحمت سے ایک کی بجائے دو بیٹیوں کا تحفہ پیش کیا ہے۔ آپ پہلے قبول فرمائیں۔

نازش نے اﷲ کے تحفے کو گلے لگایا اور خوشی خوشی بھابی اور بھائی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے گھر چلی آئی۔ اس کی زندگی کے سارے تصورات تبدیل ہوچکے تھے۔ زینب بی بی کی آخری خواہش، ظفر اور حمیرا کا ایفائے عہد، نور علی کی بے پنا ہ محبت اور اپنے اندر کے چْور سمیت سب ہی کچھ اس کے لیے نیا، نیا تھا۔ اس نے زینب بی بی کی ساری طعن و طنز کو دل کے ہر کونے اور کوچے سے کھرچ کھرچ کر اتار دیا اور نورعلی کے ساتھ دکھاوے اور دینداری کے تعلق کو محبت میں بدلنے کا عزم کر لیا۔ جیسے زندگی ایک خواب سی لگ رہی تھی اور نورعلی اس کی دل کی دھڑکن بن چکا تھا۔ دن بھر بیٹی سے کھیلتی رہتی اور آنکھوں میں نورعلی کے آنے کا منظر سمائے رکھتی۔

نازش نور علی کے لیے کھانا بنا کر نماز ادا کر رہی تھی جب نور علی مسجد سے گھر آیا اورحیا کو گود میں لیے وہیں آکر بیٹھ گیا۔ آپ کب آئے نماز سے؟نازش نے پوچھا۔’’میں تو کافی دیر سے آپ کی فراغت کا منتظر ہوں‘‘۔ نازش کو ایک دم نور علی پر بے تحاشہ پیار آیا اور اپنی قسمت پر رشک۔نازش نے نورعلی کا ہاتھ تھام لیا اور کہنے لگی تاجدار مجھے معاف کردیں۔ میں آپ سے بہت زیادتی کرتی رہی ہوں۔میں اس شادی پر کبھی خوش نہ تھی، آپ سے الگ ہونا چاہتی تھی۔ آج احساس ہورہا ہے کہ میں غلطی پر تھی، مجھے آپ کا ساتھ پا کر اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے تھااور آپ کے ساتھ کو قسمت کا لکھا سمجھ کر خوش دلی سے قبول کرناچاہیے تھا۔

میں مسلسل ناشکری کا ارتکاب کرتی رہی پھر بھی آپ مجھے اپنائے ہوئے ہیں۔ نور علی نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے چپ کرواتے ہوئے کہا، ’’نہیں نازش تم ایک صابر، شاکر اور بلاشبہ ایک بہترین بیوی ہو مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں۔ نازش نم آنکھوں سے مسکرادی اور نور علی کے کندھے پر سر رکھ کر کہا، میں چاہتی ہوں، ہماری بیٹی حیاپڑھ لکھ کر آنکھوں کی ڈاکٹر بنے۔یار ابھی تو وہ کل پہلے دن اسکول جا رہی ہے، آپ نے ڈاکٹر کے خواب دیکھنے شروع کردیے ہیں۔ نور علی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ نازش نے اثبات میں سر ہلا کر اس کے کاندھے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔ یوں انہوں نے سابقہ گلے شکوے بھلااور قسمت کے لکھے کو اپنا کر کرزندگی ایک دوسرے کے سنگ گزارنے کا عہد کیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1226 Articles with 497596 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jan, 2019 Views: 517

Comments

آپ کی رائے